پاکستان ڈائری - 04

زینب کی کہانی جویریہ کی زبانی

پاکستان ڈائری - 04

پاکستان ڈائری - 04

زینب کی کہانی جویریہ کی زبانی 

میرا نام زینب ہے آج سے بیس سال پہلے جب میں 7 سال کی تھی تو صرف ایک بار گھر سے باہر امی کے دوائی خریدنے نکلی۔میری امی کو اچانک پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا وہ بے ہوش ہورہی تھی میں نے جلدی سے انکی دوائی کا کور اٹھایا پیسے لئے اور گھر سے نکل گئ ۔گھر پر کوئی نہیں تھا میں پہلی بار گھر سے اکیلے نکلی تھی میں بھاگ بھاگ کی مارکیٹ کی طرف جارہی تھی سانس پھولی ہوئی تھی ۔میں نے شلوار قمیض کے ساتھ چھوٹا سا ڈوپٹہ پہن رکھا تھا۔امی ہمیشہ باہر جانے سے پہلے مجھے دوپٹہ دے دیتی تھی ۔میرے کاندھے اتنے چھوٹے تھے کہ دوپٹہ گرتا رہتا تھا اور مجھے گرہ لگانی پڑتی تھی۔کبھی کبھی امی سیفٹی پن کے ساتھ لگا دیتی تاکہ میرے کپڑوں پر سے دوپٹہ گرے نا۔میں بھاگتی ہوئی میڈیکل سٹور پہنچی دوائی خریدی اور واپس آرہی تھی کہ بیکری والے دوکاندار نے میرا بازو پکڑ لیا۔مجھے کہنے لگا اور بیکری میں آو تمہارے اور دوست بھی آئے ہوئے ہیں ۔میں نے کہا مجھے جانا ہے لیکن وہ مجھے کھینچ کر بیکری میں لے گیا۔وہاں کوئی نہیں تھا میں نے کہا مجھے جانے دو ۔وہ مجھے دبوچ کر بیکری کے پچھلے حصے میں لے گیا ۔میرے ہاتھ سے دوائی اور پیسے گرگئے ۔میں نے اسکو بہت کہا مجھے جانے دو وہ کہنا لگا بس تھوڑی دیر کی بات ہے۔اس آدمی نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور سر پر سفید ٹوپی اور چہرے پر داڑھی بھی تھی۔اس نے میرا دوپٹہ نوچ کر پھینک دیا مجھے غلط انداز میں چھونا شروع کردیا ۔میں بلکل سن ہوگی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔اس سے پہلے وہ میرا ریپ کرتا بیکری میں دو گاہک داخل ہوگئے اسکو آوازیں دینے لگے۔مجھے تو 7 سال کی عمر ریپ کا مطلب بھی نہیں پتہ تھا۔جس عمر میں اس نے مجھے پکڑ رکھا تھا ۔وہ مجھے کاٹ رہا تھا نوچ رہا تھا۔پر گاہکوں کی آوازوں سے وہ روک گیا ۔

میں نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے روتے ہوئے دوائی اٹھائی اور وہاں سے بھاگ گی پر میرا چھوٹا سا دوپٹہ وہاں ہی رہ گیا ۔اس وقت بھی میرے دماغ پر امی کی دوائی تھی ۔گھر اگر میں کتنی دیر باتھ روم میں روتی رہئ۔کپڑے بدلے زخموں پر کریم لگائی گھر میں کسی کو نہیں بتایا۔مجھے راتوں کو ڈر لگتا تھا ، بار بار باتھ روم جاتی ہاتھ دھوتی رہی، ایسا لگتا تھا جیسے مجھ پر گندگی لگ گئ ہے ۔میں اکثر ضد کرکے اپنے کمرے کے بجائے امی ابو کے ساتھ سوتی۔سکول گھر کھیل کے میدان مجھ پر ایک بوجھ رہتا۔میں نے ہنسنا کھانا اور بولنا ہم کردیا ۔

میں آج تک ان دو لوگوں کو دعاء دیتی ہو جن کی وجہ سے میرا ریپ اور قتل ہونے سے رہ گیا جن کے نا مجھے نام معلوم ہیں نا چہرے لیکن ہر نماز کے بعد ان کے لئے میرے دل سے دعاء نکلتی ہے کہ اللہ نے انکو میری مدد کے لئے بھیجا تھا ۔تاہم ہر وقت میں اس شخص کے لئے بدعاء کرتی ہو جس نے مجھے پکڑا اور زیادتی کی کوشش کی نا مجھے اس کا نام معلوم ہے نا ہی اسکی منحوس شکل ٹھیک سے یاد ہے۔اس کا صرف غلط انداز میں مجھے چھونا اور ہاتھ لگانا ساری زندگی کے لئے بیمار کرگیا۔

مجھے مارکیٹ جانے سے ڈر لگتا ہے ،مجھے لوگوں سے ملنے سے ڈر لگتا ہے میں نے بمشکل اپنی تعلیم مکمل کی اور آج تک دوائیاں کھا رہی ۔میری شادی ہوئی اور ختم ہوگی کیونکہ میرا شوہر مجھے دماغی مریضہ کہتا اور مجھے گالیاں دیتا ۔میری نفسیاتی بیماری میری اختیار میں نہیں تھی پھر ایک دن اس نے مجھے طلاق دے دی ۔اس نے مجھے مزید توڑ دیا ۔کبھی ایک ماہر نفسیات تو کبھی دوسرا میری زندگی آج تک نارمل نہیں ۔میں یہ بات ہمیشہ سب سے چھپاتی رہی مجھے لگتا تھا کہ شاید اس میں میری غلطی تھی ۔میں نے ڈرتے ڈرتے یہ بات اس واقعے کے دو سال بعد اپنی امی کو بتائی وہ بہت روئی مجھے پیار کیا مجھے ماہر نفسیات کے پاس لے کر گئ ۔

میں پندرہ سال کی عمر سے اب تک جب میں 27 سال کی ہو اب تک دوائی کھا رہی ہو اور اپنے ڈر کا مقابلہ کرکے تھک گئ ہو لیکن ناامید نہیں جویریہ صدیق کو اپنی کہانی بتا کر میں نے آپ سب کو سنانے کے لئے اسلئے کہا جس معاشرے میں بھیڑیے منہ کھول کر بیٹھے ہو وہاں بچوں کو ایک منٹ بھی اکیلا نہ چھوڑیں ۔اگر پاکستانی اس ہی طرح بچوں پر حملے کرتے رہے تو ایک دن پتھروں کی بارش ہوگی۔میری بدعائیں اس شخص کا پیچھا تاقیامت کریں گے اور روز محشر میرا ہاتھ ہوگا اور اسکا گریبان کوئی بھی گناہ گار اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں پائے گا۔آج میں جاب کررہی ہو، سائیکو تھراپی بھی کروارہی ہو اور دوائی بھی کھا رہی ہو میں ناامید نہیں ۔



متعللقہ خبریں