عالمی نقطہ نظر15

شام کو ایک مکمل آئین کی ضرورت کیوں کر ہے؟

عالمی نقطہ نظر15

عالمی نقطہ نظر 15

Küresel Perspektif /15

SURİYEDE NASIL BİR ANAYASA?

 

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

جنگ بندی  کی ایک وجہ  عدم مفاہمت بھی ہے  جس پر  توجہ دینا  جنگ ختم کروانے میں  مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔

دور جدید میں  ذرائع ابلاغ  میں   کچھ اس طرح کی خبریں زیر گردش ہیں کہ   شام کےلیے روس نے ایک  آئینی مسودہ تیار کرلیا ہے جس پر امریکہ سے بات چیت جاری ہے ۔ یعنی دنیا کی دو بڑی طاقتیں شامی  عوام  اور ہمسایہ ممالک کی منشا کے بغیر    شام کے مستقبل   پر لائحہ عمل تیار کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ کیا ان دونوں طاقتوں    کے ذاتی مفادات سے  اس خطے میں امن قائم ہو سکے گا ؟ اسی سبب کے تناظر میں ہمسایہ ممالک  کے نظریاتی اداروں اور سیاسی مدبرین  کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس صورت حال کے بارے میں سر جوڑ کر بیٹھیں  اور کوئی حل نکالیں ۔

اگر یہ خبر صحیح ہے تو کیا   اس آئین    کے نفاذ  کے نتیجے میں  امن کی بحالی مقامی آبادی کے  تاریخی پس منظر ،ثقافتی روایات اور  تہذیب و تمدن     کو مد نظر  رکھتے ہوئے ممکن ہو سکتی ہے ؟

اس سلسلے میں بعض تجاویز زیر غور لائی جاسکتی ہیں۔

 مشرق وسطی کے ارباب اقتدار  پر اگر نظر ڈالی جائے  تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اہم مسئلہ   عوامی رائے کا عدم احترام  اور ان کی طاقت  حاصل کرنے میں ناکام رہنا ہے۔ ان میں سے اکثریت  اس نشے میں چور ہے کہ وہ   عوامی طاقت اور   ان کی خواہشات کا  خیال رکھے بغیر اقتدار پر قابض  رہیں گے۔  عوامی آواز  کو دبانے کےلیے  یہ صاحب اقتدار شخصیات  اپنی ہی عوام کے خلاف  پولیس اور دیگر حفاظتی قوتوں  سمیت غیر ملکی  اداروں  سے بھی رجوع کرتے ہیں۔  لہذا  یہی وجہ ہے کہ  ان ممالک میں آئین کی تیاری  کے دوران  عوامی خواہشات کا احترام  واجب    ہونا چا ہیئے جس میں  آقا و رعایا کے درمیان  موجود خلیج بھی دور ہو جائے جس کے نتیجے میں  یہ ممالک اندرونی و بیرونی  انتشار سے بھی محفوظ رہیں گے۔

مشرق وسطی    کے ممالک کا یہ بھی المیہ رہا ہے کہ وہاں  اقتدار   جمہوری  تقاضوں سے نہیں بلکہ آمریت اور نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے ۔ اولین طور پر  یہ  کہنا ضروری ہو گا کہ اس صورت حال سے  ارباب اقتدار   کی معاشرتی حیثیت ختم ہو جاتی ہے  اور وہ اپنی عوام کے بجائے غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن جاتا ہے  جن کے اقتدار میں تبدیلی بھی انہی  قوتوں کے اشاروں پر عمل میں آتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال  سے  نمٹنے کےلیے   حکومت اور مخالفین  کو اپنی حساب دہی کےلیے عوامی رائے کا احترام سمیت    ان کی طاقت پر اعتبار  کرنے کےلیے  اپنے دور اقتدار    کے لیے ایک مخصوص مدت  قائم  کرنے کی ضرورت ہوگی  جس میں حکومت کو   دوعرصوں کےلیے محدود کرنے  اور زیادہ تر 10 سال تک اقتدار  پر  رہنے     کی اجازت دی  مل  سکے۔

 کسی بھی ملک کے آئین  میں  اکثریت کے  علاوہ بسی اقلیتیوں کے حقوق کا بھی احترام ملحوظ رکھا جاتاہے   کہ جس  کے بغیر   جمہوری دستور سازی ممکن نہیں   ہے ۔

 شام  کے ٹکڑے کرنا    ملک میں استحکام   کا سبب نہیں بنے گا  جس کی مثال اسپین اور عراق کی صورت میں سامنے ہے ۔  نیم خود مختار ریاستوں میں بٹا شام  مزید آزادیوں  کو سر اٹھانے کی  اجازت دے گا جبکہ دوسری جانب   یہ طرز حکومت  ملک میں بسے  عوام  کے درمیان   عدم اعتماد    کی فضا کو مزید پروان چڑھانے کا بھی وسیلہ بن سکے گا۔ لیکن   پائیدار امن  و استحکام کی بحالی کےلیے  معاشرے  کے درمیان یگانگت  اور  بنیادی حقوق  و آزادی اظہار کی ضمانت حکومت  کی طرف سے ملنے  کی صورت میں اس مسئلے پر قابو پانا  ممکن ہو سکتا ہے ۔

 آئین سازی  ایک جانب   مختلف نظریات پر پارلیمان میں بحث کو ممکن بنانے  کے ساتھ ساتھ  ایک مضبوط اقتدار   کی داغ بیل  ڈالنے میں  بھی ملکی اداروں   کی مدد کر  سکتی ہے۔

شام  میں  صدارتی  یا پارلیمانی نظام      ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر پارلیمانی نظام   منتخب ہوتا ہے  تو اس میں  صدارتی اختیارات  علامتی   ہونے چاہیئے کیونکہ  صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں  اضافہ  سیاسی لحاظ سے عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے جس سے ملکی ادارے کام نہیں کر سکتے  اور ان کا انتظامی ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔

 مشرقی وسطی میں  اہم ترین معاشرتی عنصر مذہب ہے ۔ دین  اور سیاست    کے درمیان ربط میں توازن پیدا کیے بغیر  معاشرے کے مسائل  حل کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ سیکولر مغرب   کے پہلی اور دوسری جنگ عظیم   کے بعد     انسانی مشکلات میں اضافہ،  حتی صدام حسین اور قدافی جیسے سیکولر ذہنیت کے حامل  لیڈروں     اور شریعت اسلامی  کی آڑ  لینے والے  دیگر عرب آمروں  کی مثالیں بھی ہمارے سامنے  عیاں ہیں ۔اس سلسلے میں دولت عثمانیہ    کا سیاسی نظام   ان عرب ممالک کےلیے ایک  مشعل راہ بن سکتا ہے۔ شامی دستور میں جدت پسندی   کا یہ عمل  شامی عوام  کی خواہشات اور وہاں کے معاشرتی ڈھانچے کے خلاف ہو سکتا ہے    جو کہ ممکن ہے کہ مشرق وسطی میں حالات دوبارہ خراب کرنے میں مدد کرے۔ یہ آئین  ایسا ہو کہ اس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابری  کا حق ملے    یعنی سعودی عرب اور ایران کی طرز پر نہ ہو جہاں ایک ہی دین  کو  آئین کا  حصہ بناتےہوئے اس کا احترام  سب پر واجب قرار دے دیا گیا ہے ۔

 مشرق وسطی کا خطہ  مختلف ادیان ،معاشرتی امتیاز  اور نسلوں کا امتزاج ہے  جہاں     کے ممالک دستورسازی میں   معاشرے میں بسے تمام قومیتوں کو برابر کا حق عطا کرے۔

 خیال رہے کہ کوئی بھی جنگ تاابد  نہیں لڑی جا سکتی   ،دوران جنگ  آپ کتنا بھی خود کو مضبوط کرلیں مگر جنگ ختم ہونے کے بعد   اگر انتظامی نظام میں  ذرا سی بھِ غفلت ہوئی تو اس کا خمیازہ بھیانک ہو سکتا ہے  جو کہ سیاسی انتشار کی وجہ بن  سکتا ہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ  جنگ کے بعد کا شام  اور وہاں امن و استحکام کی بحالی کےلیے  ایک ایسا آئین  ترتیب دیا جائے جس میں تمام   فرقوں کو    مساوی حقوق حاصل ہوسکیں۔

یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم  سے پیش کیا گیا ۔



متعللقہ خبریں