ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں

27.07.18

ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں

روزنامہ صباح "یہ تعاون بعض  لوگوں کے لیے حسد کا باعث ہے" کے زیر عنوان لکھتا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان نے جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم کے بعد روسی صدر ولادیمر پوتن سے بھی ملاقات کی۔ جناب ایردوان نے اس ملاقات سے قبل اپنے اعلان میں کہا ہے کہ "روس اور ترکی کے مابین ہر طرح کا تعاون بعض  فریقین کو  کافی زیادہ بے چین کر رہا ہے۔"

روزنامہ صباح نے  "ترکی سے امریکہ کو برنسن  جواب "  عنوان کے تحت اپنی ایک دوسری خبر میں  لکھا ہے کہ وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیتو کے مجرم پاپ اینڈریو برنسن  کے بارے  میں اعلانات  کے جواب میں  اپنے پیغام میں کہا ہے کہ "کوئی بھی شخص ترکی   کے مؤقف پر اپنی اجارہ داری قائم  نہیں کر سکتا، قوانین  کے اصول  ہر کس پر لاگو ہوتے ہیں۔"

روزنامہ  سٹار "ترکی  روزگار فراہم کرنے کی پالیسیوں میں ایک نئے ماڈل کو اپنا رہا ہے"  جلی سرخی لگاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ترکی نئے حکومتی نظام  پر عمل  درآمد کے ساتھ ساتھ ایک نئے دور کا بھی آغاز کر رہا ہے۔  اس نظام کی بدولت  ترکی ایک  مرحلہ بلند لیگ  تک  پہنچانے والے   انسانی وسائل، افرادی قوت منڈ ی  اور روزگار  پالیسیوں   کے ماڈل کو اپنا  رہا ہے۔

روزنامہ وطن"البائراک کی جانب سے قرضے  کا  مژدہ" عنوان کے تحت اپنی خبر میں لکھتا ہے کہ وزیر خزانہ بیرات البائراک  نے اطلاع دی ہے کہ چینی فنانس اداروں سے توانائی و مواصلات  شعبے میں سرمایہ کاری کی خاطر نجی شعبے  اور بینکوں  کے لیے 3٫6 ارب ڈالر  کے قرضے کے پیکیج  کے حصول پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔

روزنامہ وطن "صنعت سازی میں ڈیجیٹل  ری سائیکلنگ پلیٹ فارم  کا قیام" کے زیر عنوان لکھتا ہے کہ وزیر صنعت و ٹیکنالوجی  کےامور مصطفی ٰ وارانک  کا کہنا  ہے کہ سرمایہ کاری و پیداواری ماحول  میں مزید بہتری لانے کا موقع فراہم کرنے والی تعمیری اصلاحات  کوسرعت سے عملی جامہ  پہنائے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ، رواں سال کے دوران ڈیجیٹل  ری سائیکلنگ پلیٹ فارم   کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔



متعللقہ خبریں