ہوسکتا ہےکہ سعودی ولی عہد خاشقجی قتل میں ملوث ہوں : ٹرمپ

صدر  ٹرمپ نے کہا ہے جامل خاشقجی سے متعلقہ سی آئی اے کی رپورٹ   قبل ازوقت   ہے حتمی رپورٹ آنے تک کچھ نہیں کہہ سکتے مگر ایسا ہوسکتا ہے کہ قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا ہو

ہوسکتا ہےکہ سعودی ولی عہد خاشقجی قتل میں ملوث ہوں : ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد نے دیا ہو۔

خبر  کے مطابق، سعودی صحافی کے قتل کے معاملے پر امریکی حکام حتمی رپورٹ تیار کرنے میں مصروف ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حتمی رپورٹ منگل تک آجائے گی جو ہوا بہت برا ہوا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔

 ٹرمپ نے کہا کہ سی آئی اے کی رپورٹ   قبل     ازوقت   ہے ،  حتمی رپورٹ آنے تک کچھ نہیں کہہ سکتے مگر ایسا ہوسکتا ہے کہ قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا ہو۔

واضح رہے کہ امریکی میڈیا نے دعوی کیا تھا کہ سی آئی اے نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد نے دیا جبکہ سعودی عرب نے سی آئی اے سے منسوب دعویٰ مسترد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکہ  نے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 17 سعودی حکام پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کردئیے تھے۔

خیال رہے کہ 2 اکتوبر میں سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی سفارت خانے گئے تھے جہاں انہیں قتل کردیا گیا تھا جبکہ 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سفارت خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کیا گیا۔

 



متعللقہ خبریں