ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں 14.08.18

ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں 14.08.18

ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں 14.08.18

*** روزنامہ اسٹار "ترکی کو اقتصادیات میں ایک محاصرے کا سامنا ہے" کی سرخی کے ساتھ شائع کردہ خبر میں لکھتا ہے کہ  صدر رجب طیب ایردوان نے کل صدارتی سوشل کمپلیکس میں سفیروں کی 10 ویں کانفرنس میں ظہرانے  کے دوران شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پابندیاں  صدر ٹرمپ کے من چاہے فیصلے ہیں۔ حالیہ سالوں میں  حاصل کردہ بین الاقوامی کامیابیوں کی وجہ سے ترکی کو  ہدف بنایا جا رہا ہے اور دیگر شعبوں کی طرح اقتصادیات میں بھی ترکی کو ایک محاصرے کا سامنا ہے۔

 

*** روزنامہ خبر ترک " ترک اقتصادیات کا ڈھانچہ مضبوط ہے" کی سرخی کے ساتھ لکھتا ہے کہ صدارتی دفتر کے ترجمان ابراہیم قالن نے  حالیہ پیش رفتوں کے بارے میں  ٹویٹر پیج سے پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہماری وزارت خزانہ، مرکزی بینک،   بینکنگ ریگولیٹری اینڈ سُپر وائزری ایجنسی، اسٹاک ایکسچینج کمیشن اور دیگر ادارے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ ترک اقتصادیات کی ساخت مضبوط ہے ۔ کوئی بھی افواہوں پر کان نہ دھرے۔ ترکی اس مرحلے سے مزید مضبوط ہو کر نکلے گا۔

 

*** روزنامہ صباح "وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کی طرف سے ترکی میں سرمایہ کاری کی اپیل" کی سرخی کے ساتھ شائع کردہ خبر میں لکھتا ہے کہ وزیر خزانہ میولود چاوش اولو نے  سفیروں کی 10 ویں کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں کہا ہے کہ اس وقت  ترکی مختلف برّاعظموں کے 74 ممالک سے سرمایہ کاری حاصل کر رہا ہے  کہ جن کا تقریباً تقریباً نصف حصہ برّ اعظم یورپ کے ممالک پر مشتمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی  زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لئے ہم سب مل کر کام کرنا جاری رکھیں گے۔ میں یہاں سے ایک دفعہ پھر پوری دنیا کو   ترکی میں  سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیتا  ہوں۔ میولود چاوش اولو نے کہا کہ ہر طرح کے آپریشنوں، ہر طرح کی کمپینوں اور دنیا کو درپیش امتحانوں کے باوجود اس وقت ترکی سرمایہ کاری کے لئے موزوں ترین اور درست ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔

 

*** روزنامہ ینی شفق "جرمنی کے بیان پر ہمیں خوشی ہے" کی سرخی کے ساتھ شائع کردہ خبر میں لکھتا ہے کہ وزیر خزانہ بیرات آل بائراک نے کہا ہے کہ امریکہ کے حالیہ ترکی مخالف اقدامات کے بارے میں جرمنی کے وزیر اقتصادیات کے بیانات پر ہمیں مسرت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیک نیتی اور ڈپلومیسی کا دفاع کرنے والے سیاست دان، جرمنی اور امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات  کے لئے ترک عوام کے اعتبار کو بحال کریں گے۔ واضح رہے کہ جرمن حکومت نے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ترک اقتصادیات کی مضبوطی ہمارے بھی مفاد میں ہے۔ ہم حالات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

 

*** روزنامہ حریت "عراقی سیاح سب سے زیادہ ترکی کو ترجیح دے رہے ہیں" کی سرخی کے ساتھ لکھتا ہے کہ ترکی اپنے تاریخی اور قدرتی حسن کی وجہ سے بتدریج عراقی سیاحوں کا منظورِ نظر بنتا جا رہا ہے۔ عراق کے جنوبی  صوبوں  میں  سے خاص طور پر کیرکوک اور اربیل سے آ کر ترکی کی ٹوئر ازم فرموں  کے سیاحتی ٹوئروں میں شامل ہونے والے سیاحوں کی تعداد  میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کیرکوک کی ایک ٹوئر ازم فرم کے منتظم ہدایت مہدی نے کہا ہے کہ ماہِ جون سے لے کر اب تک صرف کیرکوک سے یومیہ کم از کم 500 سیاح ترکی گئے ہیں۔



متعللقہ خبریں