طالبان وفد کی میزبان کرنا، طالبان انتظامیہ کی حیثیت کو جائز نہیں بناتا، نارویجین وزیر اعظم

بات چیت میں افغانستان کے لیے انسانی امداد کے ساتھ ساتھ افغان خواتین کی تعلیم اور طالبان حکومت کے اثرِ رسوخ پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔

1768666
طالبان وفد کی میزبان کرنا، طالبان انتظامیہ کی حیثیت کو جائز نہیں بناتا، نارویجین وزیر اعظم

ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی میزبانی میں طالبان ارکان سے ملاقاتیں ضروری ہیں۔

وائس آف امریکہ کی خبر کے مطابق، سٹور نے نیویارک،  میں امریکی پریس کو  بیانات دیے۔

سٹور نے کہا کہ انسانی حقوق کے علمبردار گروہوں کے احتجاج کے باوجود 23-25 ​​جنوری کو دارالحکومت اوسلو میں طالبان ارکان کے ساتھ مذاکرات لازمی تھے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ طالبان انتظامیہ کی میزبانی حکومت کے لیے ایک مشکل اقدام تھا، سٹور نے کہا کہ اس ملاقات کا مفہوم طالبان انتظامیہ کو "جائز" بنانا نہیں تھا۔

اسٹور نے ان مذاکرات کو افغانستان میں انسانی بحران کو روکنے کے لیے "پہلا قدم" اور طالبان کی جانب بین الاقوامی توقعات اور پیغامات پہنچانے کے لیے "فریم ورک" کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ مذاکرات "مخلصانہ" اور "سنجیدہ" نوعیت کے تھے۔

افغانستان میں انسانی صورتحال کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے اسٹور نے کہا کہ 10 لاکھ بچے غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں اور نصف آبادی امداد کی احتیاج مند ہے۔

بتایا گیا  کہ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی بات چیت میں ملک کے لیے انسانی امداد کے ساتھ ساتھ افغان خواتین کی تعلیم اور طالبان حکومت کے اثرِ رسوخ پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔

اوسلو میں طالبان کے وفد سے ملاقات  کرنے والے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے برائے افانستان  ٹامس نکلسن نے کہا کہ انہوں نے ملاقات میں  اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان تعلیمی سال شروع ہونے والے ماہ مارچ میں پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں تک لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے رسائی ممکن ہونی چاہیے"۔



متعللقہ خبریں