برطانیہ میں  نئے وزیراعظم  کے انتخاب کی تیاریاں

برسر اقتدار کنزرویٹو پارٹی کے لیے ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کے نتیجے میں آج تھریسا مے کے مقابلے میں اینڈریا لیڈسم حتمی امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں جس سے یہ بات واضح ہوگئی ہےکہ برطانیہ کی اگلا متوقع وزیر اعظم ایک خاتون ہوں گی

برطانیہ میں  نئے وزیراعظم  کے انتخاب کی تیاریاں

برطانیہ میں  نئے وزیراعظم  کے انتخاب کی تیاریاں۔
برسر اقتدار کنزرویٹو پارٹی کے لیے ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کے نتیجے میں آج تھریسا مے کے مقابلے میں اینڈریا لیڈسم حتمی امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں جس سے یہ بات واضح ہوگئی ہےکہ برطانیہ کی اگلا متوقع وزیر اعظم ایک خاتون ہوں گی۔

برسر اقتدار ٹوری پارٹی کے تین اہم امیدواروں میں سے تھریسا مے اور اینڈریا لیڈسم برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم بننے کی جنگ لڑیں گی، جبکہ بریگزٹ مہم چلانے والے اہم سیاست دان مائیکل گو جمعرات کو بڑے پیمانے پر حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہونےکے بعد کنزرویٹیو پارٹی کی قیادت کے مقابلے سےخارج ہوگئے ہیں۔

قدامت پسند جماعت کی منجھی ہوئی سیاست دان تھریسا مےنے ارکان پارلیمنٹ کے فائنل بیلٹ میں 199 ووٹ حاصل کئے ہیں ان کے مقابلے میں 84 ارکان پارلیمنٹ اینڈریا لیڈسم کو پارلیمانی لیڈر منتخب کرنا چاہتے ہیں اورمائیکل گو 46 ووٹوں کی حمایت کے ساتھ دونوں سے پیچھے ہیں۔

تھریسامے ٹوری پارٹی کی قیادت کی دوڑ میں سب سے مقبول امیدوار ثابت ہوئی ہیں جنھوں نے ٹوری قیادت کے متوقع امیدوار جسٹس سیکریٹری مائیکل گوکو بھاری ووٹوں سے شکست دے کر مقابلے سےباہر کردیا ہے۔

مقررہ حتمی نتیجے کے ساتھ یہ واضح ہوگیا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر ٹین ڈاوننگ میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جگہ سنبھالنے کے لیے تھریسا مئے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔

اس نتیجے کا مطلب یہ ہے کہ ستمبر کے مہینے میں برطانیہ مارگریٹ تھیچر کے بعد اپنی تاریخ کی دوسری خاتون وزیر اعظم دیکھےگا جس کا انتخاب ملک بھر سے ٹوری پارٹی کے اراکین کے ووٹوں سے کیا جائے گا۔

کنزرویٹیو پارٹی کے اگلے سربراہ کا فیصلہ پارٹی کے عہدیدارن ایک پوسٹل بیلیٹ کے ذریعے کریں گے جبکہ اینڈریا لیڈسم اور تھریسا مے کے درمیان فاتح کا اعلان 9 ستمبر تک کیا جائے گا۔



متعللقہ خبریں