عالمی نقطہ نظر 31

مغرب سے تعلقات کے 3 مختلف نظریات

عالمی نقطہ نظر 31

عالمی نقطہ نظر 31

دو عصروں  پر اگر نظر ڈالی جائے تو   معلوم ہوتاہے  کہ  دور عثمانی کے آخری ایام کے دوران   ،جمہوری دور  اور روشن خیالوں     کے  موضوعات  میں یہ بحث ہمیشہ  شامل رہی کہ  مغرب سے  تعلقات   کس رخ اختیار کیے جائیں۔ یورپی یونین  ،مغربی تہذیب  اور مختلف عالمی  مسائل پر  اختلافات  اس مباحثے کو طول دینے کا بھی سبب رہا ہے ۔

 دور عثمانی  کے آخری ایام  میں   مفکرین نے  مغرب  کے خلاف اس کی تہذیب و تمدن   سے متعلق  3 مختلف  نظریات تخلیق کیے ۔ اس سلسلے میں  جریدہ "اجتہاد" کے   مالک اور مصنف عبداللہ جودت  کا  نظریہ قابل غور تھا  جس کے مطابق ، مغربی تہذیب   دنیا کی واحد اور معروف معاشرہ ہے   جسے  قبول کرنا  تمام دنیا   کا فرض ہے بصورت دیگر  اس سے انکار  دنیا کی مخالفت مول لینا ہوگا۔

 دوسرا نظریہ  مغرب کی مکمل  مخالفت   کرنا تھا   کیونکہ وہ  اس دنیا میں تمام برائیوں کی جڑ تصور  کیا جاتا تھا ۔

 تیسرا  نظریہ  مغرب  کا احترام  اور اس  کے  سائے تلے اپنی خود اعتمادی  میں اضافہ  کرنے  کا نام تھا  جس میں  اس کی سامراجی  طاقت   کو تسلیم کرنا بھی شامل تھا ۔ اس نظریئے کے تحت  مغرب کی برائیوں  پر چشم پوشی کرنے اور  اپنی غلطیوں   سے انکار کرنا بھی  موجود تھا ۔اس بات کا پہلی دلیل  جنگ عظیم اول    کے دوران   عثمانی صدر اعظم سعید حلیم  پاشا   کا موقف موجود ہے جس کے مطابق   تمام  مثبت و منفی حالات کے باوجود  مغرب   کی حمایت  اور اس  کے شانہ بشانہ  چلنے میں ہی دنیا کی عافیت  اور خیریت  پوشیدہ ہے ۔حلیم پاشا نے اس سلسلے میں تعصب نامی ایک مقالہ بھی لکھا تھا جس کا مقصد  دونوں معاشروں میں کینہ پروری اور دشمنی  کے بجائے  برابری   کو ترجیح دیتےہوئے تعلقات    کو فروغ دینا تھا ۔

 اس بحث کا تعلق  کوئی نیا نہیں  بلکہ آج بھی یہ جاری ہے  حتی اس میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے ۔ عالمگیری  تبدیلیوں  کے باعث     آج کی دنیا ایک  دوسرے میں  معاشرتی  و   تہذیبی لحاظ سے ضم  ہوتی نظر آتی ہے  ۔

 دور جدید میں کروڑوں مسلمان  مغرب میں آباد ہیں  جن  کی  صورت حال پر نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتاہے کہ  وہاں بسے مسلمان اور ان کو درپیش مسائل کا پس منظر کیا ہے۔ اس وقت  مغرب میں بسے  تارکین وطن اور مسلمانوں کے درمیان  وہی  نظریات پرورش پا رہے ہیں جو کہ دور عثمانی کے آخری ایام میں  موجود تھے  یعنی  غا لبیت اور  انحراف  دونوں عناصر  نمایاں ہیں۔

 مغرب  سے انکار     کو اگر  پرکھا جائے تو یہ ان عناصر کا نظریہ ہے جو کہ  اپنے تشخص  اور ثقافتی  پس منظر    کی وجہ سے یورپی  تہذیب کا حصہ نہ بن سکے دوسری جانب   آسٹریلیا ،کینیڈا اور امریکہ جسے ممالک ہیں جہاں بسے تارکین وطن  معاشرے سے ہم آہنگ  ہو گئے مگر یورپ میں یہ صورت حال قدرے مختلف ہے  کیونکہ   وہاں کی پالیسیاں  سخت گیر اور تارکین وطن کے خلاف زیادہ    نسل پرستانہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں داعش جیسی دہشتگرد تنظیمیں   افغانستان ، عراق اور لیبیا جیسے ممالک کے بجائے  مغرب میں اپنا ڈیرہ جما لیتی ہیں۔    ہر  مسئلے پر اپنی من مانی ،  خود غرضی     اور نفسیاتی  شکست   کو بہانہ بنا کر  مغرب میں بسے ایسے نوجوان  اپنی آزادی   کے لیے  دہشتگردی   کا سہارا  لیتے  ہیں۔ یہ دہشت گرد    اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ  ثقافتی  و لسانی لحاظ سے بھی    کافی ذہین ہوتے ہیں  اور یہ وہ نوجان طبقہ ہے جو کہ اگر چاہے تو   اپنی قابلیتوں کے بل بوتے پر  روشن زندگی کی بہترین مثال بن سکتےہیں مگر افسوس ان کا دماغ  شیطانی کام اور جہالت میں انہیں  زیادہ مشغول رکھتا ہے ۔ حتی اس طبقے کو  مغرب کی بعض خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے آشیر باد بھی حاصل ہوتی ہے  تاکہ  جو کہ انہیں مسلم ممالک میں پھلنے پھولنے کا راستہ مہیا کرتے ہیں۔

اس کے بر خلاف   دوسر ے  پہلو میں  مغرب   کی عظمت کو  قبول کرنے والوں کا نام آتا ہے جو کہ   اپنے  معاشرتی و تہذیبی ماضی    کو ترک کرتےہوئے  مغربی   بودو باش اور اس کے معاشرے میں  خود کو ضم کر لیتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہوتےہیں جنہیں  مغربی معاشرے میں  ہتک آمیز  رویے اور مسلسل  تنگ نظری اور  نفرت   کا سامنا کرنا پڑتا ہے  لہذا یہ طبقہ     مووجود معاشرے کی   تمام روایات   پر سر تسلیم خم کرتےہوئے  اُن کے رنگ میں ڈھل جاتا ہے ۔ اس  کے ساتھسا تھ تیسرا طبقہ وہ ہے جو کہ مغرب میں رہتےہوئے اپنے باغیانہ نظریات کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے اور مغرب کی ناپسندیدہ پالیسیوں سے انحراف کو اپنا فرض سمجھتا ہے کیونکہ ان کا یہ ماننا  ہوتا ہے کہ  ایسا کرنے سے وہ یورپ ی ایوانوں کو   ہر من مانی کرنے سے روکنے میں  مدد گار بنیں گر مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اُن کی یہ روش  ان کے آبائی ملک اور مغرب کے درمیان خلیج پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں    انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی  کے  شعبہ سیاسی علوم کے  پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 



متعللقہ خبریں