یورپی یونین نے بریگزٹ میں 31 جنوری تک توسیع کی منظوری دے دی

یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘یورپی یونین بریگزٹ میں توسیع کے لیے برطانیہ کی درخواست کو منظور کرے گی اور اس کو 31 جنوری 2020 تک توسیع دی جائے گی

1296547
یورپی یونین نے بریگزٹ میں 31 جنوری تک توسیع کی منظوری دے دی

یورپی کونسل کےصدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کی تاریخ کی توسیع کیلئے27 رکن ممالک نے منظوری دی ہے جس کےبعد بریگزٹ کی ڈیڈلائن 31اکتوبر 2019 سےبڑھا کر 31جنوری2020 کر دی گئی ہے۔

 یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں اپنے بیان میں کہا کہ ‘یورپی یونین بریگزٹ میں توسیع کے لیے برطانیہ کی درخواست کو منظور کرے گی اور اس کو 31 جنوری 2020 تک توسیع دی جائے گی’۔

واضح رہے کہ برطانیہ کو 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے نکل جانا تھا تاہم  برطانوی وزیراعظم نے نا چاہتے ہوئے بھی پارلیمنٹ کی منظور کردہ قرارداد کی وجہ سے یورپین کونسل سے بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع  کی درخواست کی تھی۔ بورس جانسن کی جانب سے لکھی گئی اس درخواست پر ان کے دستخط بھی نہیں تھے۔

س درخواست کے بعد بورس جانسن نے یورپی یونین کو ایک اور خط بھی لکھا تھا جس میں کہا گیا کہ ان کے خیال میں بریگزٹ میں تاخیر ایک غلطی ہو گی۔

یاد رہے کہ برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون 2017 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 جب کہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، کیوں کہ وہ بریگزٹ کے مخالف تھے۔

ڈیوڈ کیمرون کے استعفے کے بعد برطانیہ کی وزیراعظم بننے والی ٹریزا مے نے جولائی میں بریگزٹ ڈیل کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور ان کے بعد بورس جانسن نے عہدہ سنبھالا تھا۔

 وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بورس جانسن نے کہا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو برطانیہ31 اکتوبر کو  یورہی یونین سے علیحدہ ہوجائے  گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ  اگر یورپی یونین سے علیحدگی کا معاہدہ نہ ہوا تو بغیر معاہدے کے ہی علیحدہ ہوجائیں گے۔

بورس جانسن کی جانب سے متعد مرتبہ  یورپی یونین سے انحلاء کے اصرار کے باوجود یورپی یونین سے نکلنے کی صورت میں ہونے والے معاہدوں (بریگزٹ ڈیل) کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہوتارہا ہے۔

 



متعللقہ خبریں