ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں14.11.17

ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں14.11.17

ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں14.11.17

*** روزنامہ خبر ترک " سیاسی حل میمورینڈم" کی سرخی کے ساتھ شائع کردہ خبر میں لکھتا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے روس کے شہر سوچی میں  صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ ملاقات کی۔ مذاکرات میں دونوں رہنماوں نے شام کے موضوع پر بات چیت کی اور مسئلے کے حل کے لئے پیغامات جاری کئے۔ مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ہم نے مسئلہ شام  سے متعلق حالیہ صورتحال  کا جائزہ لیا اور موجودہ حالات میں سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے ایک پلیٹ فورم  تشکیل پانے  کے پہلو پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ صدر پوٹن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں شام میں سیاسی حل کے ساتھ تعاون میں اضافے کے پہلو پر صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔

 

*** روزنامہ اسٹار "وزیر اعظم بن علی یلدرم کی ایران کے نائب صدر اوّل جہانگیری کے ساتھ ملاقات  " کی سرخی کے ساتھ لکھتا ہے کہ وزیر اعظم بن  علی یلدرم نے ایران کے نائب صدر اوّل کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی ۔ ملاقات میں وزیر اعظم یلدرم نے ایران۔عراق سرحد کے قریبی علاقے میں زلزلے  کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ایرانی شہریوں کے لئے تعزیت کا اظہار کیا۔ وزارت اعظمیٰ ذرائع سے موصول معلومات کے مطابق وزیر اعظم نے کہا  ہےکہ ان مشکل لمحات میں ہم ایران کے ساتھ ہیں  اور ضرورت پڑنے پر ترکی زلزلہ زدگان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے تیار ہے۔ جہانگیری نے ٹیلی فون کرنے پر وزیر اعظم یلدرم کا شکریہ ادا کیا اور ضرورت پڑنے کی صورت میں مطلع  کرنے کا ذکر کیا ہے۔

 

*** روزنامہ حریت " سال 2050 کی عالمی طاقتوں کا تعین ہو گیا، ترکی نے بڑے بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا" کی سرخی کے ساتھ شائع  کردہ خبر میں لکھتا ہے کہ ٹیکسوں کی جانچ پڑتال کرنے والی فرم پرائس واٹر ہاوس کُوپرز PWC  نے سال 2050  میں دنیا کی طاقتور ترین اقتصادی طاقتوں کے بارے میں اپنے اندازے شائع کر دئیے ہیں۔ اندازے کے مطابق   ترکی اپنی قوت خرید  پیریٹی  کے حوالے سے سال 2050 میں  پہلے 10 طاقتور ممالک  میں شامل ہو گا۔ ترکی اپنی کارکردگی سے متعدد یورپی ممالک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ اندازے کے مطابق سال 2017 میں دنیا پر حکمران  مغربی ممالک  کی اقتصادی بڑھوتی  کی رفتار میں اور پیداواریت میں کمی آنے کی وجہ سے سال 2050 میں ان کی حالت واضح طور پر کمزور ہو جائے گی۔

 

*** روزنامہ صباح " بارکلیز  نے ترکی سے متعلق  اپنے بڑھوتی کے اندازوں  کو بڑھا دیا" کی سرخی کے ساتھ شائع کردہ خبر میں لکھتا ہے کہ بارکلیز مالیاتی گروپ یورپ، ایشیاء ، افریقہ اور متحدہ عرب امارات  سمیت 60 کے قریب ممالک میں 300 سال سے خدمات ادا کر رہا ہے  اس کے علاوہ برطانیہ پریمئیر لیگ کی اسپانسر شپ بھی کر رہا ہے۔ ادارے نے سال 2017 سے 2018 میں ترکی سے متعلق بڑھوتی کے اندازوں کو بلند کر دیا ہے۔ بارکلیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے قرضہ جات میں تعاون، مالی حوصلہ افزائیوں  اور بلند سطح پر برآمدات کے نتیجے میں ترکی   ترقی کے ایک مضبوط  رجحان کی طرف مائل ہو گیا ہے۔ ان چیزوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مالیاتی گروپ نے ترکی کے سال 2017 میں گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ  میں اضافے کے اندازے کو 5.2 فیصد سے بڑھا کر 5.9 فیصد کر دیا ہے ۔ ادارے نے سال 2018 کے لئے بڑھوتی کے اندازے کو بھی 3.8  فیصد سے بڑھا کر 4.1 فیصد کر دیا ہے۔

 

*** روزنامہ وطن " ہمارے رہنما کی میراث" کی سرخی کے ساتھ لکھتا ہے کہ 13 نومبر 1918 کو باسفورس پر قبضہ کرنے والے اتحادی قوتوں کے بحری جہازوں کو دیکھ  کر غازی مصطفیٰ کمال اتاترک نے کہا تھا کہ "یہ جیسے آئے ہیں ویسے ہی  واپس لوٹ جائیں گے"۔ جنگ نجات کا اشارہ ثابت ہونے والے یہ الفاظ مصطفیٰ کمال نے  کارتال 2 نامی اسٹیم بوٹ میں ادا کئے  تھے اور اب اس اسٹیم بوٹ کو اسے عجائب گھر میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ایک سال تک اسٹیم بوٹ کی تعمیر و مرمت کا کام جاری رہے گا اور عجائب گھر کا افتتاح مصطفیٰ کمال کے مذکورہ الفاظ کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جائے گا۔



متعللقہ خبریں