حالات کے آئینے میں 44

مغربی روشن خیال شخصیات اب خاموش کیوں ہیں؟

حالات کے آئینے میں 44

 گزشتہ ہفتے ترکی  میں ایک    انتہائی اہم   اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا نام  بین  الاقوامی   تہذیبی شوری  تھا۔

جمہوریہ ترکی کے صدر ایردوان کا  اس اجلاس  میں  خطاب تاریخ میں نوٹ کیے جا سکنے کی نوعیت کا تھا۔  آج مغربی دنیا کے  اپنی اقدار  پر حق رکھنے کے گرداب  کی بنا پر    اس خطاب پر  تبصرہ کرنے والا  کوئی مغربی  شخص   میں نے نہیں  دیکھا۔ تا ہم، کل   اس پر بات   چیت کرنے کے بعد   اس معاملے  پر  طویل بحث چھیڑنے والے اور کالم لکھنے والے ضرور ملیں  گے۔

ترک لیڈر  ایردوان  نے مفکرین، مصنفین  اور  فلاسفروں کی جانب  سے  بغور جائزہ  لینے کی ضرورت ہونے والے  تہذیبی بحران کو  بیان   کرتے  ہوئے   سچ پوچھیں تو   مجھے  شرمندہ کر دیا ہے۔

جناب ایردوان نے  اجلاس میں مندرجہ ذیل   الفاظ  کہے: "ہم تہذیبی  کشمکش  میں ہیں،  ہم  تہذیب کی نشاط  نہیں بلکہ بہتری کے دور سے گزر رہے ہیں۔اگر  تہذیبی نچوڑ کو نمایاں  کرنے والے اعتقا دہوتے ہیں ہمیں بھی اپنے  فرق  کو منظر عام پر پیش کرنا  شرطیہ ہے۔ سائنس  وٹیکنالوجی   اہم ہونے کے ساتھ ساتھ عقیدے  اور سماجی تعاون کو  نظر انداز کرنے سے  سامنے والی   چیز   کا نام ہمارے مطابق  تہذیب نہیں ہے۔ ہماری تہذیب میں انسان اشرف  الا مخلوقات ہے۔ "

عصر ِ حاضر میں  1950 کی دہائی سے لیکر مغربی دنیا  کی زبان پر چرچا ہونے والے کائناتی انسانی حقوق   کے حوالے سے پیش  رفت   قدرے  خوفناک ہے۔

اس اجلاس میں ترک صدر نے بھی  اس معاملے کو زیر لب لایا تھا۔ آج  مغربی ملکوں کے مفادات کے زیر بحث ہونے  پر ڈیموکریسی، انسانی حقوق کی کائناتی تشریح  اور حقوق  کی  طرح کے نظریات کا کوئی مفہوم باقی نہیں بچتا۔

مثال کے طور پر  شمالی عراق میں   منعقدہ غیر قانونی ریفرنڈم  کی پشت پناہی کرنے والی مغربی دنیا ، اسپین کے کاتالونیہ علاقے میں  ریفرنڈم کو ناقابل قبول  قرار دیتی ہے۔ پولیس کی جانب سے  بیلٹ بکسوں کو جمع کرنے  اور  طاقت کا بے جا استعمال  کرنے کے واقعات پر مغرب نے اپنی  آنکھیں بند رکھیں۔

ہسپانوی  عدالت عالیہ کے کاتالون   سیاستدانوں کے خلاف غیر قانونی  فیصلے کے سامنے بھی  ان کی  خاموشی جاری  رہی،  کیونکہ یہ واقع  مغربی   دنیا میں پیش آنے کے   باعث  ان کا چپ سادھنا   ان کے مفادات کے  مطابق ہے۔

اس پر بھی اکتفا نہ کرتے ہوئے  ہسپانوی حکومت نے کاتالونیہ نیم خود مختار  حکومت کو  تحلیل کرتے ہوئے  زیادہ  سے زیادہ 6 ماہ کے اندر  قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کیا ہے، جیسا کہ میں نے   پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ یہ واقع  مغربی حدود کے اندر  رونما ہوا ہے لہذا  اس پر  ردعمل بھی   مغربی ملکوں کے مفاد  کی نوعیت کا ہو گا۔

آیا کہ مغرب کو کیا ہوا ہے؟ روم، سیزر،  ڈکٹیٹرز، بادشاہوں  اور ملکوں کے  سامنے  صدائیں بلند کرنے والی  مغربی  روشن  خیا لی کو کیا ہوا ہے؟

چاہے مغرب ہو یا پھر مشرق  اگر دنیا کے کسی بھی علاقے میں روشن خیال حلقے خاموشی اختیار کرتے ہیں یا پھر  بولنے کی جرات نہیں کر سکتے تو  اس کا یہ مفہوم   ہے  کہ دنیا کا توازن بگڑ چکا ہے۔ ویسے بھی  کیا یہ اسی وجہ سے نہیں   ہے کہ مغربی افواج نے سن 2001 سے لیکر ابتک مشرق وسطی میں 40 لاکھ کے قریب لوگوں کا قتل  کیا ہے کہ جن کا  80 فیصد خواتین  اور بچوں پر مشتمل تھا۔ اگر مغربی روشن خیال حلقے اس   چیز پر  اعتراض کر تے تو کیا فوجیں اس حد تک لا پرواہی سے کام لے سکتی تھیں؟

ہٹلر، موزولونی، اسٹالن اور  چرچل کی   طرح   کے ظالم حکمرانوں کے خلاف  آواز اٹھانے والے   مفکرین اور  روشن خیال  شخصیات کے   جانشینوں کو کیا ہوا۔ عصر حاضر میں  مغربی ملکوں میں فلسفے کے موضوع پر  لکھنے والوں کی تعداد کتنی ہے، جریدے کی سطح  کے  مقالوں   کے قارئین کی تعداد  بھی 2 تا 3 سو  ہے، جو کہ ایک  سنجیدہ   صورتحال   ہے۔ در حقیقت   اگر اسے بنی نو انسانوں کے  پہنچنے والی پست ترین سطح کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

مشرق میں یہ صورتحال   کچھ  مختلف نہیں ہے۔  سوچ و افکار  کو سامنے لانے والی تحریریں  مغرب کی حد تک   نہ بھی ہو تو  ان کو مطلوبہ سطح تک نہیں پڑھا جاتا ۔

مغربی  انسان 1980 کے بعد کے سرمائے کے پھیلاؤ اور نئی پیداوار ی ڈھانچے   سے متعلق معلومات اور حکمت  کی تلاش سے دور جا چکے ہیں۔  بنی نو انسانوں نے   60 کی دہائی کی  کھپت  کے رحجان کو  عروج تک پہنچا  دیا ہے۔ ا س کھپت میں اضافے  کے ساتھ ساتھ   مزید سرمائے کی ضرورت  لاحق ہونے لگی۔  جس  کے نتیجے میں پاپولر ثقافت  ایک تنگ سانچے کے اندر پھنس کر رہ گئی ہے۔

مغرب  اب پوچھ گچھ نہ کرنے والی اور حاکمیت کے ڈھانچے   کے سامنے  گھٹنے ٹیکتے ہوئے  اس پر یقین  کرنے والی   کسی دنیا کی ماہیت اختیار  کر چکا ہے۔آج  مغرب  کی سیاسی حاکمیت کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کے ساتھ ہر روز مشرق میں، مشرق وسطی میں، افریقہ میں ہزاروں   انسانوں کا قتل ہونے کے وقت یہ لوگ  پاپ کارن  کھاتے ہوئے فلمیں دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں  اور یہ  المیہ آہستہ آہستہ  ان کے قریب بھی   پہنچتا جا رہا ہے۔ تمام تر مغربی دارالحکومت، خانہ جنگی جاری ہونے والے   ملکوں کی حد تک خطرناک   بن رہے ہیں۔  اس خطرناک  ڈگر  کے خلاف بات کرنے والے  مفکرین  اور روشن خیال  شخصیات   موجود نہ ہونے کی بنا پر  مغربی معاشرہ اس  گرداب میں پھنستا چلا جائیگا۔

اس کے بر عکس ترکی  کے مفکرین   کے ساتھ ساتھ تہذیبی تصوف سے سرشار  صدر  ایردوان کا وجود موجود ہے۔ صدر ایردوان جس کسی بھی  بین الاقوامی   سیاسی و اقتصادی  اجلاس میں شرکت کرتے ہیں اس میں   تہذیبی اقدار  پر زور دیتے رہتے ہیں۔ انہوں نے  حال ہی میں  بین الاقوامی  تہذیبی شوریٰ  میں انسانیت کو گرداب  میں کھینچنے   والے  مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔

ترکی کی   غیرمعمولی  مداخلت سے   داعش دہشت گرد تنظیم     کو علاقے سے صاف کیا جا رہا ہے۔ اس خونی تنظیم  کے پشت پناہوں کو یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ اب   یہ ترکی کو زیر نہیں کر سکتے۔   لیکن اب داعش انہی کے ملکوں میں   خطرہ بن جائیگی۔  مغرب کو نازی ازم اور  دیگر  نسل پرست تحریکوں کا سامنا ہے جو کہ دہشت گردی کی لہر کو شہہ دے گا۔

تا ہم مغربی  تہذیب کو    فوری طور  پر ایک طرف چھوڑ دینا   جاہلیت ہو گا۔  مغربی دنیا   کسی نئی خانہ جنگی  کے نتیجے میں کائناتی اقدار  تک ضرور پہنچ جائیگی۔ کیونکہ تہذیب کا سنگ بنیاد رکھنے والی اقوام، تاریخ کے ہر موڑ پر  تاریخی ماضی کے مطابق  ہی  مؤقف کا مظاہرہ کرتی  ہیں۔ تا ہم شاید ان اقوام کی ایک بڑی اکثریت اپنی تاریخی ذمہ داریوں  سے بے خبر ہے۔  یہ مختلف  ریفلیکس کے طور پر  اس مشن  کے تقاضے کو پورا کریں گی۔

 

 

 



متعللقہ خبریں