نواز شریف کا تمام سیاسی جماعتوں پر گول، تمام سیاسی رہنما ہکا بکا، آپس میں صلاح مشورے شروع

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ نگران حکومت کے حوالے سے واضح قانون نہیں ہے اس کے لیے ترامیم ہونی چاہئیں، نگران وزیر اعظم کا انتخاب حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کرنا چاہیے عبوری حکومت کیلئے سیاسی جماعتوں کو مل کر بیٹھنا چاہیے

نواز شریف کا تمام سیاسی جماعتوں پر گول، تمام سیاسی رہنما ہکا بکا، آپس میں صلاح  مشورے شروع

 سابق وزیر اعظم نواز شریف نے نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے آئینی ترمیم کی تجویز پیش کردی۔ کہتے ہیں نگران حکومت کے حوالے سے واضح قانون نہیں ہے، عبوری حکومت کیلئے سیاسی جماعتوں کو مل کر بیٹھنا چاہیے۔ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے سب کے ساتھ  مل بیٹھنے کے لیے تیار ہوں ۔

نواز شریف کی جانب سے  اس مطالبے پر تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہکیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو نواز شریف کی جانب سے  آئین   میں  نگران حکومت سے متعلق ترمیم کی ہرگز توقع نہ تھی اسلیے  تمام سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے سے صلاح مشورے   شروع کردیے ہیں۔
احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ نگران حکومت کے حوالے سے واضح قانون نہیں ہے اس کے لیے ترامیم ہونی چاہئیں، نگران وزیر اعظم کا انتخاب حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کرنا چاہیے عبوری حکومت کیلئے سیاسی جماعتوں کو مل کر بیٹھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نگران حکومت سے متعلق اہم ہے کہ اس کا دائرہ کار متعین کیا جائے، نگران حکومت کے اختیارات پر بھی بات ہونی چاہیے، نگران حکومت کواختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرا تو کسی ادارے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، کارکردگی کے باوجود ای سی ایل میں نام ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے،  سارا معاملہ ہی کالا لگتا ہے جب کہ عوام نے نہ یہ فیصلہ مانا اور نہ ہی مانیں گے۔ نوازشریف نے کہا کہ ہرشعبے میں فرق صاف نظرآرہا ہے، 2013 اور آج کی معیشت میں زمین آسمان کا فرق ہے، لوڈ شیڈنگ ختم، ایٹمی دھماکے، کراچی کا امن بحال کرنے والا عدالت میں بیٹھا ہے اور ملک میں آئین کی بالادستی کیلئے سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ واجد ضیاء مشرف کو ملنے کے لیے کئی گھنٹے تک چک شہزاد کھڑے رہتے تھے، اقامہ کو بنیاد بنا کر پہلے وزارت عظمی پھر پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا اور اب اسی فیصلے کو بنیاد بنا کرتاحیات نا اہل کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ کسی قسم کی کرپشن کا الزام ثابت ہوا نہ سامنے آیا، ضمنی ریفرنس دائرکرنے کے مقصد پر سوالیہ نشان ہے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ کراچی، پنجاب اورپشاوردیکھ لیں، فرق صاف ظاہر ہے، ڈالرکی قیمت 2013 کے بعد کیا تھی اور اب کدھر گئی سب کے سامنے ہے، بلوچستان کی اسمبلی میں تبدیلی لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ نواز شریف نے عمران خان کے جلسوں پر تبصرہکرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی تو آگئی ہے، ،عمران خان پہلے مینار پاکستان پر جلسے کرتے تھے اب گلی محلوں میں کرتے ہیں۔

نوازشریف نے کہا کہ بلاول بھٹوغلط کہتے ہیں کہ (ن) لیگ چارٹرآف ڈیموکریسی سے پیچھے ہٹی، چارٹرآف ڈیموکریسی کے بعد جو این آراو کیا گیا اس نے نقصان پہنچایا۔ نواز شریف نے پیپلز پارٹی سے متعلق کہا کہ پیپلز پارٹی کے حالیہ کردار کی وجہ سے ان سے بہت مایوس ہوا۔



متعللقہ خبریں