حالات کے آئینے میں 28

قدیم دور کی انجنیئرنگ، علم فلکیات اور شعبہ طب میں ہونےو الی ایجادات ناقابل یقین  حد  اعلی سطح کی ہیں

حالات کے آئینے میں 28

آزتک ، انکا، مایا اور دیگر تہذیبوں  کے سائنس وٹیکنالوجی میں طے  کردہ  سفر  میں   روزانہ  کوئی نہ کوئی نئی ایجاد سامنے آتی رہتی ہے۔ آثارِ قدیمہ   کی کھدائیاں اور ان کھدائیوں سے حاصل کردہ نوادرات،  اور دستاویز  پر  تحقیقات  کے نتائج سامنے آنے پر موجودہ  تہذیب کے وارثوں  یعنی  ہمیں   حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔

قدیم دور کی انجنیئرنگ، علم فلکیات اور شعبہ طب میں ہونےو الی ایجادات ناقابل یقین  حد  اعلی سطح کی ہیں۔   خاصکر ریاضیات، جیومیٹری اور آسٹرانومی  میں عصر حاضر کے سائنسدانوں کو  بھی ششدر کر کے رکھ دینے والی  ایجادات  کا تعین ہوا ہے۔

خلا، گلیکسی، سیاروں  کے مقامات اور فاصلوں کے حوالے سے  کی گئی تحقیقات ، موجودہ ٹیکنالوجیکل آلات  کی مدد سے   بھی  حاصل نہیں  کی جا سکی گئیں۔ اس دور کے بعد ہزار ہا سال گزر جانے کے باوجود موجودہ   علم و سائنس کے میدان میں تعین کردہ   معلومات  تک کس طریقے سے رسائی کیے جانے کا  تا حال  پتہ نہیں چلایا جا سکا۔

سائنسدانوں کی  جانب سے کی گئی ایک دوسری تحقیق  اُس  شاندار تہذیبی سطح تک کس طرح  رسائی   کے بارے  میں ہے۔

بنی نو انسانوں کے آج بھی  حیرت میں پڑنے  والی اُس تہذیب و تمدن اور ٹیکنالوجی  کا کس طرح خاتمہ ہونے  کے حوالے سے  تاحال کوئی  ٹھوس   معلومات  سامنے  نہیں آسکیں۔ بعض   نظریات کے مطابق اجتماعی اموات کا موجب بننے والی وباؤں  سے   یہ  اپنے وجود کو کھو گئی تھیں۔

بعض معلومات کی روشنی میں ایک دوسرا  دعوی کچھ یوں ہے کہ  وہ اعلی پائے کی تہذیبیں  تباہ کن جنگوں کے باعث  صفحہ ہستی سے مٹ گئی تھیں۔

ہمارے نزدیک  دوسرا دعوی ٰ زیادہ  ذی فہم  لگتا  ہے،  ویسے بھی ان نظریات  کو تقویت دینے والے  بعض دلائل بھی موجود ہیں۔

در اصل  بنی نو انسانوں  کے  حالیہ دو صد سالہ   ماضی کا جائزہ لیں تو اس  نظریے کے کہیں زیادہ  طاقتور ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔

سرمائے   کےذخائر اوراس کا  زیادہ عام ہونا ،   پہلی اور دوسری جنگ عظیم  میں لاکھوں کی تعداد میں انسانوں  کی ہلاکتیں اس موضوع پر  ہمارے لیے    مشعل ِ راہ بن سکتی  ہیں۔ بڑے  افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انسانوں کے  اپنے آباؤاجداد  کو پیش آنے والے المیوں اور تباہ کن  اموات سے  بھی  سبق   نہ سیکھنے کا مشاہدہ  ہو رہا ہے۔

ارد گرد کا جائزہ لیں تو آپ کو  دنیا کے ہر گوشے میں اسلحہ کے تاجر دندناتے  دکھائی دیں گے۔ کوئی   امکان نہ ہونے  والے ملکوں میں  بھی  ان اشخاص کے وجود کو دیکھنا  ایک غیر معمولی بات نہیں ہے۔

ایک گھنٹہ قبل تک "انسانیت کے لیے"  کی طرح کے مقدس مقاصد کے ساتھ کام کرنے والے ، جنگوں اور آفت زدہ  علاقوں میں احتیاج مندوں کی جانب  فی الفور امدادی ہاتھ بڑھانے والے ملک،  اچانک   دہشت گردی  کی پشت پناہی  کرنے والے ملک بن   جاتے ہیں۔

دنیا کے ہر مقام پر دین، نسل  یا پھر سرکاری انتظامیہ کے طرز  حکومت کی پرواہ کیے بغیر  تمام تر آفت زدگان کی مدد کو دوڑنے والی  انسانی امدادی  تنظیمیں  اچانک شیطانی  مؤقف بھی اختیار کر لیتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک قاتل  کو آزاد ثقافتوں سے منسلک انسانوں کا قتل  کرنے پر اسے فوری طور پر  دہشت گرد کے طور پر  پکارا  جانے لگتا ہے تو دوسری جانب اسی آزادی کے علمبردار ملک  کا کوئی باشندہ   جب  "مسجد  میں عبادت کرنے کے بعد گھروں کی راہ لینے  والے  بچوں، بزرگوں اور خواتین کے قتل کا مرتکب ہوتا ہے تو"اسے محض بھیڑیا " کہنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔

اور آج یہی  حلقے ، دہشت گردی کی پشت پناہی  کرنے کے الزامات عائد کردہ ملکوں  کو کروڑوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کرتے ہی انہیں دہشت گردوں کی بلیک لسٹ سے خارج کر دیتے ہیں۔

دنیا کے پر سکون ترین  تا ہم اس کے  ساتھ ساتھ تجارت میں مؤثر کردار ادا کرنے والے  علاقوں میں  دہشت گرد کاروائیاں اچانک ظہور پذیر ہونے لگتی ہیں۔

یا پھر   کسی مہذب ملک کے جبر کے سامنے  گردن خم نہ کرنے  پر آپ کے شہروں ، جزیروں اور حتی قصبوں میں غیر متوقع طور پر  دہشت گردوں کا وجود  زور پکڑ جاتا ہے۔ فلپائن  اس حقیقت کی  ٹھوس ترین مثال کے طور پر ہم سب کے سامنے ہے۔

دنیا کے جنوب  سے لیکر شمال تک   کے علاقے میں اسلحہ کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں، تمام تر  آزاد ملک جدید اور مہلک ترین ہتھیاروں کی دوڑ میں  مصروف ہیں۔ ٹیکنالوجی اور اپنے سرمائے  کی بدولت   یہ  دنیا بھر کو آگ کے کسی بگولے   میں دھکیلنے کے درپے رہتے ہیں اور ہم کسی کمپیوٹر گیم کا نظارہ کرنے  کی طرح  اس  جنون پن کا  مشاہدہ کرتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کر پاتے۔

ہم جانتے  بوجھتے ہوئے  اس دُنیاوی قیامت  کی  جانب بھاگے چلے جا رہے  ہیں۔

جب   سائنسدانو ں  نے مصنوعی دماغ بنایا تھا تو انسانوں نے یہ سوال  اٹھایا تھا : کہ کیا ربوٹس دنیا کا  نظام  اپنے ہاتھ میں  لیتے ہوئے بنی نو انسانوں کا خاتمہ  کر دیں گے؟

یہ احتمال   تقریباً  نا ممکن  ہے۔ کیونکہ  مصنوعی  دماغ کو "احساسات" سے لیس کرنا موجوداور آئندہ کی ٹیکنالوجی  کی بدولت  نا ممکن   دکھائی دیتا ہے۔  لیکن  طاقت  کے نشے اور حرص  کے ساتھ  حرکت کرنے  والے حلقے ہماری تہذیب کا خاتمہ  کر سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ   ہماری قوت ہی ہمارا انجام ثابت ہو گی۔

جی ہاں   آج ہم ، انکا   اور مایا   تہذیبوں  کی بلند ترین سطح کے قریب تر  پہنچ چکے ہیں، ہم  جنیاتی اور حیاتیاتی عقل  کے  خیال  کی حد بندی کو  پار کر چکے ہیں۔ ہم اس کامیابی کو  مل جل کر زندگی بسر کرنے  کے طور پر   استعمال کرنے کے بجائے ، اپنے ہی ہم نسلوں کو قتل کرنے ، ان  کے خلاف سامراجیت قائم کرنے اور  اپنی زیر  حاکمیت لانے کے لیے   آلہ  کار بنا رہے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آج  تمام تر ملکوں کے سالانہ  دفاعی اخراجات  کو اگر  فاقہ کشی اور غربت  کے مسئلے کے  حل میں استعمال کریں  تو ان کا باآسانی  قلع قمع کیا جا سکنا کیا  ممکن ہے؟

ہم میں انکا، آزکت  مایا اور دیگر تہذیبوں کا سنگ بنیاد رکھنے والوں  کے جینز  پائے جاتے ہیں، یعنی ہم ان کے پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں  ہیں۔

کئی ایک میدانوں میں  ہمارے آباؤ اجداد کے  پہنچنے والے   مقام  تک  نہ پہنچ سکنے کے باوجود  ہم حرص اور خودی کا اسیر بنتے ہوئے  اپنی اپنی تہذیبوں کو کسی   موت  کے چیمبر  میں دھکیلنے میں کامیابی حاصل کرنے کے قریب ہیں۔  میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بزرگوں نے ہزار  وں برس قبل اپنی   تہذیب وتمدن کی اپنی حرص و طمع   کی خاطر قربانی کر دی تھی۔ کیونکہ  ان  کے اور ہمارے  جینز  ہو بہو ہیں۔



متعللقہ خبریں