پاکستان ڈائری - 44

اس بار پاکستان ڈایری میں ہم آپ کی ملاقات کروائیں گے پاکستان کی نامور نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ سے

پاکستان ڈائری - 44

پاکستان ڈائری - 44

اس بار پاکستان ڈایری میں ہم آپ کی ملاقات کروائیں گے پاکستان کی نامور نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ سے۔ اسئ کی دہایی سے خبرنامہ سے منسلک عشرت فاطمہ صف اول کی نیوزکاسٹرہیں ۔انکا شایستہ لب و لہجہ ،پرووقار شخصیت، اردوزبان پرمکمل عبور ، حالات حاضرہ سے مکمل اگاہی خبرنامے کو چارچاند لگا دیتے تھے۔ان کا قرینے سے لیا گیا ڈوپٹہ اور ناک میں چمکتا لونگ خواتین میں بہت مقبول تھا اور خواتین ان کا اسٹایل کاپی کرتی تھیں۔طویل عرصہ انہوں نےپی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پر خبریں پڑھیں اور ہمیشہ شایقین کی پسندیدہ رہیں۔ثاقب وحید کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوییں اور انکے دو بچے ہیں۔ وہ ریڈیو پاکستان کے ساتھ اب بھی منسلک ہیں اور خبرنامہ پڑھتی ہیں ۔ریڈیو پاکستان کے فیس بک پیج پر آپ انہیں لائیو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان پر ان کے فیس بک لائیو خبرنامے پر سب سے زیادہ ویوز ہوتے ہیں۔حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں اعلی خدمات پر سول ایوارڈ ،نگار فلم ایوارڈ  اورمصورایوارڈ دیگراعزازت سےنوازا گیا۔

عشرت ثاقب 9 جنوری کو اسلام آباد میں پیدا ہوئیں ۔ابتدائی تعلیم فیڈرل گورنمنٹ کے سکولز سے حاصل کی اور اعلی تعلیم اسلام آباد کے سب سے معروف اور قدیم تعلیمی  ادارے ایف سیون ٹو کالج سے حاصل کی۔انکے مضامین اردو ادب اور پولیٹکل سائنس تھے۔

ٹی آرٹی اردو سروس سے بات کرتے ہویے عشرت ثاقب نے بتایا سکول کالج سے ہی وہ تقریری مقابلوں میں حصہ لیتی تھیں۔ سکول لائف سے ٹی وی ریڈیو کے سفر آغاز ہوگیا۔ایک پروگرام ہوتا تھا کھیل اور کھلاڑی میرا پہلا ریڈیو شو تھا جس میں میں خبریں پڑھتی تھی۔ٹی وی کی طرف کچھ یوں آنا ہوا کہ قسمت میں کچھ یوں لکھاتھا کہ میں ٹی وی کی طرف آگئی ۔بچپن میں میری بہت خواہش ہوتی تھی کہ میں کچھ ایسا کام کروں گے سب مجھ سے آٹوگراف لیں ۔اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ میں نے بڑے ہوکر کرنا کیا ہے۔میڈم عقیلہ خٹک ریڈیو پر تقریری مقابلے میں لے کر گئیں ۔اس طرح ریڈیو کے ساتھ کام کاسلسلہ شروع ہوگیا۔

عشرت ثاقب کہتی ہیں اس وقت ریڈیو پر بہت بڑے نام موجود تھے جن میں صفدر ہمدانی،مشتاق صدیقی، اظہر لودھی ،خالد حمید شامل تھے۔میں سکول یونیفارم میں ریڈیو جاتی تھی پروگرام صبح ہوتا تھا خبریں پڑھنے کے بعد سکول جاتی ۔اس وقت ریڈیو کی عمارت راولپنڈی میں ہوتی تھی اور امی میرے ساتھ جاتی تھیں ۔

وہ کہتی ہیں ان دنوں ٹی وی پر بھی بڑے بڑے نام خبریں پڑھتے تھے جن میں ثریا شہاب،ارجمند شاہین ماہ پارا قابل زکر ہیں۔موسم ان دنوں بیک گراونڈ میں ہوتا تھا ٹی وی کے پروڈیوسر مجھے ریڈیو پر ملے انہوں کہا آپ بیک گراونڈ میں خبریں پڑھیں ۔میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں ٹی وی پر خبریں پڑھوں گی۔جب میں جانے لگی تو امی نے کہا اجرک کے بجائے ڈوپٹہ لے جاو کیا پتہ نیوز کا آڈیشن بھی ہوجائے میں نے کہا ایسا کیسے ہوسکتا ہے مجھے بیک گراونڈ کے لئے بلا رہے ہیں ۔

80 کی دہائی کی شروع کی بات ہے میں چکلالہ گئ وہاں پر پی ٹی وی کا دفتر تھا۔آڈیشن کے وقت میرے ماموں میرے ساتھ تھے۔وہاں پر پروڈیوسر ذوالفقار شاہ نے مجھے کہا کہ آپ نیوز کا آڈیشن دیں۔مجھے خبرنامہ کا اسکرپٹ دے دیا ۔میرا آڈیشن ہوا اور میں مجھے منتخب کرلیا گیا۔

ٹی وی ریڈیو کے ساتھ ساتھ تعلیم مکمل کی۔عشرت ثاقب نے اظہر لودھی، خالد حمید کے ساتھ زیادہ خبریں پڑھیں ۔وہ کہتی ہیں خبریں پڑھنا بہت ذمہ داری کا کام ہے۔میں نے ہمیشہ کوشش کی غلطی نا ہو مکمل تیاری کے ساتھ خبریں پڑھیں ۔الفاظ کی درست ادائیگی پر ہمیشہ فوکس کیا۔

میرے سوال پوچھنے پر عشرت ثاقب نے بتایا کہ پی ٹی وی پر خبریں پڑھنے سے پہلے وہ مکمل تیاری کرتی تھیں ۔وہ کہتی ہیں میں باقاعدگی سے مطالعہ کرتی تھی اور حالات حاضرہ سے واقف رہتی تھی اور اب بھی یہ ہی روٹین ہے۔دوسرا خبریں پڑھنے سے پہلے اسکرپٹ کا مطالعہ۔کوئی چیز نہیں سمجھ نہیں آتی تھی تو اس کے حوالے سے مزید پڑھتی تھی اور ایڈیٹر پروڈیوسر کے ساتھ زیر بحث لاتی تھی۔پروڈیوسرز میں ذوالفقار شاہ ، معصوم عثمانی ، مجدد شیخ،عارف محمود، مزمل احمد خان،منزہ جاوید اور رفعت نظیر کے ساتھ کام کیا۔

عشرت فاطمہ کا پروقار لباس اور چمکتا ہوا ڈائمنڈ لونگ بھی خواتین میں بہت مقبول رہا ۔وہ کہتی ہیں کچھ عرصہ تو پی ٹی وی میں صدر ضیاء الحق کے دور میں ڈوپٹہ پر پابندی رہی۔ان کے دور حکومت کے بعد اس میں نرمی آئی تو کچھ لوگوں نے ڈوپتہ اتار دیا ۔میری امی نے اس چیز کی بہت مخالفت کی ۔میں نے بھی سوچا کہ اگر ڈوپٹہ اتار دیا تو میں فیک لگو گی ۔میں نے ڈوپٹہ کسی پابندی کی وجہ سے نہیں لیا تھا ۔ڈوپٹہ ہمارے لباس کا بہت معتبر حصہ ہے۔میری امی میرا ڈوپٹہ خود استری کرکے دیتی کہ اس پر کوئی سلوٹ نا ہو۔ 

عشرت ثاقب کہتی ہیں کہ میں نے ہمیشہ سادگی اپنائی اور سستے کپڑے پہننے زیادہ تر سوٹ کاٹن کے ہوتے تھے اور اب بھی یہ ہی روٹین ہے۔اپنے ٹی وی کرئیر کو یاد کرتے ہوئے عشرت ثاقب کہتی ہیں بہت سارے ایسے واقعات ہیں جن کو نشتر کرتے وقت بہت مشکل ہوئی ایک کولیگ عبداالسلام کی ٹریفک حادثے میں وفات ہوگی اسے پڑھتے وقت بہت رنجیدہ ہوئی۔ میری سیاست سے کوئی وابستگی نہیں لیکن ریڈیو پرصدر ضیاء الحق کے پلین کریش کی خبر دیتے وقت بہت افسوس اور دکھ ہوا۔اسکے بعد پرویز مشرف نے جب ٹیک اور کیا تھا تو میں اور  شائستہ زید پی ٹی وی کی شام کی شفٹ میں گئے تھے اگلی صبح فجر کے وقت ہم دفتر سے گئے۔شائستہ زید اور اسٹاف کے ساتھ ہم نے اپنی آنکھوں سے ملٹری ٹیک اور دیکھا۔

میرے سوال پوچھنے پر کہ دوران خبریں کوئی دلچسپ واقعہ ہوا تو وہ مسکرا کر کہنے لگی کہ ایک بار وہ شبانہ حبیب خبریں پڑھ رہی تھیں کہ اچانک اسٹوڈیو میں بے شمار پتنگے آگئے۔شبانہ پر آفرین ہے وہ ہلی بھی نہیں اور میں نے خوب پتنگے ہٹائے۔

عشرت ثاقب نے اپنی نجی زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دو بچے ہیں بیٹا اعلی تعلیم کے لئے امریکا گیا ہوا جنہیں وہ بہت مس کرتی ہیں یہ کہتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگی اور ان کی بیٹی کالج میں زیر تعلیم ہے۔اپنے شوہر ثاقب وحید کے بارے میں بتایا کہ وہ ریلوے میں ہیں ۔اپنے والدین کا زکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا میرے والد منسٹری آف فنانس میں تھے اور والدہ ٹیچر ۔میں نے ہمیشہ اپنے والد کو دیکھا کہ وہ میرے ابا جی نے میری امی کے ساتھ بہت تعاون کیا وہ ہمارے یونیفارم تک استری کردیتے تھے۔امی کے ساتھ کھانا اور صفائی تک کروا دیتے تھے ۔میں نے اپنے ابا جی سے بہت کچھ سیکھا۔خوش قسمتی سے میرے شوہر نے بھی بلکل ویسے ہی میرا ساتھ دیا جیسے میرے ابا نے امی کا دیا۔جب میرے بچے ہوئے تو میں مارننگ شفٹ میں چلی گئ صبح کی ذمہ داری میرے شوہر پر زیادہ ہوتی تھی انہوں نے میرے بہت ساتھ دیا اور میں نے بھی انصاف کے ساتھ گھر چلایا ۔

وہ کہتی ہیں خبریں پڑھنا بہت سنجیدہ کام ہے جس کو اس کی حساسیت کا پتہ ہے وہ بہت ذمہ داری کے ساتھ کام کو انجام دیتا ہے۔ہمیشہ خبریں پڑھتے وقت تھوڑی گھبراہٹ ہونا فطری عمل ہے چاہیے جتنا بھی تجربہ انسان کے پاس ہو۔

ترکی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عشرت فاطمہ نے کہا مجھے خوشی ہوئی کہ ترکی کی اردو سروس کام کررہی ہے مجھے خود بہت شوق ہے کہ میں ترکی سیاحت کے لئے آوں میری خواہش تھی کہ میرا بیٹا ترکی میں اعلی تعلیم حاصل کرے لیکن اس کا ایڈمیشن امریکا میں ہوگیا۔ ترکی کی  تاریخ ہے یورپین اور مسلم کلچر ساتھ ساتھ ہے اور ترکی کے لوگ بہت خوبصورت  ہیں ۔

 ریڈیو پاکستان نے خبرنامہ کی فیس بک پر لائیو اسٹریمنگ شروع کردی جس کو تمام سوشل میڈیا صارفین نے بہت سراہا ہے۔  عشرت فاطمہ مختلف شفٹس میں خبریں پڑھ رہی ہیں ان کے فینز یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ انکی پرفارمنس اور ظاہری شخصیت کو وقت چھو کر بھی نہیں گزرا وہ آج بھی ویسی ہی ہیں جیسے پی ٹی وی پر آتی تھیں۔ ۔وہ کہتی ہیں ریڈیو پاکستان کی اس نئی کاوش نے ان میں نئی روح پھونک دی ہے جس کے لئے میں حکام کی مشکور ہوں۔ڈائریکٹر نیوز جاوید خان جدون کی یہ کاوش ہے جس کو سامعین اور ناظرین میں بہت پسند کیا جارہا ہے۔

وہ کہتی ہیں اسٹیٹ میڈیا کی خبروں میں بہت شائستگی ہے ۔جبکے دیگر میڈیا میں کسی بھی چیز کو خبر بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے اور بولنے کے طریقہ کار اور الفاظ پر بھی خیال نہیں کیا جاتا ۔وہ کہتی ہیں اگر آج بھی مجھے ٹی وی سے آفر آئے تو میں ضرور خبریں پڑھنا پسند کروں گی۔

نئے آنے والوں کے لئے عشرت ثاقب نے کہا آج کل بچے شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں جبکے محنت کرنا بہت ضروری ہے۔ہمارے ہاں اکیڈمی نہیں ہے۔بچوں کو یہ بات پتہ ہونی چاہیے کہ خبریں پڑھتے وقت انہوں نے کیسے بیٹھنا ہے کیسے بولنا ہے الفاظ سے کیسے کھیلنا ہے ۔آج لوگ ڈکشنری اور لغت سے دور ہیں ۔اب تو موبائل سے بھی ہم الفاظ کی ادائیگی سن سکتے ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ اللہ کا کرم میں آج جو بھی اللہ کی رحمت اور اپنے فینز کی عزت کی بدولت ہوں۔اپنے فینز کے متعلق انہوں نے کہا کہ میرے فینز بہت اچھے ہیں ہمیشہ شائستگی سے ملے ۔

عشرت ثاقب اپنی ذات میں ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتی ہیں نئے نیوز کاسٹرز اور میڈیا کے طالب علموں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ۔اس ضمن میڈیا ہاوس اور یونیورسٹیاں اہم رول ادا کرسکتی ہیں اور عشرت ثاقب کو مدعو کرکے وہ نئ نسل کو خبر اور اسکی ادائیگی کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا سکتے ہیں 



متعللقہ خبریں