عسکری محاذ آرائی کے بجائے سیاسی میز پر بات چیت کرنا ہماری ترجیح ہے:ایران

ایرانی وزیر خارجہ  جواد ظریف نے  کہا ہے کہ اگر سعودی عرب اسلحے کی نوک  کے بجائے سیاسی  طریقوں سے  علاقائی مسائل کو   حل کرنا چاہتا ہے تو مذاکرات ہو سکتےہیں

عسکری محاذ آرائی کے بجائے سیاسی میز پر بات چیت کرنا ہماری ترجیح ہے:ایران

 ایرانی وزیر خارجہ  جواد ظریف نے  کہا ہے کہ اگر سعودی عرب اسلحے کی نوک  کے بجائے سیاسی  طریقوں سے  علاقائی مسائل کو   حل کرنا چاہتا ہے تو مذاکرات ہو سکتےہیں۔

 ایران کی پارلیمانی خبر ایجنسی   کے ایک سوال کہ آیا سعودی  ولی عہد  محمد بن سلمان کی طرف سے  ایران کے ساتھ ثالثی کےلیے عراق اور پاکستان سے درخواست کی گئی ہے  تو انہوں نے کہا کہ  ہم سے   محاذ آرائی کے بجائے سیاسی میز پر  مذاکرا ت کےلیے اگر  سعودی انتظامیہ  راضی ہو جائے تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔

  ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ  صدر روحانی نے  خلیج بصرہ کے  کنارے   موجود ممالک  کے درمیان مذاکرات کا ماحول تشکیل دینےکےلیے  ایک  امن پلان  پیش کیا تھا جس کےلیے ایران ہر  ضروری تعاون کےلیے تیار ہے ۔

 یاد رہے کہ سعودی ولی عہد نے  اپنے گزشتہ بیان میں کہا تھا کہ  ایران کے ساتھ مسائل کا حل  عسکری مداخلت کے بجائے سیاسی میز پر تلاش کیا جا سکتا ہے۔

 عالمی   میڈیا کے مطابق ، عراق اور پاکستان نے بھی اس سلسلے میں ثالثی کا کردار اداکرنے کی پیشکش کی ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں