یورپی یونین کی اپیل: غیر قانونی یہودی رہائشی بستیوں کی تعمیر کو روکا جائے

یورپی یونین اسرائیل کو رہائشی بستیوں کی تعمیر سے متعلقہ تمام کاروائیاں روکنے کی اپیل کرتی ہے: یورپی یونین خارجہ تعلقات سروس

1765659
یورپی یونین کی اپیل: غیر قانونی یہودی رہائشی بستیوں کی تعمیر کو روکا جائے

یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور ان کے رہائشی مکانات منہدم کر کے ان کی جگہ غیر قانونی یہودی رہائشی بستیوں کی تعمیر کو روکا جائے۔

یورپی یونین خارجہ تعلقات سروس سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس کے شیخ جرّاح اور سیلوان محلّوں میں سالوں سے مقیم فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا جاری رکھا تو اس سے فیلڈ کے تناو میں اضافہ ہو گا اور مشرقی بیت المقدس سمیت دریائے اردن کے مغربی کنارے پر بے دخلی اور انہدام کے رجحان کو پُر تشویش شکل میں ہوا ملے گی۔

بیان میں اسرائیل کے 17 جنوری کے فیصلے کی یاد دہانی کروائی گئی ہے۔ مذکورہ فیصلہ مشرقی بیت المقدس کی زمینوں میں "زیریں واٹر بیلٹ منصوبے" کے لئے ہاراہوما اور گیوات ہاماتوس کے درمیان 1450 سے زائد یہودی رہائشی بستیوں کی تعمیر سے متعلق ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ پلان مستقبل میں القدس کے دونوں حکومتوں کا دارالحکومت ہونے کے امکان کی مزید بیخ کنی کر رہا ہے لہٰذا یورپی یونین اسرائیل کو رہائشی بستیوں کی تعمیر سے متعلقہ تمام کاروائیاں روکنے کی اپیل کرتی ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ " رہائشی مکانات کا انہدام اور بے دخلیاں بین الاقوامی قانونی کی رُو سے غیر قانونی ہیں۔ یہ کاروائیاں کشیدگی میں اضافہ کر کے دو حکومتی حل کے اطلاق کو خطرے میں ڈال رہی اور پائیدار امن کی امیدوں کو ختم کر رہی ہیں۔ یورپی یونین، امن مرحلے کے دوبارہ آغاز کے لئے فریقین کی مکمل حمایت کے لئے تیار ہے"۔

واضح رہے کہ اسرائیل بین الاقوامی ردعمل کے باوجود شیخ جرّاح اور سیلوان محلّوں سمیت مشرقی بیت المقدس میں یہودی رہائشی بستیوں کو وسیع کرنے کے لئے فلسطینیوں کے مکانات منہدم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

 



متعللقہ خبریں