تجزیہ 24 (ایس۔400 یا پھر متحدہ امریکہ کا محور سرک رہا ہے؟)

ہم سب 21 ویں صدی میں سرد جنگ کا خاتمہ ہونے والے تا کسی نظم و نسق کا قیام عمل میں نہ آنے والے ایک غیر یقینی کے ماحول  میں داخل ہوئے ہیں

تجزیہ 24 (ایس۔400 یا پھر متحدہ امریکہ کا محور سرک رہا ہے؟)

ماضی کے  بعض دورانیے  نظم و نسق قائم ہونے والے ادوار  ہیں۔ ان ادوار میں وضع کیا جانے والا یہ نظام کسی نئی غیر یقینی  یا پھر افراتفری و کھینچا تانی کا ماحول پیدا ہونے تک  جاری رہتا تھا۔ یورپ  میں 30 سالوں تک جاری رہنےو الی جنگوں کا خاتمہ کرنے والا  ویسٹ فالیا امن معاہدہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد منعقد ہونےو الی یلتا کانفرس  کے ذریعے منظر عام پر آنے والے سرد جنگ   کے عمل درآمد سے تعلق رکھتا ہے۔ یلٹا کانفرس میں برطانوی وزیر ِ اعظم ونسٹن چرچل، امریکی صدر فرینکلن رُوز ویلٹ اور سوویت یونین کے صدر ِ مملکت جوزف اسٹالین  نے 1945ء میں کریمیا  کے ایک چھوٹے قصبے یلتا  میں  یکجا ہوتے ہوئے آج تا حال اس  کی جگہ نہ لینے والے سرد جنگ کے نظریے کی داغ بیل ڈالی تھی۔

انقرہ یلدرم بیاضید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا اس موضوع کے حوالے سے جائزہ۔۔۔۔۔

نئے عالمی نظام کی تلاش

جب "عالمی نظام" کا ذکر آتا ہے تو اس کے مفہوم کو انصاف، رضا مندی اور  بنی نو انسانوں کے مشترکہ مفادات  سے وابستہ کرنا لازمی نہیں ہوتا۔ عالمی انصاف  کا قیام ایک مختلف موضوع ،  جستجو اور حاجت ہے۔  جب ہم عالمی نظم و نسق  کا ذکر کرتے ہیں تو   اس سے مراد،  اداکاروں   کے واضح  ہونے والے، طرفین کے مجبوراً یا پھر رضاکارانہ طور پر عالمی سطح پر کسی عملی نظام پر مطابقت قائم  ہونے والا  ایک میکانزم ہے۔

یہ انصاف کے ترازو پر استوار ہونے کی شرط نہ ہونے والا، زیادہ تر ایسا نہ ہونے والا، پوزیشن  کا تعین ہونے  والا اور اس بنا پر نتائج کا تخمینہ لگایا جا سکنے والا ایک نظام ہے۔

ہم سب 21 ویں صدی میں سرد جنگ کا خاتمہ ہونے والے تا کسی نظم و نسق کا قیام عمل میں نہ آنے والے ایک غیر یقینی کے ماحول  میں داخل ہوئے ہیں۔  نیٹو اور وارسا پیکٹ کی وقعت مغربی اور مشرقی  بلاک  کے مابین سرد جنگ کا ماحول سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے پر  ختم ہو گئی۔

عصرِ حاضر میں یہ کہنا ممکن ہے کہ  سرد جنگ  ، دو قطبی دنیا کے  عمومی ترین معنوں میں  4 بنیادی محوروں   پر  اپنے وجود کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی محور: امریکہ  اپنے آپ کو دائرے کے مرکز میں رکھتے ہوئے اپنی شہنشاہت کے وجود کو برقرار رکھنے کے درپے ہے۔یہ  امریکن ڈریم کی طرح انسانوں کی مزید ہمدردیاں حاصل کرسکنے والی پالیسیوں کو ایک طرف چھوڑتے ہوئے  براہِ راست مفاد پر مبنی سخت گیر طاقت پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ اب کے بعد امریکہ کے مثبت اور  سود من ایجنڈے کے ساتھ دوبارہ عالمی رقابت میں پیش پیش بننے کی توقع نہیں کی جاتی ۔ اس بنا پر  یہ ملک زیادہ تر دیگر ممالک  کے عالمی رقابت میں نمایاں بننے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی پالیسیوں کو اپنائے ہوئے ہے۔ اس دائرہ کار میں امریکہ  پہلے پہل جہاں شمولیت  کا  چمپین بننے کے باوجود اب یہ جہاں شمولیت کے بر خلاف پالیسیوں پر کمر بستہ ہے۔

روسی محور: سوویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد روس نئے سرے سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ ملک کسی بھی دور میں عالمی سطح  پر ایک پُر کشش مرکز ی مقام  کی حیثیت حاصل نہ کرنے کے باعث  زیادہ تر عسکری سطح پر اور دیگر سخت گیر طاقت کی پالیسیوں  کی راہ پر  گامزن ہے۔

محورِ چین:عوامی جمہوریہ چین ایک اقتصادی طاقت کے طور پر سرعت سے اُبھر رہا ہے البتہ تاحال یہ اپنی   سیاسی اور فوجی طاقت کی حیثیت   کو عالمی سطح پر منوا نے  میں ناکام رہا  ہے۔  امریکہ سمیت دیگر عالمی اداکاروں  نے اپنی سیاسی و فوجی طاقت کا نمایاں  طور پر  مظاہرہ کر رکھا ہے تو  چین فی الوقت معیشت  و ٹیکنالوجی  کے  میدان میں اپنے  اثرِ رسوخ کو مزید آگے لیجانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ چاہے یہ طویل المدت قابل عمل نہ بھی ہو تو بھی یہ عالمی معاملات میں کسی سیاسی پوزیشن پر براجمان ہونے سے گریز کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر  امریکہ اس ملک کے خلاف ہندوستان کی بھر پور حمایت  اور اس سے تعاون کر رہا ہے تو یہ مسئلہ کشمیر میں کھلم کھلا ہندوستان مخالف پوزیشن  لینے  سے کتراتا ہے۔

انصاف کے ترازو پر قائم ایک نئے محور کی ضرورت

اُوپر ذکر آنے والے چار محوروں میں سے ایک عالمی انصاف  کے محور پر محیط ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ تا حال ایسا کوئی محور منظر عام پر دکھائی نہیں دیتا۔ ذاتی مفادات کو ہر چیز سے بالا تر رکھنے والے مندرجہ بالا  عالمی اداکاروں کے علاوہ عالمی سطح پر انصاف کے قیام  کی ضرورت اور جستجو  عیاں ہے۔ عالمی انصاف کا محور،  نہ صرف عالمی پالیسیوں  پر بنیادی سطح پر عمل پیرا  کیے  جانے  کے لیے   ہی نہیں بلکہ مفادات کے دیگر محوروں کے ساتھ  توازن  قائم کرنے کے اعتبار سے بھی ایک ہنگامی  احتیاج  ہے۔

20 ویں  صدی  میں منظرِ عام پر آنے والی یورپی یونین کے  عالمی سطح کے ایک اداکار نہ ہونے کی حقیقت  سے ہر کس کو  آگاہی حاصل ہے۔  یہ چیز بھی  غیریقینی ہے کہ یورپی یونین  موجودہ صدی میں اپنےو جود کو جاری رکھ سکے گی یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کو ممالک کے بجائے ایک اتحاد کے طور پر اپنی  اقدار کے محور کی حامل بعض کوششوں  کو عالمی عدالتی محور کے حامل کسی نظام  کے متلاشی ہونے کا کہنا ممکن ہے۔

ترکی کی علاقائی پالیسیوں اور'دنیا کے 5 ملکوں سے بڑے ہونے' کی شکل میں خلاصہ پیش کیے جانے والی عالمی انصاف کی اپیلیں اور  کوششیں  عالمی انصاف کی حامل کوششوں میں سر فہرست ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ  یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ عالمی انصاف  کے محور کے حامل کسی نظم و نسق کی تلاش میں ہونے والے ممالک کی تعداد کافی زیادہ ہے ۔ انسانوں کے لیے  قابل ِ قیمت محور کے حامل امن و انصاف کے ماحول  کے قیام کا موقع فراہم کر سکنے والے اداکاروں کو  اپنے وجود کا مزید احساس دلانے کے لیے باہمی تعاون  کے اندر مزید فعال پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

ترکی اور امریکہ کے درمیان  ایس۔400  کے معاملے میں بحران کا آئندہ کی قسط میں جائزہ لیں گے۔ تا ہم ،  فی الحال  زیر بحث معاملے کے ایس۔400 نہ ہونے  ، اصل مسئلے کے مغربی اور مغرب پسند مصنفین کے بیان کردہ  طریقے  کے بر عکس، ترکی  سے زیادہ تر  مغرب کی اصلیت کے حامل بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ جب تک  امریکہ کی سرد جنگ کے دور  سے بالکل مختلف اور دیگر ممالک کو کسی کھاتے میں نہ لینے والی ترجیحات  میں تبدیلیاں  نہیں آتیں ایس۔400  یا پھر اس جیسے بحران ہمیشہ سامنے آتے رہیں گے۔



متعللقہ خبریں