ترکی اور پاکستان کے تعلقات پر ایک نظر ۔ 50

ترکی کا تاریخی پس منظر

ترکی اور پاکستان کے تعلقات پر ایک نظر ۔ 50

ترکی اور پاکستان کے قریبی اور دوستانہ تعلقات کےحوالے سے ہمارے اس سلسلہ وار پروگرام میں دونوں ملکوں کے ماضی،حال اور آئندہ کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں، گزشتہ دو ہفتوں سے ہم ترکی کے قریبی ماضی کے حوالے سے اہم معلومات کو اپنے سامعین و قارئین تک پہنچا رہے ہیں، آج اس سلسلے کی تیسری قسط پیش خدمت ہے۔
جب رجب طیب اردوان وزیراعظم تھے تو نظم ونسق میں کمزوری اور بد عنوانیوں کے باعث سیکولر طبقوں کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ان کے مقابلے میں بلدیاتی انتخابات میں فتوحات حاصل کرنے والی اسلام پسند قوتیں انتہائی ایمانداری سے کام کر رہی تھیں اسی لیئے رفاہ پارٹی سے نکلنے والا ایک گروپ عدالتی اور ترقی پارٹی واضح طور پر سامنے آیا اور اس نے مسلسل دو انتخابات جیت کر سب سے بھرپور قوت کا احساس دلادیا۔ 2002اور 2007 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی انصاف وترقی پارٹی نے آخری انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی۔ 2002 کے انتخابات کے موقع پر انصاف و ترقی پارٹی کے سربراہ رجب طیب ایردوان کو اسلام کے حق میں کلمات ادا کرنے کے باعث انتخابات اور وزارت کے لیئے نااہل قرار دے دیا گیا، ان کی جگہ ان کے نائب عبداللہ گل نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا ۔ لیکن بعد میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے اس پابندی اور اس کی وجہ سے ہونے والی سزا کو بھی ختم کردیا گیا۔
9 مارچ کو ایک ضمنی انتخابات کے ذریعے رجب طیب ایردوان پارلیمنٹ کے رکن بنے ان کو حکومت میں لانے کے لیے عبداللہ گل نے اپنے عہدے سے استفعیٰ دےدیا اور ان کو وزیر خارجہ کا عہدہ دیا گیا ۔انصاف و ترقی پارٹی کے پہلے دور میں جنگ عراق شروع ہو گئی پارلیمان نے امریکہ کے اتحادی ممالک کی افواج کو ترکی سے گزرنے کی اجازت نہیں دی البتہ اپنے دستے بھیجنے کی منظوری دے دی۔ لیکن ترکی اور امریکہ بعد میں اس بات پر اتفاق کر گئے کہ ترکی اس پیشکش سے فائدہ نہیں اٹھائے گا، جبکہ انصاف و ترقی پارٹی کے سیاسی مقاصد کی فہرست میں عراق ،کردستان ،یورپی اتحاد کی رکنیئت مسئلہ قبرص اور معیشت کی بہتری زیادہ نمایاں نکات ہیں جن پر ترکی ہر قیمت عمل کرے گا۔
مارچ 2014 میں انصاف و ترقی پارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں42٪ ووٹ حاصل کر کے اپنی پوزیشن خاصی بہتر کر لی، نومبر 2007 میں ہونے والے دوسرے انتخابات میں انصاف و ترقی پارٹی نے سادہ ترین اکثریت حاصل کی اور کسی جماعت سے اتحاد کیے بغیر اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ جس کے بعد سابق وزیر خارجہ عبداللہ گل کو ملک کا صدر چنا گیا۔
قبرص کا مسئلہ اور بین الاقوامی تعلقات
قبرص کے سیاسی حالات کی وجہ سے 1950ء کے وسط میں ترکی اور یونان کے تعلقات میں کشید گی چلی آرہی ہے۔ 1960 میں قبرص کی آزادی کے بعد کشید گی اتنی بڑھ گئی کہ دسمبر 1963 میں سنگین نوعیت کے مسلم عیسائی فسادات پھوٹ پڑے جو کہ 1974 تک جاری رہے۔ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ 1964ء میں اقوام متحدہ کے سائے تل پناہ لینے پر مجبور ہو گیا ۔یونان میں اقتدار پر قابض فوج کی پشت پناہی کے ساتھ انتہا پسندوں کے ہاتھوں 1974 میں قبرص کے منتخب صدر کا تختہ الٹے جانے کے بعد ترکی نےقبرص میں اپنی فوجیں اتاریں ۔اس کے بعد سےپورا جزیرہ کسی ایک حکومت کے قبضے میں نہیں۔ آدھا جزیرہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور آدھا یونان نواز جمہوریہ قبرص کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
منصفانہ دیر پا سمجھوتے کی تلاش میں 1974 ء کے بعد سے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں میں مذاکرات کی کوششیں کی گئیں۔ تاہم یہ مقصد تاحال حل نہیں ہو سکا۔ مسئلہ قبرص کے حل کے لیئے اقوام متحدہ کی آخری کوشش 24 اپریل 2004 کو کی گئی تھی جس کے مطابق اقوام متحدہ جزیرے پر امن کروانا چاہتا تھا۔ یونانی قبرصیوں نے اس منصوبے کے خلاف اور ترک قبرصیوں نے اس کے حق میں ووٹ دیئے جس کے نتیجے میں یکم مئی کو یورپی اتحاد نے قبرص کو منقسم حالت میں ہی اپنا رکن بنا لیا جبکہ جزیرے کا شمالی یعنی ترک حصہ یورپی اتحاد کا رکن نہیں۔
لیکن آ ج کا ترکی جس نے ترک سابق وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب اردوان کی سرپرستی میں جو ترقی کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی کیونکہ طیب ایردوان کی کامیاب پالسیوں نے ترکی کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی ہے ۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ رجب طیب اردوان نے جب سے ترکی قیادت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی ہے، اس نے آج تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ترکی نے جس طرح اپنی معیشت کو ترقی دے کر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے یورپ کو اس پر خاص تشویش ہے کیونکہ پہلے تر ک معیشت کا انحصار یورپی یونین پرتھا مگر نئی قیادت نے ملکی معیشت کی بنیاد کا جو خواب دیکھا تھا اسے پورا کرنے میں کسی قربانی اور محنت سے دریغ نہیں کیا۔ حالانکہ ترک عوام کی اکثریت یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش مند ہے ترکی نے گزشتہ دہائیوں میں جدید ملک کا روپ دھار نے اور ترقی یافتہ بننے کے عمل میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ترکی ترقی کا قابل تعریف پہلو یہ ہے کہ وہ اس خطے کا خوشحال ترین ملک ہے اور اس نے یہ تیز رفتار سفر جمہوریت پسند معاشرے کی مد د سے طے کیا ہے ۔ترکی نے جمہوری اقدار کے ساتھ مضبوطی سے تعلق برقرار رکھتے ہوئے اپنی الگ شناخت کے ساتھ قومی روایات اور ثقافت کو آزاد حکمت عملی سے وضع کیا ا ور اس کو مضبوطی سے تھامے رکھا ۔
پاکستان اور ترکی کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی روابط ہیں، دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ ثقافتی اور سماجی تعلقات کا تسلسل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دونوں ملک اور ان کے عوام کے دلوں میں رشتوں کی جھلک زندگی کے مختلف شعبوں میں موجود ہے ،جس کا اظہار دونوں ممالک کی جانب سے مختلف موقع پر کیا جاتا رہتا ہے ۔ترکی اور پاکستان میں بہت سی باتیں مشترک ہیں ترکی کی فلاحی تنظیم ٹیکا کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی سماجی اور معاشی امداد اور تعاون ان گرم جوش اور مضبوط تعلقات کا ثبوت ہے۔ جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ترکی پاکستان کا قابل اعتماد اتحادی دوست ہے ان دوست ممالک کی دوستی ہمیشہ پھلتی پھولتی رہے کیونکہ ترکی اور پاکستان کی سوچ ایک جیسی ہے اور وہ کہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرو اور اپنے ملکی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے دو۔
محمد ناصر اوپل

 


ٹیگز:

متعللقہ خبریں