داغستان میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے روس 2000 کی دہائی کی طرف نہیں جائیگا

پیسکوف نے دارالحکومت ماسکو میں صحافیوں  کو داغستان کے علاقے کے شہرمہاچ قلعے  اور دربینت میں19 افراد کے ہلاک ہونے والے  کل کے حملے  پر اپنے  جائزے پیش کیے

2155431
داغستان میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے روس 2000 کی دہائی کی طرف نہیں جائیگا

روسی صدارتی محل کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ہمیں کوئی خدشہ نہیں کہ داغستان میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے روس 2000 کی دہائی کے اوائل کے دور میں چلا جائیگا۔

پیسکوف نے دارالحکومت ماسکو میں صحافیوں  کو داغستان کے علاقے کے شہرمہاچ قلعے  اور دربینت میں19 افراد کے ہلاک ہونے والے  کل کے حملے  پر اپنے  جائزے پیش کیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ  روسی صدر ولادیمیر پوتن نے حملے میں جانیں گنوانے والوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا ہے،  روس کو غیر دوست ممالک کی جانب سے حملے کے حوالے سے  نہ تو تعزیتی پیغامات موصول ہوئے  ہیں اور نہ ہی انہیں ان ممالک کی جانب سے کوئی مذمت کی گئی  ہے۔

پیسکوف نےبتایاکہ صدر  حملے کے حوالے سے پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے  ہیں اور انہیں تواتر سے ضروری معلومات  فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کہ آیا کہ  وہ اس بات پر فکر مند ہیں کہ روس حملے کی وجہ سے 2000 کی دہائی کے اوائل کی صورت حال پر واپس آجائے گا، پیسکوف نے کہا: "نہیں، روس اب مختلف ہے۔ معاشرہ بالکل مربوط ہے اور دہشت گردی کے مظاہر اس طرح نہیں ہیں جو ہم نے کل داغستان میں دیکھے تھے۔"

پوتن  2000 سے روس پر حکومت کر رہے  ہیں ۔ اس عہدے پر سب سے پہلے ان کے پیشرو بورس یلتسن نے  انہیں عبوری طور پر فائز کیا تھا،  وہ  مارچ 2000 میں روس کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

 



متعللقہ خبریں