تجزیہ 12 (کیا ٹیرنٹ عیسائی دہشت گرد ہے؟)

نیوزی لینڈ میں دہشت گرد حملے اور عیسائی دہشت گردی کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کا جائزہ

تجزیہ 12 (کیا ٹیرنٹ عیسائی دہشت گرد ہے؟)

آسڑیلوی دہشت گرد برینٹن ٹرینٹ  نے  15 مارچ 2019 کے روز  نیو زی لینڈ  میں نماز ِ جمعہ کے دوران دو مساجد پر حملے کرتے ہوئے 50 مسلمانوں کو شہید  اور درجنوں کو زخمی کر ڈالا۔ مغربی ممالک میں دہشت گرد حملوں کے بعد کسی بھی ہلاکت یا پھر خونی مناظر  کومیڈیا میں جگہ نہیں دی جاتی تو ٹیرنٹ نے اس بیہمانہ  واردات کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر براہِ راست نشر کیا۔ سائبر میڈیا اور ٹیلی ویژن  چینلز پر  اس حملے اور مسلمانوں  کے ساتھ ہونے واے اس وحشیانہ عمل کو بار ہا نشر کیا گیا۔

انقرہ یلدرم بیاضید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل  کا اس موضوع پر جائزہ ۔ ۔۔

کیا یہ محض ایک مجرم  ہے؟ یا پھر دہشت گرد ؟

یہ سوال کس قدر بے معنی اور اس وحشیانہ حملے کے سامنے کس قدرکرب دہ ہے۔ تا ہم مغربی سیاستدان اور  تقریباً تمام مغربی  میڈیا نیو زی لینڈ کی تاریخ کے خونی ترین حملے کو دہشت گرد حملے کے طور  پر بیان نہ کر سکا۔   دہشت گردی کی "منصوبہ بندی، جبر اور شدت کی راہ اپناتے ہوئے، دباؤ، حملے، خوفزدہ کرنے، باز رکھنے یا پھر دھمکیوں کے ذریعے کسی سیاسی مقصد تک پہنچنے  کے طریقہ کار"  کے طور پر تشریح  کی جا سکتی ہے۔ ٹیرنٹ   نے سالہا سال  تک منصوبہ بندی کرتے ہوئے  نہ صرف  پوری دنیا کی نظروں کے سامنے انسانوں کا قتل کیا بلکہ اس نے سفید  فاموں کے علاوہ  تمام تر انسانوں کے کیونکر  قتل کیے جانے کی ضرورت کو پیش کرنے والے 74 صفحات پر مبنی ایک جواز کو بھی جاری کیا۔ اگر  ٹیرنٹ  دہشت گرد نہیں ہے  اور اس کی  درندگی  دہشت گرد حملے کے  زمرے میں نہیں آتی تو پھر کسی  بھی کاروائی  کو  دہشت گرد کاروائی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ حملہ آور کا  ہزاروں سالہ تاریخ سے لیکر اسلام و ترک مخالف تمام  تر ناموں ،مقامات، ماضی کے واقعات سے جانکاری  اور ان کو حملے میں استعمال کردہ اسلحہ کے اوپراصلی  زبانوں میں  تحریر کرنا ، ا س مذموم حملے کو واحدانہ طور پر نہیں  بلکہ علمی تعاون حاصل کرتے ہوئے    عمل پذیر کرنے کی ایک  نمایاں دلیل ہے۔

مغرب  میں ڈیموکریسی  اور آزادی اب کہیں  زیادہ نہتی ہے

یورپ میں خاصکر اقتصادی جمود کی بنا پر فاشزم اور نازی ازم  نظریات میں بتدریج وسعت آتی جا رہی ہے۔ دیگر ممالک سے ان کا موازنہ کرنے سے نسل پرستی جماعتوں  کے سب سے زیادہ  تعداد میں بر سر اقتدار ہونے والے ممالک  آج کل یورپی ممالک ہی ہیں۔ نسل پرست سیاسی جماعتوں کے اثر ِ رسوخ میں ہر گزرتے دن  اضافہ مغربی ممالک میں آزاد خیال، تکثیری   و لیبرل حلقوں کی  آواز  کے کہیں زیادہ مدھم ہونے کا موجب  بن رہا ہے۔ یہ حلقے اپنے اوپر دباؤ کو واضح طور پر محسوس کرنے لگے ہیں۔ آج ہم جس موڑ پر ہیں اس پر  مغربی ممالک میں مختلف طرزِ زندگی کے وجود کو مٹانے   کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہونے کے وقت اس خطرے کے دوسری عالمی جنگ سے قبل کے دور کی طرح  اپنے آپ کو بھی محصور  کرنے کا اندازہ کر سکنے والے کم لیڈر ہی باقی بچے ہیں۔

50مسلمانوں کو شہید کیے جانے  پرمغرب میں ہر مذہب لسان نسل سے تعلق رکھنے والے  بعض اعتدال پسند حلقوں نے اپنے  اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ ان حلقوں کا مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرنا، رہائش کردہ ممالک میں ان پر ڈالے گئے  دباو کو مدنظر رکھنے سے اس عمل کے  قدرے قیمتی ہونے کا کہا جاسکتا ہے۔  گو کہ مغربی  سیاستدانوں نے اس واقعے کے سامنے خاموشی اختیار کررکھی ہےتو  نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن  کی کوششیں مسائل کو تاحال مغربی ممالک میں انسانی نقطہ   نگاہ سے  دیکھ سکنے والے لیڈر کی موجودگی کے اعتبار سے حد  درجے با معنی ہیں۔اس طرح ہے کہ ناامیدی کے ماحول میں اپنے ملک میں مقیم مسلمانوں کے لاچار و بے یارومددگار محسوس کرنے والے دور میں آرڈرن  کا ہیڈ اسکارف  اوڑھتے ہوئے مسلمان طبقے سے اظہار تعزیت کرنا قدرے اہمیت کا حامل ہے۔  ان کے بیانات بھی سفید فام نسل  پرست دہشتگردوں کو دو ٹوک جواب دینے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن میں انہوں نے کہا ہے کہ" س ملک میں جنم نہ لینے کے باوجود یہاں پر زندگی گزارنے کو ترجیح دینے والا ہر کس ہم میں سے ہے،  لیکن اس بیانک قتل عام کے مرتکب ہم میں سے نہیں ہیں۔"آرڈرن کا ان سے دریافت کرنے والے"ہمارے لائق کوئی خدمت؟" ٹرمپ کو جواب بھی ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے: تمام  تر مسلم  طبقوں سے محبت اور ہمدردی سے پیش آئیں۔"

کیا یہ عیسائی دہشت گردی ہے؟

مغرب میں سیاسی جماعتیں اور میڈیا، فاعل مسلمان ہونے والے واقعات کو  اسلامی جہاد، شریعت پسند کی طرح  کی صنف بندی  میں بڑی  بہادر بنتی  ہیں تو ٹرینٹ کے قتل عام کو "عیسائی دہشت گردی" کے طور  پر بیان کرنے والا کوئی اعلان ہمارے سامنے نہیں آیا۔ ایسا ہے کہ مجرم نے اپنے مینی فیسٹو میں  سفید فاموں کے علاوہ مغربی ممالک میں مقیم ہر کس  کو قتل  کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ اس حملے اور مینی فیسٹوں میں عیسائیت کے حوالے سے بہت سارے  حوالے موجود  ہیں۔  شاید  مغرب میں  بتدریج بڑھنے والی اس حملہ آور ذہنیت  کو صلیبی دہشت گردی کے طور پر بیان کرنا ، اس معاملے کا عیسائیت سے نکلتے ہوئے صلیبی ذہنیت کے حوالے سے  جائزہ لینا زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔

ان تمام عوامل کے باوجود اس معاملے کو مغربی نظریے سے  نہیں دیکھا جانا چاہیے،  کیونکہ یہ ہمارا استاد نہیں۔ ان کی جانب سے بعض پر تشدد واقعات کو اسلام  کے ساتھ منسلک کرنے  کی کوششوں کے خلاف جس طرح ہم رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں ، اس حملے کو عیسائی دہشت گردی کی نگاہ  سے بھی نہیں دیکھا جانا چاہیے۔  چونکہ دہشت گردی چاہے کس نام کے ساتھ ہی کیوں نہ  کی جا رہی ہو،  دہشت گردوں کے ساتھ، نام کے ساتھ   دہشت گردی کردہ  مذاہب، نظریات اور اقدار کے درمیان  فاصلہ نہ رکھنا  سب سے زیادہ  انہی دہشت گردوں کے مفاد  میں ہوتا  ہے۔  نام نہاد دین اسلام کے نام پر کی گئی کاروائیوں کو مسلم امہ اور عیسائیت کے نام پر کی گئی دہشت گرد کاروائیوں   پر عیسائیوں کو موردِ الزام ٹہرائے  جانے والی دنیا  میں امن و آشتی کا  حصول نا ممکن  بن جائیگا۔

دوسری جانب دہشت گردوں کی جانب سے  آلہ کاربنائے جانے والے دینوں اور بنیادی اصولوں کو دہشت گردی کے ساتھ یاد کرنا ،سینکڑوں  برسوں  سے  دینوں کے درمیان روابط  کوانتہا پسندی  سے بچانے والے رسم و رواج  کا خاتمہ ہوتے ہوئے  دہشت  گردی میں کہیں زیادہ معاونت فراہم کر سکتا ہے۔  جیسا کہ میرے دوست بیرات اوز اپیک   نے کہا ہے کہ اسلام کا کہیں زیادہ بول بالا ہونے والے ، جہاد کے کہیں زیادہ مؤثر ہونے والے اور ممالک کے زیادہ تر شریعتی اصولوں پر  کار بند ہونے والے ادوار اور مقامات میں  دنیا کے کسی دوسرے جغرافیے میں مثال نہ ملنے کی حد تک مسلمان، عیسائی اور یہودی طبقہ مل جل کر زندگیاں بسر کرتا تھا۔  اس بنا پر دنیا میں تکثیریت، اور  مختلف ثقافتوں  کے زیادہ احسن طریقے سے اپنا وجود حاصل کرنے والی مثالیں دوسرے مقامات پر نہیں بلکہ مسلمانوں کی زیر انتظامیہ  کے عثمانی جغرافیہ میں، اندلس میں اور ہندوستان میں دیکھی جا سکتی ہیں۔  ان ادوار میں کوئی بھی مسلمان  9/11 کی طرح معصوم انسانوں کو اجتماعی طور پر قتل کرنے والی کسی کاروائی کی  سوچ کو اپنے وہم و گمان میں بھی نہ لاتا تھا، یہ نہ  ہی فیتو کی طرح اپنے عوام  پر ایف۔16 لڑاکا طیاروں کے ساتھ حملہ کرتا تھا ۔ یہ تمام عوامل جدید دور کی حرکتیں ہیں۔ تورا بورا کے بدھا مجسمے ، افغانستان  میں شریعت نافذ ہونے ، انسانوں کے جہاد کو کہیں زیادہ حقیقی معنوں میں لینے والے ایک دور میں نہیں بلکہ جدید دور میں منہدم ہوئے ہیں۔

ٹیرنٹ کے حملوں  اور11 ستمبر و 15 جولائی کے حملوں کے پیچھے ایک ہی ذہنیت کار فرما ہے۔ یہ تینوں  واقعات معصوم انسانوں کے خلاف اصولوں، قوانین، اقدار، انصاف سے کوسوں دور  کسی  ذاتی چیز سے وابستگی  کے باعث  انسانوں کے اپنی راہ سے پھسل سکنے کا مظہر ہیں۔ ٹرینٹ کی معصوم انسانوں کے خلاف مسلح   کاروائی، لادن کی  11 ستمبر اور فیتو کی 15 جولائی کی ایف۔ 16 طیاروں کے ساتھ کاروائیاں ایک ہی سوچ کی پیداوار ہیں۔

دہشت گردی کو دینوں  سے منسلک کرتے ہوئے دہشت گردوں کا دین کا سہارا  لینے  کا مزید موقع فراہم نہیں کرنا چاہیے۔

کیا کیا جائے؟

ٹرینٹ  کی جانب سے ایک وحشیانہ اقدام کو سر د مہری کے ساتھ  اور پوری دنیا کے سامنے براہ راست پیش کرنے کے عقب میں بلا شبہہ مغربی ماحول، میڈیا اور بعض سیاستدانوں کے اپنائے گئے لہجے، نسل پرستی، تفریق بازی اور نفرت آمیز بیانات  کے اثرات بھی شامل ہیں۔ یہ المیہ مغرب میں اسلام دشمنی اور ایردوان سےنفرت کی  سطح  کی ایک ٹھوس مثال ہے۔

ٹرینٹ ، بن لادن اور فیتو کی طرح کے دہشت گرد چاہے اپنے غیر انسانی فعلوں  کو کسی بھی بنیاد کے ساتھ جائز قرار دینے کی کوششیں کیوں نہ کریں ، اسی طرح  ہمیں بھی چاہیے کہ ان جیسے لوگوں کے خلاف مشترکہ طور پر حرکت کریں۔ تمام تر بنی نو انسانوں کو دہشت گرد حملوں کے خلاف، ان کے حقائق کو مد نظر رکھے بغیر  اپنے رد عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہماری دنیا اب کسی عالمی گاؤں کی ماہیت اختیار کر چکی ہے۔ ہر لسان، مذہب، نظریے کے حامل انسان ایک ہی جگہ پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہماری دنیا سے امن و امان ، خود مختاری و آزادی کو چھیننے کے  درپے انسانوں کو ہمیں تاریکی کی جانب دھکیلنے  کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ میں اپنے اس کالم کو ایک مودبانہ اپیل کے ساتھ نکتہ پذیر کرتا ہوں۔  دنیا بھر کے عقل ِ سلیم کے حامل لوگ یکجا ہوں۔ وگرنہ لہر در لہر ہر طرف پھیلنے والی یہ تاریکی ہمیں اپنا اسیر بنا لے گی۔



متعللقہ خبریں