قدم بہ قدم پاکستان - 01

آئیے! آج آپ کو خوبصورت و دلکش ملکہ کوکہسار مری کی سیر کرواتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 01

قدم بہ قدم پاکستان - 01

قدم بہ قدم پاکستان

    
01/2018

محمد شعیب

ملکہ کوہسار مری

السلام علیکم! آئیے! آج آپ کو خوبصورت و دلکش ملکہ کوکہسار مری کی سیر کرواتے ہیں۔

ملکہ کوہسار مری پاکستان کے شمال میں واقع ایک مشہور خوبصورت سیاحتی و تفریحی اور صحت افزا مقام ہے۔ پنجاب کے ضلع راولپنڈی سے تقریباً39 کلو میٹر دور اور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع مری کا سفر سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، رقص کرتے بادلوں اور حسین نظاروں سے بھرپور ہے۔ گرمیوaں کے موسم میں سرسبز و شاداب اورسردیوں میں برف پوش سفید پہاڑ سیاحوں کیلئے بہت زیادہ کشش کا باعث ہیں۔ گرم اور سرد دونوں موسموں میں سیاح یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔

1849ءمیں پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد انگریزوں نے کسی سرد مقام کی تلاش شروع کی تو مری کا انتخاب ہوا۔ انگریزوں نے 1851ءمیں یہاں مختلف تعمیرات کا آغاز کیا۔ 1857ءمیں یہاں ایک بڑا چرچ تعمیر کیا گیا جو آج بھی شہر کے مرکز کی نشاندہی کرتا ہے۔ چرچ کے ساتھ شہرکی مرکزی سڑک گزرتی ہے جسے مال روڈ کہا جاتا ہے۔ مال روڈ پر دن رات سیاحوں کا رش رہتا ہے۔ مال روڈ پر اور اس کے قرب و جوار میں مشہور تجارتی مراکز اور کثیر تعداد میں ہوٹل ہیں۔ 1947ءتک غیر یورپی افراد کا مال روڈ تک آنا ممنوع تھا۔

مال روڈ کے ایک کنارے پر جی پی او کی خوبصورت عمارت ہے جبکہ دوسرے کنارے پر پنڈی پوائنٹ ہے۔ مال روڈ سے نیچے کی طرف مری کے رہائشی علاقے اور بازارقائم ہیں۔ یہاں خشک میوہ جات، ملبوسات اور آرائشی سامان کی دکانیں ہیں۔ جہاں ہر وقت خریداروں کا رش رہتا ہے۔ اخروٹ، بادام، کشمش، چلغوزہ، پستہ، کڑھائی والے ملبوسات، گرم شالیں، لکڑی اور بید کی بنی آرائشی اشیاءاور الیکٹرونکس کے آلات خریدنے والے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں کے چپلی کباب بھی بہت مشہور ہیں۔ مال روڈ پر بھی رستوران موجود ہیں جبکہ چائے اور کافی کے سٹالز اور سرد موسم میں لطف اندوز ہونے کے لئے کون آئسکریم بھی دستیاب ہے۔ مقامی افراد چلتے پھرتے کیتلی اور کپ لئے قہوہ بیچتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مال روڈ پر بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو سیر کروانے کے لئے مقامی افراد ہتھ ریڑھیاں لئے بھی موجود ہوتے ہیں۔

مری سطح سمندر سے تقریباً سات ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہ برطانوی حکومت کا گرمائی صدر مقام بھی رہا۔ 1907ءتک راولپنڈی سے مری تک تانگوں پر سفر کیا جاتا تھا جس میں دو دن لگتے تھے لیکن اب بہترین سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولت کی وجہ سے صرف ایک گھنٹے میں راولپنڈی سے مری پہنچا جا سکتا ہے۔ یہاں سکول و کالج، ہسپتال، چھوٹے اور بڑے جدید طرز کے ہوٹل، آرٹس کونسل، کیڈٹ کالج وغیرہ موجود ہیں۔ آرٹس کونسل کے ہال میں سٹیج ڈرامے بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ مری کے قریب مشہور اور جدید پی سی بھوربن ہوٹل موجود ہے۔ مری کے قریبی تفریحی مقامات میں گلیات، ایوبیہ، نیو مری، پتریاٹہ وغیرہ بھی قابل دید ہیں۔ مری میں قیام کے دوران سیاح صبح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور سارا دن وہاں گزار کر شام کو واپس مری آ جاتے ہیں۔ ٹیکسیوں کے علاوہ پک اپ میں فی سواری کرایہ ادا کرکے بھی ان علاقوں میں جانے کی سہولت موجود ہے۔

مری کے قریب نتھیا گلی، جھیکا گلی اورگھوڑا گلی و دیگر گلیات مشہور ہیں۔ گھوڑا گلی میں ہر سال گرمیوں میں بوائے سکاﺅٹس اور گرل گائیڈزکے الگ الگ تربیتی کیمپ لگتے ہیں اور وہ یہاں تقریباً ایک ہفتہ خیموں میں رہتے اور مختلف مہارتیں سیکھتے ہیں۔ یہاں سات پہاڑیاں ہیں جنہیں سیون سسٹرز کہا جاتا ہے۔ سکاﺅٹس کیمپ کے ساتھ ہی حضرت امام بریؒ کی چلہ گاہ اور چشمہ بھی موجود ہے۔

مری کی کشش یہاں آنے والوں کواپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ قدرتی مناظر آپ کو اپنے قدموں تلے محسوس ہوتے ہیں۔ آپ پہاڑ پر ہوں تو بادل آپ کو نیچے وادیوں میں تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کبھی بادل آپ کے گرد منڈلاتے ہوئے آپ کو چھو کر گزرتے ہیں اور آپ کے چہرے پر اپنی نمی چھوڑ جاتے ہیں۔ کبھی بادل ایک دم برسنا شروع ہو جاتے ہیں۔

موسم گرما میں گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے سیاح مری کا رخ کرتے ہیں کیونکہ بہترین اور وسیع سڑکوں کی وجہ سے یہاں تک رسائی آسان ہے۔ تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات بھی ہوتی ہیں اس لئے گرمیوں میں یہاں سیاحوں کا بہت رش ہوتا ہے۔

 14 اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر یہاں جشن کا سماں ہوتا ہے۔ منچلے مال روڈ پر خوب ہلا گلا کرتے ہیں۔ اس موسم میں فیملی کے ہمراہ آنے والوں کو چاہئے کہ ہوٹلوں میں بکنگ کروا کر آئیں کیونکہ ہوٹلوں کے کرائے بہت بڑھ جاتے ہیں اور کمرے ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ موسم گرما میں بادلوں کے کھیل تماشے اور سورج کے غروب ہونے کا منظر قابل دید ہوتا ہے۔ کشمیر پوائنٹ سے آپ کشمیر کی برف پوش چوٹیوں کا نظارہ بھی کر سکتے ہیں۔ جنگلات سے بھرپور یہ علاقے انتہائی خوبصورت ہیں، کشمیر پوائنٹ پر ریسٹورنٹ بھی موجود ہے اس کے علاوہ گھڑ سواری کی سہولت بھی دستیاب ہوتی ہے۔ گرمیوں میں اگائے جانے والے پھلوں میں سیب، ناشپاتی اور خوبانی شامل ہیں۔ پہاڑی لوگوں کی بھرپور ثقافت یہاں دکھائی دیتی ہے۔

مری میں چیئرلفٹ کی سہولت بھی مختلف مقامات پردستیاب ہے۔ اس کے علاوہ کیبل کار سے بھی آپ دلفریب مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ ایوبیہ اور پتریاٹہ جاتے ہوئے راستے میں آپ کو جگہ جگہ بندر دکھائی دیتے ہیں سیاح وہاں رک کر انہیں بھٹے اور دیگر خوراک ڈالتے ہیں اور ان کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں۔

برف باری کے شوقین سیاح سردیوں میں مری کارخ کرتے ہیں۔ جب پہاڑوں اور بلند درختوں کو سفید برف ڈھانپ لیتی ہے تو دلکش نظارہ پیش کرتی ہے۔ سیاح برف کے گالوں سے ایک دوسرے کونشانہ بنا کر محظوظ ہوتے ہیں۔ مقامی افراد اور بچوں نے برف کے مجسمے بنا کر انہیں مفلر اور ٹوپی اوڑھا رکھے ہوتے ہیں۔ سیاح ان کو کچھ پیسے دے کران برف کے مجسموں کے ساتھ تصویریں بناتے ہیں۔ سردیوں میں یہاں رش قدرے کم ہوتا ہے ہوٹلوں میں کمرے بھی کم نرخوں پر مل جاتے ہیں اور دیگر اشیا بھی سستی ہو جاتی ہیں۔ برف باری اور پرسکون فضاﺅں سے لطف اندوز ہونے کے دلدادہ سردیوں میں مری کا رخ کرتے ہیں۔

ملکہ کہسار مری کا حسن، دلکشی اور دلفریبی آپ کو بار بار وہاں آنے پر اکساتی ہے اور فطرت کے دلفریب مناظر آپ کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور خوبصورت مقام کی سیر کروائیں گے تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجئے۔ اللہ حافظ۔

 



متعللقہ خبریں