قدم بہ قدم پاکستان - 19

آئیے! آج آپ کو یونس ایمرے ترک مرکز ثقافت لاہور لیے چلتے ہیں

قدم بہ قدم  پاکستان - 19

قدم بہ قدم پاکستان - 19

السلام علیکم!آئیے! آج آپ کو یونس ایمرے ترک مرکز ثقافت لاہور لیے چلتے ہیں۔

پاکستان اور ترکی کے تعلقات مثالی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک خلافت کے لئے جس ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا۔ ترک قوم اس کو آج تک نہیں بھولی۔ دکھ اور خوشی کے ہر موقع پر دونوں ملکوں کی حکومتیں اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں یا ترکی میں زلزلے سے جانی و مالی نقصان‘ دونوں ملکوں کے عوام نے اخوت و بھائی چارے کی عظیم مثالیں قائم کی ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قراردیتے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف پاک ترک دوستی کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ پنجاب میں چلتی ہوئی سرخ رنگ کی میٹرو بسیں پاک ترک دوستی کی علامت ہیں۔

مختلف ممالک کے درمیان دوستی‘ تجارت اور ثقافتی تعلقات میں اضافے کے لئے سفارت خانے‘ قونصل خانے اور ثقافتی مرکز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں ترکی کا سفارت اس حوالے سے فعال کردار ادا کر رہا ہے لیکن لاہور جیسے ثقافتی اور تاریخی شہر میں ترکی کے ثقافتی مرکز کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی‘ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ لہٰذا ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی خصوصی ہدایت پر لاہور میں یونس ایمرے نے ترک کلچرل سنٹر گزشتہ برس کے آخر میں قائم کیا گیا ہے۔ اس کے لئے جگہ کا انتخاب مولانا روم اور علامہ اقبالؒ کے روحانی تعلق کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے علامہ اقبال ؒکے نام پر قائم خوبصورت اور پرشکوہ عمارت ایوان اقبال میں کیا گیا ہے۔

ایوان اقبال کی خوبصورت عمارت میں نمل یونیورسٹی والے دروازے سے داخل ہوں تو دائیں طرف یونس ایمرے ترک ثقافتی مرکز کا دروازہ ہے۔ اندر داخل ہوں تو ترک ثقافت کا بھرپور عکس دکھائی دیتا ہے۔ اس ثقافتی مرکز کے سربراہ کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا ہے جو ترکی زبان اور اردو زبانوں پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔ اردو زبان میں ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل وہ استنبول یونیورسٹی میں سربراہ شعبہ اردو کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کا نام ہے ڈاکٹر خلیل طوقار‘ پاکستان میں جن کا وسیع حلقہ احباب موجود ہے اور جنہیں پہلے ہی پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستی کا پل قرار دیا جاتا ہے۔

ترک مرکز ثقافت کے اندر داخل ہوں تو خوبصورتی اور نفاست کا احساس ہوتا ہے۔ بائیں طرف ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خلیل طوقار کا دفتر ہے جہاں پاکستان اور ترکی کے پرچم دونوں ملکوں کی دوستی کے مظہر ہیں۔ ترکی کی خاص مٹھائی اور قہوے سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ کمیٹی روم ہے جہاں میٹنگز ہوتی ہیں۔ اس سے آگے مرکز کے سیکرٹری جنرل اور معروف براڈ کاسٹر شکیل گیلانی کا دفتر ہے۔ دائیں طرف ایک کشادہ کلاس روم ہے جہاں ترکی زبان کی کلاسز ہوتی ہیں۔ ترکی زبان کی تدریس سے پاکستانی ترکی زبان سے ہی نہیں ترکی کی تاریخ اور ثقافتی سے بھی آشنا ہوں گے اور دونوں ممالک کے عوام مزید قریب تر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ایک لائبریری ہے۔ جس میں ترکی کی تاریخ‘ سیاست‘ ثقافت اور زبان کے حوالے سے مختلف کتابیں موجود ہیں۔ اس سے آگے مہمان خانہ ہے۔ مرکز کا متعدد اور خوش اخلاق سٹاف آنے والے مہمانوں کی خدمت اور رہنمائی کے لئے موجود رہتا ہے۔

ڈاکٹر خلیل طوقار ترک مرکز ثقافت کے سربراہ کے طور پر لاہور تشریف لائے تو ان کی خوب پذیرائی ہوئی کیونکہ وہ پہلے سے ہی یہاں مقبول تھے اور گزشتہ سال ہی حکومت پاکستان نے انہیں پاک ترک دوستی اور ترکی میں اردو زبان کے فروغ میں نمایاں خدمات پر اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا تھا۔ اخبارات و رسائل میں ان کے انٹرویوز شائع ہو رہے ہیں جن کے ذریعے پاکستانی عوام برادر اسلامی ملک ترکی کے بارے میں زیادہ واقفیت حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خلیل طوقار نے چند ماہ میں ہی ترک مرکز ثقافت کے زیراہتمام مقامی اور قومی سطح کے کئی پروگرام منعقد کروائے ہیں۔ لاہور‘ اسلام آباد اور کراچی میں تصویری نمائشیں منعقد کی ہیں۔ صدر پاکستان ممنون حسین کے علاوہ کئی اہم شخصیات نے ان نمائشوں کو دیکھا اور سراہا۔

اورنٹیل کالج پنجاب یونیورسٹی کے اشتراک سے محمد اقبال اور محمد عاکف کی مشترک جہتوں کے حوالے سے عالمی کانفرنس منعقد کی جس میں پاکستان اور ترکی کے سکالرز کے مقالے پیش کئے۔ محمد اقبال اور محمد عاکف دو عہد ساز شاعر کے عنوان سے کتاب شائع کی گئی۔ کئی تقریبات اور سیمینارز منعقد کئے۔

ملا نصیر الدین کے دلچسپ قصوں کو اردو زبان میں ڈھال کر کتاب شائع کی گئی۔

5 مئی کو لاہور کے ثقافتی مرکز الحمرا ہال میں ترکی میں بچوں کے قومی دن 23 اپریل کے حوالے سے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی بچوں‘ اساتذہ‘ والدین اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب کے انعقاد کے لئے ترک مرکز ثقافت کے ساتھ صوفی تبسم اکیڈمی‘ الحمرا‘ ترکش ائرلائن‘ اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ ”پھول“ نے اشتراک کیا۔ صوفی تبسم اکیڈمی کے نونہال اداکاروں نے ڈاکٹر فوزیہ تبسم اور آغا شاہد کی نگرانی میں ملا نصیر الدین کے قصوں اور ٹوٹ بٹوٹ کی نظموں پر خوبصورت خاکے پیش کئے۔ تقریب میں صدر پاکستان ممنون حسین کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال‘ معروف ادیب‘ کالم نگار اور صدر پاکستان کے مشیر فاروق عادل‘ وائس قونصل جنرل جناب خورائے (KORAY KIZILBULUT) ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران اور ڈاکٹر خلیل طوقار نے پاک ترک دوستی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ترکی کے زلزلہ متاثرین کو اپنی جیب خرچ سے رقم ترکی کے سفیر کو عطیہ کرنے والی بچی شانزہ شعیب کو خصوصی شیلڈ سے نوازا گیا۔ مقابلہ مصوری اور مضمون نویسی میں حصہ لینے والے طلبا و طالبات میں شیلڈز‘ انعامات‘ کتابیں اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ تمام شرکاءکو پھول میگزین بھی پیش کئے گئے۔

یونس ایمرے ترک مرکز ثقافت لاہور کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ سرگرمیاں پاک ترک دوستی کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی۔ لاہور میں اگر آپ کو ترکی کی تاریخ و ثقافت کے بارے میں جاننا ہو یا ترکی زبان سیکھنی ہو تو بلا جھجک ایوان اقبال میں قائم ترک مرکز ثقافت تشریف لے جائیں۔ ڈاکٹر خلیل طوقار سمیت تمام عملہ آپ کو خوش آمدید کہے گا اور آپ کی ہر طرح سے رہنمائی کرے گا۔

آئندہ ہفتے آپ کو کسی اور خوبصورت مقام کی سیر کروائیں گے تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجئے۔ اللہ حافظ۔



متعللقہ خبریں