ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 47

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 47

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 47

 

 ستمبر 2014 میں ایران کے حمایتی حوثی باغیوں کیطرف سے حکومت پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو جانے اور یمن میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کو تین برس ہونے کے قریب ہیں ۔ یہ خانہ جنگی سنگین انسانی بحران کا سبب بنی ہے ۔  آج کے   اس پروگرام میں اس بحران کے مشرق وسطیٰ کے علاقے   پر اثرات  کے  موضوع پر اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار  جمیل دوعاچ اپیک  کا  جائزہ  آپ کی خدمت میں پیش  کر رہے ہیں ۔

ستمبر 2014 میں ایران کے حمایتی حوثی باغیوں کیطرف سے حکومت پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو جانے کے بعد  یمن میں خانہ جنگی  شروع ہو گئی ۔ جس کے نتیجے میں  یمن کی جمہوری حکومت اور صدر  منصور حادی سعودی عرب میں پناہ لینے  اور  وہاں سے مسلح جدوجہد  کو جاری رکھنے پر مجبور ہو گئے ۔

دراصل یمن میں کئی سالوں سےاپنی سرگرمیوں کو روکنے والی حوثی قوتوں  کی مسلح جدوجہد کو  شام میں  جاری  جنگ کی عکاسی  کی نظر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔  ایران کے حامی شعیہ حوثیوں  کے خلاف حکومت کا دفاع کرنےوالےسعودی عرب  نے شعیہ نظریات کے پھیلاؤ کی روک تھام کے دعوے کیساتھ حوثیوں کے خلاف فوجی کاروائی کا آغاز کیا  ۔ سعودی عرب کی اس کاروائی کا متعدد عرب ممالک حتیٰ کہ مصر ،سوڈان، پاکستان اور مراکش  جیسے ممالک نے بھی حمایت کی۔

یمن بحران نے جلد ہی علاقائی بحران کی شکل اختیار کر لی ۔یمن کے خلاف قائم اتحاد اور سعودی عرب نے یمن جنگ کو شعیہ تبلیغ کے پھیلاؤ کے  خلاف  جدوجہد  کے طور پر پیش کیا ۔یمن میں صرف اتحادی ممالک اور سعودی عرب  ہی نہیں بلکہ القائدہ اور داعش کے علاوہ سنیّ قبیلے بھی  حوثی باغیوں کے خلاف   بر سر پیکار  ہیں  ۔ عرب اتحاد اور مقامی قوتوں کی مزاحمت   کے باوجود  ایران کے حمایتی جتھے   ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول سنھبالنے میں کامیاب ہو گئے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں یمن میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سےایران کے خلاف رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے ۔اقوام متحدہ اور متعدد ممالک ابھی تک حادی حکومت کو مشروع حکومت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔  اقوام متحدہ نے یمن میں فائر بندی  کے لیے ثا لث ی  کا کردار ادا کرنے کی  جو کوششیں کی ہیں 2017 تک   ان سے کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو سکا ۔  فریقین کے درمیان جھڑپیں ابھی تک جاری ہیں ۔  چند ہفتے قبل یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے سے سعودی عرب کے دارالحکومت  ریاض پر میزائل کا حملہ کیا  گیا جسے سعودی فضائیہ کے دفاعی سسٹم کی طرف سے ناکارہ بنا دیا گیا ۔  اس صورتحال سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری حاکمیت کی  جنگ کی سنجیدگی کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔

اس موضوع سے متعلق جائزے سے ایران کی یمن کی جھڑپوں کو  سعودی عرب کی شعیہ نفوس  کے علاقوں   تک پہنچانے کی خواہش سامنے آ جاتی ہے ۔ یہ صورتحال  ایران  کیطرف سے مذہبی فرقوں کی جدوجہد کو علاقائی مسئلے  کے ذریعے کے طور پر استعمال  کرنے کی حقیقت کی عکاس ہے جبکہ سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی قوتوں کی طرف سے یمن پر حملے اس ملک میں انسانی بحران کے بڑھنے کا بنیادی عنصر ہیں ۔

اس مسئلے کےدوسرے پہلو کا تعلق جھڑپوں  سے متاثر ہونے والی یمنی عوام  سے ہے ۔27 میلین نفوس کے ملک یمن میں 17 میلین انسان  فوری طور پر انسانی امداد کے محتاج ہیں ۔ عدن اور حدیدے کی بندگاہوں کا کنٹرول ختم ہونے کے بعد ملک میں خوردنی اشیاء  کی شدید قلت  پیدا ہو گی اور اس کے بعد وبائی امراض نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ملک میں  طبی خدمات کے خاتمے سے  روزمرہ کی زندگی جام ہو  کر رہ گئی ۔ اپریل 2017 میں  شروع  ہونے والی ہیضے کی وباء نے اکتوبر تک ملک کے 90 فیصد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔   تقریباً ایک میلین افراد اس وباء کا شکار ہوئے اور تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے  ۔

اس وباء کے پھیلنے کی اہم وجہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کے تباہی ،طبی خدمات  کے خاتمے،پینے کے صاف پانی اور خوراک کی عدم دستیابی  ہے ۔ ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ  ملک میں جاری جھڑپوں کی  نتیجے میں  اقوام متحدہ یا کوئی  دوسری  امدادی  یا رضاکار تنظیم  ملک میں داخل نہ  ہو  سکی تھی ۔

گزشتہ ماہ  جولائی میں  ترکی  میں " امید بنو" نام سے ایک  امدادی مہم  شروع کی گئی   ۔صدر رجب طیب ایردوان کی ہدایت پر وزارت صحت، وزارت عظمیٰ اور ہلال احمر  سمیت متعدد امدادی تنظیموں نے 20 میلین ڈالر  کی مالیت کا    120 ٹن انسانی امداد اور طبی سامان یمن کی وزارت صحت تک پہنچایا ۔ ترکی کی طرف سے بھیجی جانے والی یہ امداد یمن کی عوام  کے لیے  حیاتی اہمیت رکھتی ہے ۔ اس امداد کے علاوہ ترکی نے 2016 میں 200 یمنی مریضوں  کو اپنے ملک میں لا کر ان کا  علاج معالجہ کیا تھا ۔ شام اور عراق  کے سیاسی بحران  کی طرح یمن میں بھی خانہ جنگی سے سول عوام کو سخت اذیتیں اٹھانی پڑی ہیں ۔ بھاری اموات اور ہجرت پر مجبور ہونے والے  انسان نسل در نسل ان اذیتوں کو فراموش نہیں کر سکیں گے ۔  مشرق وسطیٰ میں  ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری  مسائل  سے سب سے زیادہ یمنی عوام ہی متاثر ہو رہے ہیں ۔



متعللقہ خبریں