چین میں آبِ حیات کی دریافت

صوبہ ہنان میں ماہرین آثار قدیمہ نے ایک قدیم قبر سے آبِ حیات سے بھری کانسی کی صراحی دریافت کر لی

چین میں آبِ حیات کی دریافت

چین میں ایک قدیم قبر سے "امرت رس  "کی  دریافت ہوئی ہے۔

صوبہ ہنان  میں ماہرین آثار قدیمہ  نے ایک قدیم قبر سے ایک کانسی کی صراحی دریافت کی ہے۔

صراحی  میں موجود محلول کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اسے    202 قبل مسیح سے 8 عیسوی کے درمیانی عرصے میں حکومت کرنے والے باتی خان  خاندان کے دور میں "آبِ حیات " کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

شین خوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق صراحی لیویانگ شہر میں ایک اثر و رسوخ والے کنبے کی قبر سے دریافت ہوئی ہے اور اس  میں 3.5 لیٹر محلول ہے۔

محلول کی بُو الکحل جیسی ہونے کی وجہ سے ماہرین آثار قدیمہ نے اسے اس دور کی شراب سمجھا تاہم لیبارٹری تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ  محلول  پوٹاشئیم نائٹریٹ اور  ایلونائٹ کا مرکب ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم تاو متون میں محلول میں موجود اجزا کا ذکر "آبِ حیات"  کی شکل میں کیا گیا ہے۔

محققین کے مطابق 210 مربع میٹر  قبر میں محلول کے علاوہ تانبے کی اشیاء بھی ملی ہیں۔



متعللقہ خبریں