منبچ سے YPG کے انخلاء کے بعد علاقے کی سکیورٹی ترکی اور امریکہ کے ہاتھ میں ہو گی

YPG کسی بھی شکل میں علاقے میں نہیں رہے گی۔تنظیم کے منبچ سے انخلاء کے بعد وہاں ترک اور امریکی فوجی ہوں گے اور ہم علاقے سے YPG کے انخلاء کو کنٹرول کریں گے: میولود چاوش اولو

منبچ سے YPG کے انخلاء کے بعد علاقے کی سکیورٹی ترکی اور امریکہ کے ہاتھ میں ہو گی

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK کی شامی شاخ YPG کے منبچ سے نکلنے کے بعد علاقے کی سکیورٹی کا انتظام ترکی اور امریکہ کی طرف سے کیا جائے گا۔

چاوش اولو دو طرفہ ملاقاتوں کے سلسلے میں روس کے دارالحکومت ماسکو کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 19 مارچ کو وہ اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن کے ساتھ واشنگٹن میں مذاکرات کریں گے اور ان مذاکرات میں منبچ کی صورتحال کی حتمی شکل واضح ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں اس بات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ YPG کی موجودگی کے علاقوں میں قیام استحکام کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہےا ور یہاں کے انتظام کو کیسے چلایا جا سکتا ہے۔ تاہم ہمارا بنیادی اصول یہ ہے کہ علاقے کا انتظام و انصرام    آبادی کی شرح  کے مطابق ہونا چاہیے۔

چاوش  اولو نے کہا کہ YPG کسی بھی شکل میں علاقے میں نہیں رہے گی۔تنظیم کے منبچ سے انخلاء کے بعد وہاں ترک اور امریکی فوجی ہوں گے اور ہم علاقے سے YPG کے انخلاء کو کنٹرول کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ  یہاں کی سکیورٹی ترکی اور امریکہ کے ہاتھ میں ہو گی ۔ ہم اس ماڈل کو پہلے منبچ میں عملی جامہ پہنائیں گے اور بعد ازاں دیگر مقامات پر اس کا اطلاق کریں گے۔ یہ اصول راقہ کے لئے بھی، دریائے فرات  کے مشرق کے لئے بھی اور YPG کے زیر کنٹرول دیگر مقامات کے لئے بھی قابل عمل ہو گا۔

ان علاقوں میں سکیورٹی کو یقینی بنائے جانے اور تمام اقدامات کے متعینہ تاریخوں کے مطابق ہونے کے پہلو پر زور دیتے ہوئے وزیر خارجہ چاوش اولو نے کہا کہ 19 مارچ کے اجلاس میں روڈ میپ ، تاریخوں کے ساتھ واضح ہو جائے گا ۔ کتنے عرصے میں کیا کیا جائے گا؟ دوسری طرف کیسے جایا جائے گا؟ ان سب سوالوں کا جواب واضح ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ اجلاس میں ہمارے اختلافات کے پہلو ہو سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک نقطہ نظر کی طرف سفر جاری ہے۔

چاوش اولو نے کہا کہ اس وقت منبچ کے موضوع پر شامی انتظامیہ سے ہماری کوئی طلب نہیں ہو گی  اور ہم امریکہ کی طرف سے YPG کو تقسیم کئے گئے اسلحے کو واپس جمع کرنے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یقیناً پورے کا پورا اسلحہ واپس اکٹھا نہیں کیا جا سکتا بعض کمیاں ہوں گی کچھ اسلحہ لاپتہ ہو چکا ہو گا لیکن جیسا کہ اس سے قبل امریکہ کے صدر بھی کہہ چکے ہیں ہم یہ اسلحہ واپس اکٹھا کریں گے اور اس کو ہم ورکنگ گروپ کاروائیوں کا آغاز ہونے پر دیکھیں گے۔



متعللقہ خبریں