امریکہ: ایران اپنے روّیوں میں تبدیلی لائے ہمارا ہدف انتظامیہ کو تبدیل کرنا نہیں ہے

بلاشبہ مالیاتی معنوں میں ایرانی اقتصادیات پر ان پابندیوں کے نہایت اہم اثرات ہوں گے تاہم ہمارا مقصد ایران میں کسی قسم کی انتظامی تبدیلی کروانا نہیں ہے: وزارت خارجہ

امریکہ: ایران اپنے روّیوں میں تبدیلی لائے ہمارا ہدف انتظامیہ کو تبدیل کرنا نہیں ہے

امریکہ کی وزارت خارجہ سے اعلیٰ سطحی حکام نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ایران پر سخت پابندیوں کا اجراء ایرانی اقتصادیات پر نہایت اہم اثرات مرتب کرے گا۔

صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کے بعد آج صبح 7 بجے سے مذکورہ پابندیاں نافذ العمل ہو گئی ہیں اور اس کے پہلے مرحلے کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے حکام نے کہا ہے کہ بلاشبہ مالیاتی معنوں میں ایرانی اقتصادیات پر ان پابندیوں  کے نہایت اہم اثرات ہوں گے۔ تاہم ہمارا مقصد ایران میں کسی قسم کی انتظامی تبدیلی کروانا نہیں ہے۔

حکام نے کہا کہ ہم منتظر ہیں کہ ایران اپنے روّیوں میں تبدیلی لائے ہمارا ہدف انتظامیہ کو تبدیل کرنا نہیں ہے۔

امریکہ کے ایران پر  لگائی جانے والی پابندیوں سے متعلق کوئی گلوبل کولیشن قائم نہ کرنے  کے بارے میں تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے حکام نے کہا ہے کہ ایران کے مہلک روّیوں کے خلاف ہم ایک گلوبل کولیشن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم واضح اور کھلے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ اس موضوع پر ہم صدارتی فیصلے کا سخت شکل میں اطلاق کریں گے اور دیگر اختیارات کا استعمال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ  ہم دیگر ممالک کے ساتھ بھی بات کر رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف  ایسا ہی  طرز عمل اختیار کریں لیکن کسی کو شبہ نہ ہو کہ ہم اپنے اختیارات استعمال کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مشترکہ وسیع عملی پلان JCPOA  ، 20 ماہ  پر محیط مذاکرات کے بعد جولائی 2015 میں ایک طرف ایران اور دوسری طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین امریکہ، جرمنی، برطانیہ، چین، روس، فرانس اور یورپی یونین   پر مشتمل دو فریقوں کے درمیان طے پایا تھا۔ 

مذکورہ سمجھوتہ تہران کے  جوہری پروگرام کے خاتمے کے مقابل اس ملک پر عائد بین الاقوامی پابندیوں  کے خاتمے پر مبنی تھا۔

تاہم رواں سال کے ماہِ مئی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرنے کے بعد امریکہ کی وزارت خزانہ نے ایران کے خلاف پابندیوں کے 90 اور 180 روزہ  2 مراحل  میں دوبارہ سے اطلاق کا اعلان کیا تھا۔



متعللقہ خبریں