امریکہ کا صد سالہ منصوبہ عربوں کا بٹوارہ کرنے پر مبنی ہے، مراکش

مذکورہ معاہدہ فلسطینی عوام، علاقائی  سلامتی و استحکام کے خلاف خطرات پیدا کرے گا

امریکہ کا صد سالہ منصوبہ عربوں کا بٹوارہ کرنے پر مبنی ہے، مراکش

مراکش کی بنیادی ترین سیاسی  جماعت استقلال پارٹی نے  امریکی انتظامیہ کے اسرائیل۔فلسطین مسئلے کے  حل کے معاملے پر  قطعی ماہیت اختیار  نہ کر نے والے "صد سالہ منصوبے"   کو ایک نئے "اسکائز ۔پیکوٹ اگریمنٹ" کے  طور پر بیان کیا ہے۔

پارٹی کی اجراء کمیٹی سے جاری کردہ تحریری اعلامیہ میں  واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ کا  صد سالہ منصوبہ،  عربوں کے علاقے کو مشرق اور مغرب کے طور پر دو حصوں  میں تقسیم کرتے  ہوئے ان کو ایک دوسرے سے جدا کرنے  والے ایک نئے طرز  کے "اسکائز۔ پیکوٹ  معاہدے "سے ہٹ  کر کچھ نہیں ہے۔

اعلامیہ میں  خبردار کیا گیا ہے کہ مذکورہ معاہدہ فلسطینی عوام، علاقائی  سلامتی و استحکام کے خلاف خطرات پیدا کرے گا۔

اس بات  کا دعوی کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی جانب سے اسرائیل۔فلسطین تنازعے کے حل  کے معاملے میں پیش  کردہ معاہدہ  کہ' جس کی حمایت  سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر نے کر رکھی ہے ' یہ ریاستِ فلسطین کے قیام کے کے لیے جزیرہ نما سینا  کے بعض علاقوں کا انتخاب کیے  جانے پر مبنی ہے۔

ایک دوسرے دعوے کے مطابق   یہ منصوبہ القدس کو مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کیے جانے اور دریائے اردن کے مغربی کنارے  پر غیر قانونی یہودی رہائشی بستیوں کے ایک بڑے حصے کے وجود کو جاری رکھے جانے جیسی  فلسطین مخالف شقوں پر مبنی ہے۔

یاد رہے کہ اسکائز پیکوٹ معاہدہ جنگِ عظیم اوّل  جاری رہنے کے وقت سلطنت ِ عثمانیہ  کا شیرازہ  بکھیرنے اور اس کی سر زمین  کی تقسیم کے معاملے   پر  16 مئی سن 1916 کو برطانیہ اور فرانس  کے درمیان خفیہ طور پر قائم کیا گیا تھا۔

 



متعللقہ خبریں