ہم مغرب کو بائی پاس کرنے والے کسی تجارتی میکانزم کو فروغ دیں گے، پوتن

روس اور شمالی کوریا پہلے کی طرح اب کثیر جہتی شراکت داری کو فعال طور پر فروغ دے رہے ہیں

2153910
ہم مغرب کو بائی پاس کرنے والے کسی تجارتی میکانزم کو فروغ دیں گے، پوتن

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا کہنا ہے کہ وہ متبادل تجارت اور باہمی معاہدے کے میکانزم کو فروغ  دیں  گے جن پر مغرب کا کنٹرول نہیں  ہو گا۔

ولادیمیر پوتن نے 24 سال بعد اپنے دورے سے قبل شمالی کوریا کے پریس کے لیے ایک مضمون قلم بند کیا۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ روس اور شمالی کوریا پہلے کی طرح اب کثیر جہتی شراکت داری کو فعال طور پر فروغ دے رہے ہیں، پوتن نے کہا کہ وہ یوکرین میں روس کی جنگ میں شمالی کوریا کی  غیر متزلزل  حمایت کو سراہتے ہیں۔

پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں خوشی ہے کہ شمالی کوریا کئی دہائیوں کے اقتصادی دباؤ، اشتعال انگیزی، بلیک میلنگ اور امریکہ کی طرف سے فوجی دھمکیوں کے باوجود مؤثر طریقے سے اپنے مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات کو مزید جمہوری اور مستحکم بنانے کے لیے قریبی تعاون کے لیے تیار ہیں، پوتن نے کہا: "ہم ،مغرب کا کنٹرول نہ ہونے والے  متبادل تجارتی اور باہمی معاہدے کے طریقہ کار کو وضع کریں  گے۔ ہم مل کر ناجائز یکطرفہ پابندیوں کا مقابلہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی، ہم یوریشیا میں ایک مساوی اور ناقابل تقسیم سیکیورٹی معماری کی نشاط  کریں گے۔

24 سال بعد شمالی کوریا کا دورہ کرنے والے پوتن 2 روزہ رابطوں کے حصے کے طور پر ملک کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کریں گے۔

بتایا گیا ہے  کہ دونوں ممالک  بہت سے شعبوں بالخصوص دفاعی شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے فیصلے کر سکتے ہیں۔

 



متعللقہ خبریں