روسی فوج ماریو پول میں جامع اشتعال انگیزی کی چال چلنے کے درپے ہے، زیلنسکی

اگر کرہ ارض کا ہر انسان  ہم یوکیرینی عوام  کی بہادری اور جسارت کے 10 فیصد کا بھی مالک ہوتا تو  پھر  بین الاقوامی قوانین  اور عوام کی آزادی کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لا حق نہ ہوتا

1809264
روسی فوج ماریو پول میں  جامع اشتعال انگیزی کی چال چلنے کے درپے ہے، زیلنسکی

یوکیرینی  صدر ولا دیمر زیلسنکی  نے واضح کیا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ  روسی زیر محاصرہ  شہر ماریوپول  میں وسیع پیمانے کی اشتعال انگیز ی  مچائیں  گے۔

زیلسنکی نے  قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ   روس یوکیرین پر  43 دنوں سے حملے  کر رہا ہے تو یوکیرینی عوام   بہادرانہ طریقے سے ان کے برخلاف مزاحمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

 یوکیرینی عوام کے حوصلوں اور بہادری  کی تعریف کرنے والے صدر ِ یوکیرین نے کہا کہ اگر کرہ ارض کا ہر انسان  ہم یوکیرینی عوام  کی بہادری اور جسارت کے 10 فیصد کا بھی مالک ہوتا تو  پھر  بین الاقوامی قوانین  اور عوام کی آزادی کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لا حق نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ روس پر عائد کردہ پابندیا  ں جنگ کا سد باب کرنے میں ناکافی ہیں ، ہمیں کہیں زیادہ پابندیوں اور بہادر اقدامات کی ضرورت ہے،  جنگ میں فتح سے ہمکنار ہونے  کے لیے مزید اسلحہ کی ضرورت ہونے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اگر ہمیں  بھر پور طریقے سے ہتھیار فراہم کیے جاتے ہیں تو یہ روس کے برخلاف  کڑی ترین پابندی کے مترادف ہو گا۔

زیلسنکی نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ یوکرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جواز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس کی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت معطل کر دی تھی۔"روس کا طویل عرصے سے انسانی حقوق کے تصور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ  ایک دن یہ بدل جائے ۔ لیکن اب تک روسی ریاست اور روسی فوج دنیا میں آزادی، انسانی سلامتی اور انسانی حقوق کے تصورات کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا  بوچا میں واضح طور پر مشاہدہ ہوا ہے۔"

یوکیرنی رہنما نے بتایا کہ روسی ماریوپول میں ایک جامع اشتعال انگیزی کریں گے"وہ ماریوپول میں متاثرین کو ایسا دکھائیں گے کہ انہیں یوکیرینی فوج نے مارا ہے نہ  کہ روسی فوج نے۔ یہ  سڑکوں سے لاشیں جمع کر رہے ہیں  اور وہ اپنے پروپیگنڈے کے منظر نامے کے مطابق انہیں کہیں اور استعمال کر سکتے ہیں۔ ‘‘

 



متعللقہ خبریں