روسی ہتھیاروں کو شمالی کوریا سمیت دیگر ممالک کو بھیجنے کا حق محفوظ ہے، صدر پوتن

جنوبی کوریا کو روس اور شمالی کوریا کے درمیان طے پانے والے جامع تزویراتی شراکت داری  کے معاہدے  پر تشویش نہیں رکھنی  چاہیے

2154648
روسی ہتھیاروں کو شمالی کوریا سمیت دیگر ممالک کو بھیجنے کا حق محفوظ ہے، صدر پوتن

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ وہ روسی ہتھیاروں کو شمالی کوریا سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں بھیجنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

روسی صدارتی محل (کریملن) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پوتن نے ویتنام کے دورے کے بعد دارالحکومت ہنوئی میں پریس کانفرنس کی۔

ایک سوال کہ "روس اور شمالی کوریا کے درمیان طے پانے والے جامع تزویراتی شراکت داری  معاہدے میں فریقین میں سے کسی ایک پر حملے کی صورت میں باہمی فوجی امداد کی شق کن شرائط کے تحت لاگو ہوگی؟" کے جواب میں  پوتن نے کہا: "یہ کوئی نیا معاہدہ نہیں،  ہم نے یہ معاہدہ اس لیے کیا کیونکہ پرانے معاہدے کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ یہ سب کچھ  1962 میں کیے گئے معاہدے میں شامل تھا۔ شمالی کوریا کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی ایسے ہی معاہدے موجود  ہیں۔"

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ "شمالی کوریا کے ساتھ معاہدے جزیرہ نما کوریا کے بحران کے بڑھنے کا   سد باب کریں گے۔"

ولادیمیر پوتن نے بیان دیا کہ جنوبی کوریا کو روس اور شمالی کوریا کے درمیان طے پانے والے جامع تزویراتی شراکت داری معاہدے  پر تشویش نہیں رکھنی  چاہیے اور کہا کہ "یوکرین کو طیارے بھیجنا جنوبی کوریا کے لیے بہت بڑی غلطی ہو گی، مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ اگر ہوتا ہے تو ، پھر ہم بھی ہم ایسے فیصلے کریں  گے  جو جنوبی  کورین انتظامیہ کو اچھے نہیں لگیں گے۔"

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مغربی ممالک یوکرین کو ہتھیار بھیج رہے ہیں، پوتن نے کہا، "ہتھیار بھیجنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں لڑ رہے ہیں۔ ہم اپنے ہتھیاروں کو دنیا کے دوسرے حصوں میں بھیجنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔  میں شمالی کوریا کے ساتھ طے کردہ معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس امکان کو مسترد نہیں کرتا۔"

 



متعللقہ خبریں