کون بنے گا نئے پاکستان کا نیا صدر؟ ڈاکٹرعارف علوی، قانون دان اعتزازاحسن یا پھرمولانا فضل الرحمن ؟

ان صدارتی انتخابات میں اپوزیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کے جیتنے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی

کون بنے گا نئے پاکستان کا نیا صدر؟ ڈاکٹرعارف علوی، قانون دان اعتزازاحسن یا پھرمولانا فضل الرحمن ؟

پاکستان تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار عارف علوی، پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار اعتزاز احسن اور اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمٰن کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔ تینوں 4 ستمبر کو صدر کے انتخاب میں مدمقابل ہوں گے۔

ان صدارتی انتخابات میں  اپوزیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے  تحریک انصاف  کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کے جیتنے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔  

چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی،جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے کاغذات نامزدگی درست قرار دیتے ہوئے منظور کرلیے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ میرے کاغذات نامزدگی منظورہوگئے ہیں ،صدارتی امیدوار کی نامزدگی پروزیراعظم اورپارٹی کامشکورہوں امید ہے ہم صدارتی انتخاب بہت بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔

پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدوار اعتزاز احسن نے کاغذات نامزدگی منظورہونے کے بعد کہا کہ امید ہے فضل الرحمان میرے حق میں دستبردارہوجائیں گے،اعتزاز احسن نے دعویٰ کیا کہ میرے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں،پی ٹی آئی کے کافی ووٹ مجھے پڑیں گے۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے قربانی دی اور اپنا صدارتی امیدوار نامزد نہیں کیا۔ اپوزیشن کا متفقہ صدارتی امیدوار ہوا تو کامیاب ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہاں گئے وہ جنہوں نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے۔ عمران خان کہتے تھے ہم بیرون ملک سے پیسے لائیں گے۔

مشترکہ صدارتی امیدوار کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ہماری اس اپیل پر ضرور غور کرے گی، پیپلز پارٹی کو جمہوری فیصلوں کا احترام کرنا چاہیئے۔

صدارتی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔ 12 میں سے صرف 4 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں۔

کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے والے امیدواروں میں عارف علوی، اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ امیر مقام بھی شامل ہیں جو بطور متبادل امیدوار کھڑے ہورہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 8 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی تائید و تجویز کنندہ نہ ہونے پر مسترد ہوئے۔

مملکت خدادا میں صدارتی انتخاب کا الیکٹورل کالج پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل 11 سو 70 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے لیکن ان میں سے ہر رکن کا ایک ووٹ شمار نہیں کیا جاتا۔

آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے سب سے چھوٹی اسمبلی یعنی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی مناسبت سے ہر صوبائی اسمبلی کے پینسٹھ ووٹ شمار ہوتے ہیں جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جائے گا۔

اس طرح مجموعی ووٹوں کی تعداد 702 بنتی ہے۔ ان میں سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ملک کا صدر منتخب ہو گا۔



متعللقہ خبریں