ایس۔ 400 میزائل دفاعی نظام

حکومت ترکی ایس 400 میزائلوں  سےمتعلق  دباؤ کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گی

ایس۔ 400 میزائل دفاعی نظام

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے 12 جون 2019 کے اپنے بیان میں  کہا ہے کہ روس  سے ایس- 400 دفاعی نظام کے خریدنے کے بارے میں جو فیصلہ کرلیا گیا ہے اب اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ روس کے دفاعی نظام کو آئندہ ماہ ترکی کے حوالے کر دیا جائے گا  ۔ انہوں نے کہا کہ "میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں  کہ ہم یہ دفاعی نظام خریدیں گے بلکہ یہ کہہ رہا ہوں ہم  نے یہ دفاعی نظام حاصل کرلیا  ہے اور ہمارے ہاتھوں میں ہے۔"

اسی روز یعنی 12جون 2019 کو کو ترکی میں روس کے سفیر الیکسی یر اوف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ روس ایس -400میزائلوں کے بارے میں آپ اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گااور ترکی اور روس  کی تکنیکی ٹیمیں  اس سلسلے میں اپنے  امور  کو سر انجام دیتی رہیں گی۔

 

 ان تمام بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی طرف سے ترکی پر  ڈالے جانے والے تمام تر دباو  کے باوجود ترکی اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔  ترکی کو ایس -400میزائل ماہ جولائی سے ملنا شروع ہو جائیں گے ۔ ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی رو سے  ایس- 400  میزائل  صرف ترکی ہی کے زیر کنٹرول علاقوں میں استعمال کیے جائیں گےجو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ترکی اسے کسی تیسرے ملک کے حوالے نہیں کرے گا۔تا ہم اگر امریکہ اور ترکی کے درمیان   جاری بحران شدت اختیار کر جاتا ہے تو  ترکی یہ مزائل شمالی قبرصی ترک  جمہوریہ  میں بھی نصب کر سکتا ہے۔

 

ترکی ایس-400 میزائل دفاعی  ہتھیاروں کے طور پر حاصل کر رہا ہے

ترکی کا فضائی دفاع کامسئلہ صرف ایک سال کا  مسئلہ   نہیں ہے بلکہ ترکی اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے گزشتہ دس سال سے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ آیا کہ کیوں ترکی کو ایس۔400  خریدنے کی ضرورت پیش آئی؟  کیونکہ ترکی نے نیٹو کے اتحادی ملک امریکہ کی جانب سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی فراہمی پر مثبت جواب نہ دینے پر مختلف متبادلوں  پر غور کرتے ہوئے روسی پیشکش کو جاذب  پایا اور اس طرح ایس۔400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن  اس کے بعد کے سلسلے میں ایس400 ایک عسکری نظام  کی ماہیت سے نکلتے ہوئے امریکہ کے لیے ایک سیاسی معاملہ  بن گیا۔

امریکی دفترِ خارجہ  ترکی کے روس سے ایس۔400 دفاعی نظام خریدنے کی صورت میں مختلف قسم کی پابندیاں عائد کیے جا سکنے کا بار ہا اعلان کر چکا ہے۔ حتی حال ہی میں امریکی قائمقام وزیر ِ دفاع شانا ہن نے ترک وزیر دفاع خلوصی عقار کو روانہ کردہ خط میں ان پابندیوں کا ذکر کرتے وقت  ترکی  جیسے  اتحادی ملک کو دھمکی بھی  دی ہے۔  امریکہ کا یہ مؤقف نہ تو ایک اتحادی ملک اور نہ ہی ڈپلومیسی کے  اعتبار سے موزوں ہے۔

ترکی، ایس۔400 کو ایک حملہ آور اسلحہ کے طور پر نہیں خرید رہا۔ کیونکہ یہ محض ایک دفاعی نوعیت کا  اسلحہ ہے۔ ترکی پر حملہ کرنے کی سوچ نہ رکھنے والے کسی ملک کو اس  چیز پر بے چینی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ امریکہ نے ایس۔400   پر اعتراضات کرتے  وقت حال ہی میں منڈی میں آنے والے  ایف۔35 لڑاکا طیاروں کے نظام کو کنٹرول  کو اپنے زیر اثر لے سکنے اور نیٹو کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے کا دعوی کر رکھا ہے۔تا ہم ، ترکی ایک مشترکہ کمیشن قائم کرتے  ہوئے  اس چیز کا جانچ پڑتال کیے جانے اور امریکہ کے دعووں کے سچ ثابت ہونے کی صورت میں اس منصوبے سے باز آسکنے کا  کہہ رہا ہے تو  امریکہ اس پیشکش کو قبول نہ کرتے ہوئے  ایک لحاظ سے اپنے دعووں کے درست نہ ہونے کا اعتراف کر چکا ہے۔

ترکی کی جانب سے  خریدے گئے ایس۔400 نظام  کے ایک مختلف  طرز کے حامل ہونے اور اس کا کنٹرول مکمل طور پر ترکی کے ہاتھ میں ہونے کے باعث  ایف۔35 کے رازوں  سے روس کا جانکاری حاصل کرنا  نا ممکن ہے۔

امریکہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات کے ذریعے ترکی کے سامنے اپنی اتحادی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔

امریکی کانگرس کی جانب سے گزشتہ برس  جاری کردہ "امریکہ کے  دشمنوں کے خلاف پابندیوں کے ذریعے جدوجہد قانون"  کا  اطلاق  اگر ترکی پر  بھی کیا گیا تو  یہ امریکہ سمیت پوری دنیا کو متاثر کرنے والی ایک علاقائی تبدیلی  بن سکتا ہے۔نیٹو اور یورپ کی جانب سے بحیرہ اسود سمیت مشرقی بحیرہ روم، مشرقی یورپ، بلقان، مشرق وسطی   جیسے علاقوں میں بلا ترکی کی کوئی پالیسی  بلند مالیت اور عدم حل کی حامل ہوگی۔

امریکہ  ترکی پر   قدغن  لگا رہا ہے کہ اس نے    ایس 400 دفاع نظام خرید کر  اتحادی ممالک  کے    اصولوں کا سودا کیا ہے لیکن  کیا وجہ ہے کہ امریکہ نے خود بھی اسے  مطلوبہ پیٹریاٹ نظام  دینے    پر   سالہا سال کے  لارے لگائے رکھے ہیں۔  یہ ایک سوال ہے کہ کیا  امریکہ بہادر نے  جو    15 جولائی سن 2016 کی فیتو بغاوت اور اس کے سرغنہ  سمیت دیگر ساتھیوں  کو اپنے ملک میں  پناہ  دے رکھی ہے   وہ بھی ان اصولوں کی پامالی کے زمرے میں آتی ہے یا  نہیں؟       سن  80 تا 90 کی دہائیوں کے درمیان   ترکی میں 40 ہزار افراد کے قتل کی ذمے دار پی کےکے دہشت گرد تنظیم اور شمالی شام میں اُس کی کٹھ پتلی تنظیموں کو اسلحے سے لدے ٹرک روانہ کرنا بھی  کیا ان قوانین کے احترام  کا ترجمان ہے؟

 

 امریکہ  صرف ان قوانین کی   دہائی مچاتا ہے جو کہ اس کے مفادات میں ہوں ،اسی طرح  جرمنی نے بھی اسی نقش قدم پر چلتےہوئے نارتھ فلو اسٹریم گیس کے دوسرے  منصوبے  کی مخالفت اور  یورپ کو مشترکہ فوج  کے قیام    سے روکنے کےلیے عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین   کے بر خلاف  معاشی  پابندیوں  پر مشتمل   دھمکی آمیز  بیانات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا تھا ۔

  یہ کہنا  صحیح ہوگا کہ  اپنی علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے کی خاطر نیٹو کی طرف  سے کسی قسم  کی  ضمانت نہ ملنے پر ترکی نے مجبوراً یہ قدم اٹھایا ہے۔

امریکہ اپنے مفادات کے نشے میں  روس،شمالی کوریا ،چین اور ونیزویلا   کے بعد اب ترکی پر اقتصادی پابندیاں لگانے  کے پر تول رہا ہے   جبکہ   یورپی ممالک  اب امریکی  یک طرفہ پالیسیوں    پر خاموش نہیں ہیں کیونکہ  انہیں احساس ہے کہ  اگر  اب بھی خاموش رہا گیا تو  یہ ترکی کے ساتھ ہمیں بھی سلامتی کے خطرات  سے دوچار کر سکتا ہے۔

امریکہ اور یورپ کا سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ترکی نے ایس۔400 کی خرید سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے وہ کسی ملک کے خلاف کیا گیا فیصلہ نہیں ہے۔ کیونکہ ایک ایسے دور میں کہ  جب دنیا کے بحران زدہ علاقوں میں متعدد مسائل کا سامنا ہے دفاع کے پیش نظر خریدے گئے اسلحے کو خطرہ قرار  دینے کا موقف عالمی برادری کو قائل نہیں کر سکے گا۔ ترکی سالوں سے افغانستان،کوسووا، ، شام اور بوسنیا جیسے ممالک میں نیٹو کے فعال ترین رکن کی حیثیت سے خدمات ادا کر رہا ہے۔ امریکہ اپنی پالیسیوں سے ترکی کو دیوار سے لگانا چاہتا ہے تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ اس کے بالکل برعکس اسے ترک معاشرے کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔  اس کے علاوہ  ترکی کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی  دفاعی صنعت کی غیر ملکی درآمد سے متعلق ضروریات کو روس اور چین سے پورا کرے ۔  یہاں امریکہ کو یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ اس کی پابندیوں کے مقابل جو خلاء پیدا ہو گا اور جس تنہائی کا اسے سامنا کرنا پڑے گا اسے سیاسی، عسکری یا پھر اقتصادی  شعبوں میں دیگر ممالک کے ساتھ پورا کرنا امریکہ کے لئے ترکی سے مکمل محرومی کا بھی سبب بنے گا۔

ترکی کے ایس۔400 سے متعلق فیصلے کو ترکی کی خود مختاری کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ترکی نے اپنی فضائی دفاعی ضروریات کو موزوں ترین سسٹم  کے ساتھ اور اس سسٹم کے موزوں ترین سپلائر کے ذریعے پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی حکومت  کے ترکی کے ہاتھ پیٹریاٹ  کی فروخت نہ کرنے پر ترکی نے قدرتی طور پر نئے سپلائر کی تلاش شروع کی۔ امریکی حکومت CAATSA کو وجہ دکھا کر ترکی  پر سیاسی اور فوجی پابندیاں لگا سکتا ہے اور لامحالہ طور پر ان  پابندیوں کے اقتصادی نتائج بھی ہوں گے۔ لیکن یہ پابندیاں درمیانی یا طویل مدت میں  ترکی کے طرزعمل میں  امریکہ کی من پسند کوئی تبدیلی نہیں لا سکیں گی ۔ ترک ملت کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ملت ہمیشہ سے سچے اور مظلوم کا ساتھ دیتی چلی آئی ہے اور اس ملت نے ہمیشہ سے جمہوریت  پرایمان رکھا ہے۔ اگر  امریکہ کا خیال ہے کہ وہ سزا دے کر ترکی کو من چاہے راستے پر  لے آئے گا تو اسے جان لینا چاہیے کہ اس کا بالکل الٹ نتیجہ نکلے گا۔

جس دن مضبوط ممالک یہ جان لیں گے کہ وہ  اپنے سے کمزور ممالک کو دبا کر  یا دھمکی دے کر  دنیا میں امن قائم نہیں کر سکتے اس دن دنیا  کو امن نصیب ہو جائے گا۔



متعللقہ خبریں