اقوام متحدہ کشمیر کی  وادی کو غیر فوجی علاقہ قرار دے، وزیراعظم نوازشریف

وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ دنیا میں مسائل اور غربت بڑھ گئی ہے اوریہی دہشت گردی اور نا انصافی کی بڑی وجہ ہے۔

574822
اقوام متحدہ کشمیر کی  وادی کو غیر فوجی علاقہ قرار دے، وزیراعظم نوازشریف

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ دنیا میں مسائل اور غربت بڑھ گئی ہے اوریہی دہشت گردی اور نا انصافی کی بڑی وجہ ہے جب کہ نا انصافی سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ داعش کو شکست دینے کے لیے عالمی کوششیں ضروری ہیں اور دہشت گردی کی بنیاد کو سمجھے بغیر اس کا تدارک نہیں کرسکتے۔پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں قربان کیں اور آپریشن ضرب عضب دہشت گردی کے خلاف دنیا کا سب سے کامیاب آپریشن ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان أفغانستان کی  سرزمین پر بھی امن و استحکام کا خواہاں ۔ افغانستان میں مذاکرات سے ہی امن آسکتا ہے۔ پاکستان نے 30 لاکھ افغان مہاجرین کے لیے دل اور ملک کے دروازے کھولےہیں ۔ وزیراعظم نے مسئلہ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ عالمی توجہ کا منتظر ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی نئی نسل بھارت کے قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور بھارت تحریک آزادی کو دبانے کے لیے مظالم کررہا ہے لیکن بھارتی مظالم سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز انسانیت سوزتشدد کررہی ہیں۔ بھارتی فورسز نے تحریک آزادی کے نوجوان لیڈر برہان وانی سمیت ہزاروں کشمیریوں کو شہید کردیا اور کتنے ہی زخمی اور نابینا ہوگئے جب کہ برہان وانی کشمیری نوجوان کے لیے مثال بن گئے۔

وزیراعظم نوازشریف نے بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر عالمی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں پر پیلیٹ گن استعمال کررہی ہے۔تحریک آزادی دبانے کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا۔کشمیریوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کا 70 سال انتظار کیا۔ اقوام متحدہ وادی میں کرفیو ختم کرائے اور اسے غیر فوجی علاقہ قرار دے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو حق خود ارادیت سے محروم نہیں رکھا جاسکتا، ہم مقبوضہ کشمیر میں سلامتی کونسل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت میں امن نہیں ہوسکتا۔بھارت مذاکرات کے عمل کو مشروط کررہا ہے اور بھارت نے مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط رکھیں جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن اور کشمیر سمیت ہر مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات چاہتا ہے کیونکہ مذاکرات ہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں  لیکن بھارت کی شرائط کے باعث مذاکراتی عمل شروع نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہتھیار جمع کرنے پر تشویش ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ ہتھیار کی دوڑ نہیں چاہتا۔ وزیراعظم نوازشریف نے نیو کلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت سے متعلق کہا کہ پاکستان اس گروپ کی رکنیت کا حقدار ہے۔



متعللقہ خبریں