فرانس کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ،بائیں بازو اتحاد سر فہرست

فرانس میں صدر امانویل ماکروں کے فیصلے پر گزشتہ روز ہونے والے ابتدائی عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بائیں بازو کا اتحاد پہلے نمبر پر رہا اور کوئی بھی جماعت اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل نہ کر سکی

2160623
فرانس کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ،بائیں بازو اتحاد سر فہرست

فرانس میں صدر امانویل ماکروں کے فیصلے پر گزشتہ روز ہونے والے ابتدائی عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بائیں بازو کا اتحاد پہلے نمبر پر رہا اور کوئی بھی جماعت اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل نہ کر سکی۔

وزارت داخلہ کی طرف سے اعلان کردہ انتخابی نتائج کے مطابق ،بائیں بازو کی 4 جماعتوں کے ذریعے بنائے گئے نیو پیپلز فرنٹ اتحاد نے پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔

نیو پیپلز فرنٹ کو 178   نشستیں ملیں، ماکروں  کا اتحاد 150  نشستوں کے ساتھ اور انتہائی دائیں بازو کا نیشنل یونٹی الائنس  125  نشستوں کے ساتھ پارلیمان میں داخل ہوا۔

انتخابات میں حصہ لینے کی شرح 66.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ان نتائج کے ساتھ کوئی بھی اتحاد یا پارٹی پارلیمنٹ میں 289 ارکان کی قطعی اکثریت تک نہیں پہنچ سکی۔

اس طرح ماکروں اتحاد کی پارلیمان میں نشستوں کی تعداد 250  سے کم ہو کر 150 رہ گئی ہے ۔ انتہائی دائیں بازو کے آر این اتحاد کے  ارکان کی تعداد 89 سے بڑھ کر 125 ہو گئی جبکہ  بائیں بازو کے اتحاد نے نشستوں کی تعداد 150 سے بڑھا کر 178 کردی۔

پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والی بائیں بازو کی نیو پیپلز  محاذکی سب سے بڑی جماعت LFI  کے رہنما ژان لک میلین شون نے انتخابی فتح کے بعد اپنی تقریر میں اشارہ دیا کہ وہ حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں۔

میلینشون نے ایک بار پھر ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کے اپنے انتخابی وعدے پر آواز اٹھائی اور کہا کہ فلسطینی ریاست کو جلد سے جلد تسلیم کرنا ان کاموں میں شامل ہو گا جو وہ اس تناظر میں کریں گے۔

30 جون کو ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں، انتہائی دائیں بازو کا اتحاد تقریباً 33 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے، نیو پاپولر فرنٹ الائنس 28 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، اور ماکروں کا "آل ٹوگیدر فار دی ریپبلک الائنس 20 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

آر این اتحاد کی برتری کے بعدماکروں  محاذ نے   فرنٹ اور بائیں بازو کی جماعتوں سے خفیہ  تعاون کیا تھا۔

دوسری جانب ،فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سڑکوں پر افراتفری مچ گئی۔

 ابتدا میں  مظاہرے میں تہوار کا ماحول تھا لیکن اگلے گھنٹوں میں پولیس اور کارکنوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ،کچھ کارکنوں نے سائیکلوں جیسی اشیاء کو آگ لگا دی اور پولیس پر آتش بازی  کی اور دیگر اشیاء پھینکیں۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے PEPPER GAS  کا استعمال کیا ۔

 

 

 



متعللقہ خبریں