ترکی میں روسی اور یوکیرینی وفود کے درمیان مذاکرات ایک اہم موقع ثابت ہو سکتے ہیں، زیلنسکی

ہ یوکیرین کی حاکمیت اور زمینی سالمیت  ناقابل بحث معاملات ہیں اور  مؤثر سلامتی  کی ضمانت مملکتوں کے لیے لازمی ہے

1802768
ترکی میں روسی اور یوکیرینی وفود کے درمیان مذاکرات ایک اہم موقع ثابت ہو سکتے ہیں، زیلنسکی

یوکیرین کے صدر ولا دیمر زیلسنکی  نے استنبول میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے بار ے میں کہا ہے کہ’’ترکی میں بلمشافہ مذاکرات  ایک موقع اور تقاضا ہے۔‘‘

زیلسنکی نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو  پیغام میں  اپنے ملک اور روس  کے مذاکراتی وفود کے درمیان ترکی  میں ہونے والے مذاکرات کا تذکرہ کیا۔

مذاکرات میں  اپنی ترجیحات سے   آگاہی ہونے پر زور دینے والے یوکیرینی صدر کا کہنا تھا کہ’’ہمارے سامنے مذاکرات کا ایک نیا  مرحلہ موجود ہے، کیونکہ ہم قیام ِ امن کے متمنی ہیں۔ ھیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ   ترکی میں براہ راست مذاکرات کے لیے ایک موقع موجود ہے  جس کی ضرورت بھی ہے،  یہ خوش آئند ہو سکتا ہے،  ہم ان کے نتائج  کو دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اپنے ملک میں معمولات زندگی کی بحالی  کا ہدف رکھنے کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ یوکیرین کی حاکمیت اور زمینی سالمیت  ناقابل بحث معاملات ہیں اور  مؤثر سلامتی  کی ضمانت مملکتوں کے لیے لازمی ہے۔

دوسری جانب آسڑوی دارالحکومت ویانا میں   ان کے ملک کے لیے منعقدہ امدادی کانسرٹ  کے لیے بھی ایک ویڈیو پیغام روانہ کرنے والے زیلسنکی نے  یوکیرین کو اسلحہ کی امداد، روس پر بھاری پابندیوں، پناہ گزینوں کے لیے  انسانی   شرائط اور  شہریوں کو جھڑپوں والے مقامات سے نجات دلانے کے لیے انسانی  راہداری  کے قیام جیسے مطالبات بھی پیش کیے۔

 



متعللقہ خبریں