ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ۔26

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ۔26

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ۔26

 

امریکہ کی طرف سے   اسد انتظامیہ   کے ایک جنگی طیارے کو راقہ کے قریب مار گرانے اور ایران کیطرف سے دیرے زور پر میزائل حملے کی بنا پر عالمی برادری کی نظریں ان دونوں علاقوں پر مرکوز ہو گئی ہیں ۔   آج کے   اس پروگرام میں ان حملوں کے مشرق وسطیٰ کے علاقے   پر اثرات  کے  موضوع پر اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار  جمیل دوعاچ اپیک  کا  جائزہ  آپ کی خدمت میں پیش  کر رہے ہیں ۔

شام کے مشرقی علاقوں میں ان دو حملوں کی وجہ سے شامی بحران  نئی شکل اختیار کرتے ہوئے مزید  سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے ۔  18 جون کو شامی فوج کے سو۔ 22 قسم کے ایک طیارے کو راقہ کے قریب طبقہ کے جوار پر بمباری کے بعد امریکی ایف سولہ جنگی طیارے نے مار گرایا ۔   امریکہ نے اس کا یہ جواز پیش کیا کہ شامی طیارے نے اس کی حمایتی شامی ڈیموکریٹک قوتوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے جواب میں انھوں نے شامی طیارے کو مار گرایا   اور آئندہ بھی  اگر ان کی حمایتی قوتوں پر اس قسم کا حملہ کیا گیا تو وہ دوبارہ ایسا ہی جواب دے گا ۔  دریں اثناء ایران نے بھی دیرے زور میں موجود داعش کے ٹھکانوں پر میزائل سے حملہ کیا ۔ایران کے مغربی علاقے سے فائر کردہ  اس  میزائل نے  عراق سے گزر کر 600 کلو میٹر کے فاصلے پر داعش کے ٹھکانوں کو  تباہ کیا ۔   یہ حملہ ایران کے بیلیسٹک میزائلوں   کی جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لحاظ سے انتہائی اہم اشارہ ہے ۔

روس  نے امریکہ کی طرف سے شامی طیارے کو مار گرانے کے واقعے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ۔ اس نے امریکہ کیساتھ   جھڑپوں سے پاک علاقے کے معاہدے اور معلومات کے مبادلے کو  روک دینے کا اعلان کیا ۔ روس نے اس عمل درآمد کو پورے شام میں  جاری نہیں رکھا  بلکہ  اس عمل درآمدکا احاطہ روس کی ریڈ لائن فرات کا مغربی علاقہ ہے ۔  مستقبل میں روسی  فضائیہ فرات کے مغربی علاقے میں امریکہ اور حلیف ممالک کی تمام تر سر گرمیوں کا فوجی ہدف  کے طور پر جائزہ لے گی  ۔  اسطرح روس نے امریکہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر دہشت گرد تنظیم پی کے کے کی شام میں شاخ وائے پی جی اور پی وائے ڈی پر مشتمل شامی ڈیموکریٹک قوتوں نے فرات کے مغربی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ان پر بمباری کی جائے گی ۔

 آپ کو یاد ہی ہو گا کہ ترکی  اس بارے میں امریکہ کو بارہا خبر دار کر چکا ہے ۔ ترکی نے تقریباً ایک سال قبل   اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکہ کی زیر نگرانی وائے پی جی قوتیں  فرات کے مغربی علاقے   میں داخل نہ ہوں  ۔ امریکہ کے سابق  وزیر خارجہ جان کیری نے  کئی بار وعدے بھی کیے لیکن ان کی پاسداری نہ کی گئی ۔

 شام کی خانہ جنگی کئی ہزار کلومیٹر کے فاصلے  پر واقع  ممالک کے درمیان بھی  دشمنانہ  شکل اختیار کر گئی ہے ۔ شام کی خانہ جنگی علاقے میں رد عمل کو بھڑکانے کی حد  تک پہنچ گئی ہے ۔ اسوقت امریکہ کی زیر قیادت راقہ کے جوار میں جھڑپیں جاری ہیں ۔  دوسری طرف اسد قوتیں بھی راقہ کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں ۔  جنوب میں التنف کے جوار میں اور اردن کی سر حد پر بھی جھڑپوں کا احتما ل بڑھ گیا ہے ۔

 اگرچہ  شام کے مغربی علاقے میں جھڑپوں میں واضح کمی ہو  ئی ہے لیکن راقہ اور ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقوں  میں داعش کے زیر کنٹرول علاقوں میں جنگ شدت اختیار کر گئی ہے ۔  راقہ اور دیرے زور شہروں میں پٹرول کے وسیع ذخائر موجود ہیں  اور  یہ  شہر  ترکی اور عراق سے قریب ہونے کی وجہ سے بھی سٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہیں ۔  مشرقی علاقوں میں جنگ کے خاتمے اور داعش کے زیر کنٹرول علاقوں کو وا گزار کروانے کے بعد پیدا ہونے والے خلاء کو کس فریق کی  جانب  پر کرنا شام کے مستقبل پر انتہائی اہم اثرات مرتب  کرئے گا ۔

یہ معاملہ   انتہائی اہم ہے کہ شام کے مشرقی علاقے  سے داعش کے انخلاء  کے بعد  کونسا فریق یہاں پر اپنی حاکمیت قائم کرئے گا ۔  جھڑپوں کے بعد  منصوبہ بندی کیے بغیر داعش کے زیر کنٹرول علاقوں کو خالی کرنے سے کئی خطرات سامنے آ جائیں  گے ۔

 یہ صورتحال داعش کے دہشت گردی کے جال کے خطر ناک شکل اختیار کرنے اور داعش سے نئی دہشت گرد تنظیموں کے وجود میں آنے  کا سبب بن سکتی ہے ۔ داعش کی فوجی لحاظ سے پس قدمی اور داعش کے لیڈروں کی ہلاکت  پر عالمی برادری نے خوشی کا ظہار کیا ہے  لیکن دا عش کی وحشیانہ کاروائیوں کی جگہ عراق  اور شام میں  منظر عام پر آنے والے شعیہ ملیشیا اور ایران کی وسعت پسندی کیساتھ مشرق وسطیٰ کی بے رحم تنظیموں میں سے پی کے کے ان کی جگہ لے لینے کے خدشات گہرے ہوتے جا  رہے ہیں ۔  داعش کے بعد ایران کے پیرا ملیٹر اور پی کے کے کے درمیان تقسیم کا احتمال بھی موجود ہے ۔  ان حالات میں امریکہ کی زیر حمایت پی وائے ڈی، وائے  پی جی اور پی کے کے  جھڑپوں کا فریق بن سکتی ہیں ۔  ترکی کے انتباہ کے باوجود  پی کے کے کو نیٹو کے قوائد و ضوابط کے بر خلاف حمایت فراہم کرنے کا بھاری خمیازہ ادا کیا جا سکتا ہے ۔

  مختصراً یہ کہ شام کی خانہ جنگی شمالی او ر جنوبی علاقے میں  ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور  یہ مرحلہ کشیدگی کے بڑھ جانے کی صورت میں سنگین خطرات کا سبب بن سکتا ہے ۔ شام کی صورتحال سے متعلق غلط اندازے عظیم جھڑپوں کا سبب  بن سکتے ہیں  ۔اسد انتظامیہ  اور حلیف ممالک کی طرف سے سر زد غیر انسانی جرائم داعش اور پی کے کے جیسی تنظیموں کے سفاکانہ حملوں نے شامی عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔  اگر غلط پالیسیوں کو جاری رکھا گیا تو شام کی خانہ جنگی کے علاقائی جھڑپوں میں بدل جانے کا خطرہ موجودہے ۔

 

 

 

 



متعللقہ خبریں