برطانیہ کے ہاوس آف کامنز میں 25 مسلم ارکان منتخب

4 جولائی کے انتخابات میں اقلیتوں کے 89  نمائندوں  نے اپنی جگہ بنائی ہے جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے

2161439
برطانیہ کے ہاوس آف کامنز میں 25 مسلم ارکان منتخب

برطانیہ میں 4 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ہاؤس آف کامنز میں25 مسلمان پارلیمانی نمائندوں نےریکارڈ تعداد میں اپنی نشستیں بنائی ہیں۔

4 جولائی کے انتخابات میں اقلیتوں کے 89  نمائندوں  نے اپنی جگہ بنائی ہے جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

اس ملک میں 2019 کے عام انتخابات میں19اور  2017 کے انتخابات میں15 مسلمان شہری پارلیمانی نمائندے بنے تھے تو امسال  4 جولائی کے انتخابات کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے  مسلمان شہریوں کی  تعداد 25   ہو گئی ہے۔

تقریباً 35 لاکھ مسلمان آباد  ہونے والے  برطانیہ میں پہلی بار 8 مسلم ارکان پارلیمنٹ میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مسلم ارکانِ پارلیمنٹ میں سے 18 لیبر پارٹی سے، 2 کنزرویٹو پارٹی اور 1 لبرل ڈیموکریٹ پارٹی سے ہاؤس آف کامنز کا حصہ بنے ہیں۔ غزہ کی حمایت کرنے والے آزاد پارلیمانی امیدواروں میں 4 مسلمان بھی منتخب ہوئے۔

صادق الحسن، جو لیبر پارٹی کی جانب سے نارتھ سمرسیٹ کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے  ہیں، نے کنزرویٹو پارٹی کے 32 سال سے رکن پارلیمنٹ لیام فاکس کو  شکست دی ہے، یمنی نژاد ابتسام محمد ملک کے پہلے رکنِ پارلیمنٹ بنے ہیں۔

مجموعی آبادی کے 30 فیصد سے زائد کو تشکیل دینے والے تمام تر 20  حلقوں  میں لیبر پارٹی کے امیدوار ان ایم پی منتخب ہوئے ہیں، پارٹی کی قبرصی ترک  امیدوار نیصل چالشکان شمالی قبرصی  ترک جمہوریہ  نژاد  ملک کی پہلی خاتون رکن پارلیمنٹ بنی ہیں۔

ہاؤس آف کامنز میں نشستیں لینے میں کامیاب ہونے والے 25 ارکان میں سے 8 کا تعلق پاکستان کے زیر کنٹرول آزاد جموں و کشمیر سےہے۔

 



متعللقہ خبریں