پینٹا گون اور امریکی افواج ترکی کے فوجی آپریشن میں تعاون نہیں کریں گے، امریکہ

ترکی دیگر یورپی ممالک کے ہمراہ امریکی قیادت کے آپریشنز میں تحویل میں لیے گئے داعش کے  جنگجووں کا ذمہ دار ہو گا

پینٹا گون اور امریکی افواج ترکی کے فوجی آپریشن میں تعاون نہیں کریں گے، امریکہ

پینٹا گون  نے اعلان کیا ہے شمالی شام میں ترکی کے کسی ممکنہ آپریشن   کی نہ تو  حمایت کی جائیگی  اور نہ ہی    اس  میں تعاون فراہم نہیں کیا جائیگا۔

پینٹا گون کے ترجمان جوناتھن ہوف مان نے تحریری اعلان میں کہا ہے کہ" جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے ،امریکی وزارت ِ دفاع  بھی  ترکی کے شمالی شام میں فوجی  آپریشن کی حمایت نہیں کرتی ، یہی موقف امریکی مسلح افواج  کا بھی ہے  اور یہ اس آپریشن میں مداخلت نہیں کرے گی۔ "

دونوں ملکوں کے دفاعی امور کے حکام کے مابین مذاکرات میں  علاقے کی سلامتی  کوآرڈینیشن اور باہمی تعاون کے ذریعے ممکن بنائے جانے کی وضاحت کرنے والے ہوف مان  کا کہنا تھا " کہ وزیر مارک ایسپر اور چیف آف جنرل سٹاف مارک میلے  نے اپنے اپنے ترک ہم منصبوں  کو بتایا ہے کہ یکطرفہ اقدامات ترکی کے لیے خطرات تشکیل دیتے ہیں۔  ترکی دیگر یورپی ممالک کے ہمراہ امریکی قیادت کے آپریشنز میں تحویل میں لیے گئے داعش کے  جنگجووں کا ذمہ دار ہو گا۔ "

پینٹا گون  کی ترجمان لیفٹنٹ کارلا گلی سون  نے انادولو ایجنسی کو بتا یا ہے کہ ترکی  کو متحدہ فضائی آپریشن مرکز کی جانب  سے ایئر ٹاسک آرڈر سے خارج کر دیا گیا ہے ، ترکی  کو نگرانی اور چھان بین  ڈاٹا  کی فراہمی روک دی گئی ہے۔

اس  سے ترکی  پر فضائی حدوحد کی پابندی عائد  ہونے یا نہ ہونے کے  بارے میں ایک سوال کے جواب میں گلیسون نے بتایا کہ "تیکنیکی طور پر اس کا مفہوم  یہ نہیں ہے تو بھی ایئر ٹاسک آرڈر سے خارج کیے جانے پر آپریشن والے علاقوں میں رابطے  کے بغیر پرواز کرنا تقریباً نا ممکن بن جاتا ہے۔

 



متعللقہ خبریں