پاکستان: اقتصادی خسارے میں مستقل اضافہ

پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے اقتصادی خسارے کا جدول مستقل پھیل رہا ہے۔

پاکستان: اقتصادی خسارے میں مستقل اضافہ

پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے اقتصادی خسارے کا جدول مستقل پھیل رہا ہے۔
سال 2013۔2014کے اقتصادی سروے کے مطابق اقتصادی سال 2013۔2014 کے پہلے نو ماہ "جولائی۔ مارچ" میں اقتصادی نقصان 701 بلین روپے یعنی 6.9 بلین ڈالر رہا۔
گذشتہ 13 سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد ملک نے دہشت گردی کے بلاواسطہ اور بلواسطہ واقعات میں 8264.4 بلین روپے "102.5 بلین ڈالر" کا نقصان اٹھایا ہے۔
تاہم یہ پہلو اہم ہے کہ رواں اقتصادی سال کے نقصانات گذشتہ سال کے مقابلے میں 32.9 فیصد کی حد تک رہے ہیں۔
پاکستان نے سب سے زیادہ اقتصادی خسارہ 2010۔2011 میں برداشت کیا۔ اس واحد سال میں دہشت گردی کی وجہ سے کُل نقصان 2.037 روپے"23.77 بلین ڈالر " رہا۔
اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ "تشدد آمیز انتہا پسندی اور دہشت گردی نے پاکستان کی معمول کی اقتصادیات اور تجارت کو تہس نہس کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف کاروبار میں مصارف میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پیداواری چکر میں بھی تعطل پیدا ہوا ہے۔ نتیجتاً دنیا بھر سے برآمدی طلب کو پورا کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہوتی رہی اور یوں پاکستانی مصنوعات اپنے رقیبوں کے مقابلے میں بتدریج مارکیٹ شیئر محروم ہوتی رہی ہیں"۔
اقتصادی سروے کے مطابق "پاکستان کو انفراسٹرکچر کے نقصانات کو پورا کر کے سرمایہ کاری کے لئے ایک جاذب فضاء تشکیل دینے اور اپنی پیداواری صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے وسیع مقدار میں وسائل کی ضرورت ہے"۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے متوازن بہاو کے لئے سکیورٹی کی صورتحال بہت اہمیت کی حامل ہے۔
سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی اقتصادیات کی بحالی افغانستان کے مسئلے کے فوری حل کی متقاضی ہے۔


ٹیگز:

متعللقہ خبریں