ممتاز ترک نژاد کھلاڑی مسعود اوزاِل نے جرمن قومی ٹیم کو خیرآباد کہہ دیا

گرینڈل کی طرح کے بعض جرمن لوگوں کے لیے ٹیم کی جیت کے وقت میں  جرمن، ہارنے کے وقت  مہاجر بن جاتا ہوں

ممتاز ترک نژاد کھلاڑی مسعود اوزاِل نے جرمن قومی ٹیم کو خیرآباد کہہ دیا

ترک نژاد جرمن فٹ بالر مسعود اوز اِل  نے جرمن قومی ٹیم سے  علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مسعود اوزاِل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے اعلان میں کہا ہے کہ میں جرمن قومی ٹیم میں اپنے کیریئر  کو نکتہ  پذیر کررہا ہوں، میں نے جرمنی کے لیے   2009 سے 92 بار  قومی میچ کھیلتے ہوئے  23 گول اسکور   کیے ہیں۔

جرمن قومی ٹیم  کا  2014 میں عالمی کپ جیتنے اور 2010 میں تیسری  پوزیشن  حاصل  کرنے   کا ایک حصہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے  ممتاز کھلاڑی نے بتایا ہے کہ "نسل پرستی اور بد تمیزی    کا نشانہ بننے    والے  حالیہ واقعات  نے مجھے اس بات پر قائل کیا ہے کہ میں اب عالمی سطح پر جرمنی کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔  میں  اس ملک کے یونیفارم کوبڑے فخر اور ہیجان کے ساتھ پہنا کرتا تھا لیکن اب میں  ان جذبات کو محسوس نہیں کرتا۔  میرے لیے یہ فیصلہ کرنا انتہائی کٹھن تھا کیونکہ  قومی ٹیم کے دوستوں ، ٹرینرز اور جرمن  عوام کے لیے میں نے پوری جان لگائی ہے۔  تا ہم جرمن فٹ بال فیڈریشن  کے اعلی سطحی  منتظمین  کے  میرے نژاد ہونے کا احترام نہ کرنے اور اسے سیاسی آلہ کار بنانے  نے مجھے  اس دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔  نسل پرستی اور تفریق بازی  کو ہر گز قبول  نہیں کیا جا سکتا۔"

29 سالہ فٹ بالر نے صدر رجب طیب ایردوان  سے ملاقات کرنے کے باعث   مسعود اوز اِل  اور ایک دیگر ترک نژاد جرمن فٹ بالر الکائے گن دوآن  کو  انتخابی مہم  کا آلہ کار بننے کی الزام تراشی کرنے والے جرمن فٹ بال فیڈریشن  کے صدر رین ہارڈ گرینڈل  کے غیر حق بجانب مؤقف پر  کڑی نکتہ چینی کی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ گرینڈل کی طرح کے لوگوں کے لیے جیت کے وقت میں  جرمن، ہارنے کے وقت  مہاجر بن جاتا ہوں۔  جرمنی میں ٹیکس کی ادائیگی، اسکولوں کو عطیات دینے، قومی ٹیم کے ساتھ  عالمی  کہ جیتنے کے باوجود  مجھے معاشرہ  قبول نہیں کرتا اور میرے ساتھ مختلف برتاؤ روا رکھا گیا ہے۔  میری ٹیم میں  پولش نژاد   جرمن کھلاڑی بھی موجود ہے اس کے ساتھ میرے جیسا برتاؤ نہیں کیا جاتا۔ میرے  ساتھ  اس تفریق بازی کی وجہ کیا میرا ترک نژاد اور مسلمان ہونا ہے؟

انہوں نے  جرمن میڈیا پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جرمن میڈیا میں دہری شہریت کی بنا پر مجھے مورد الزام ٹہرانا اور محض ایک تصویر  کی وجہ سے عالمی کپ میں ٹیم کی ناکامی کو پیش کرنا   ایک  غیر اخلاقی فعل ہے۔

 



متعللقہ خبریں