جو یہ کہتے  ہیں کہ ترکی  نے داعش کی مدد کی ہے وہ ترکی کے دشمن ہیں

امریکہ اور اتحادی فورسز سمیت متعدد ممالک مستقل داعش پر بمباری کر رہے ہیں لیکن وہ انہیں آخر ختم کیوں نہیں کر پا رہے؟ اس لئے کہ اس دہشت گرد تنظیم کو قائم کرنے والی قوتیں جب اپنے مقاصد کو پا لیں گی تو داعش جیسی کسی دہشت گرد تنظیم  کا وجود تک نہیں رہے گا

556908
جو یہ کہتے  ہیں کہ ترکی  نے داعش کی مدد کی ہے وہ ترکی کے دشمن ہیں

ترکی کے وزیر انصاف بکر بوزداع نے کہا ہے کہ "جو یہ کہتے  ہیں کہ ترکی  نے داعش کی مدد کی ہے وہ ترکی کے دشمن ہیں"۔

اپنے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ پیغام میں بکر بوزداع نے کہا ہے کہ داعش ایک بین الاقوامی پروجیکٹ دہشت گرد تنظیم ہے۔

داعش کا مقصد انسانوں کے دلوں میں اسلام، قرآن، سنت، حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کر کے  انہیں  دشمنی پر ابھارنا  اور ان سے یہ کہلوانا ہے کہ "اگر اسلام اسی کا نام ہے تو میں غیر مسلم ہی اچھا"۔

انہوں نے کہا کہ  اس  پروجیکٹ دہشتگرد تنظیم کو قائم کرنے والوں کے دیگر مقاصد ، مشرق وسطیٰ اور علاقے کے سیاسی اہداف کو پورا کرنے کے لئے ،موزوں شرائط  اور حالات  پیدا کرنا ہیں۔

بوز داع نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے دہشت گرد  140 سے زائد ممالک میں  موجود ہیں ، اور یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ ،مختلف رنگ و نسل ، تعلیم و تربیت ، تہذیب و ثقافت  اور زبان ودین والے  اتنے کثیر  تعداد میں دہشت گردوں کو امریکہ سے آسٹریلیا سے ، یورپی کونسل  سے افریقہ اور ایشیائی ممالک سے کون  اور کس طریقہ عمل کے تحت دہشتگردی پر مائل کر رہا ہے ۔

وزیر انصاف بکر بوزداع نے کہا کہ امریکہ اور اتحادی فورسز سمیت متعدد ممالک مستقل داعش پر بمباری کر رہے ہیں لیکن وہ انہیں آخر ختم کیوں نہیں کر پا رہے؟ اس لئے کہ اس دہشت گرد تنظیم کو قائم کرنے والی قوتیں جب اپنے مقاصد کو پا لیں گی تو داعش جیسی کسی دہشت گرد تنظیم  کا وجود تک نہیں رہے گا۔

انہوں نے اس افتراع کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہ ترکی داعش کی مدد کر رہا ہے ،کہا کہ جو لوگ یہ تہمت طرازی کر رہے ہیں وہ ترکی کے دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ترکی پر  یہ تہمت لگا رہے ہیں وہ اصل میں اس بین الاقوامی داعش منصوبے کے ساتھ تعاون کرنے والے لوگ ہیں۔

بکر بوز داع  نے کہا کہ دہشتگرد تنظیم داعش  اسلام کی بھی اور ترکی کی بھی دشمن ہے اور اس بین الاقوامی دہشت گرد داعش پروجیکٹ کے خلاف جدوجہد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔



متعللقہ خبریں