ڈنمارک انتخابات: سوشل ڈیموکریٹس کو فتح، وزیراعظم کا اعترافِ شکست

ڈنمارک میں دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والا اتحاد جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں حیرت انگیز طور پر اس میں شامل تارکین وطن کی مخالف ایک پارٹی کی کامیابیوں کے باعث جیت گیا ہے

1214172
ڈنمارک انتخابات: سوشل ڈیموکریٹس کو فتح، وزیراعظم کا اعترافِ شکست

ڈنمارک میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں حزبِ اختلاف کے پانچ جماعتی اتحاد نے فیصلہ کن فتح حاصل کرلی ہے جس کی قیادت بائیں بازو کی جماعت ’’سوشل ڈیموکریٹس‘‘ کررہی ہے جس نے ڈینش پارلیمنٹ کی 179 میں سے 91 نشستیں جیت لی ہیں۔

ڈنمارک میں دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والا اتحاد جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں حیرت انگیز طور پر اس میں شامل تارکین وطن کی مخالف ایک پارٹی کی کامیابیوں کے باعث جیت گیا ہے۔

ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ابتدائی سرکاری نتائج کے مطابق سابق وزیرِ اعظم لارس راسموسن کی قیادت میں حزب مخالف کے اتحاد نے 179 اراکین پر مشتمل پارلیمان میں 90 نشستیں حاصل کی ہیں۔ موجودہ وزیرِ اعظم ہیلے تھورننگ شمڈٹ کے بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والے اتحاد نے 85 نشستیں حاصل کی ہیں۔

جمعے کی صبح تھورننگ شمڈٹ نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہو جائیں گی۔

ڈنمارک کی پہلی خاتون سربراہ نے اس امید پر جلد انتخابات منعقد کروائے تھے کہ وہ چار سال قبل اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد کی جانے والی سخت اقتصادی اصلاحات کے باعث ہونے والی معاشی بحالی کا فائدہ حاصل کر سکیں گی۔

مگر راسموسن نے اپنی مہم میں اس بات پر توجہ مرکوز کی تھی کہ تھورننگ شمڈٹ نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد معاشی بحران کی وجہ سے بے روزگاری الاؤنس اور طلبا کو دی جانے والی امداد کو کم کر دیا تھا۔

جیتے والے اتحاد سے تعلق رکھنے والی تارکین وطن کی مخالف، دائیں بازو کی جماعت ڈینش ڈیموکریٹک پارٹی نے 21 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے جس سے وہ پارلیمان کی دوسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔

حکمراں جماعت لبرل پارٹی (وینسترے) سے تعلق رکھنے والے ڈینش وزیراعظم لارس لوکے راسمیوسن نے انتخابی عمل کو سراہتے ہوئے شکست کا اعتراف کیا ہے اور سوشل ڈیموکریٹس کو حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔

اس طرح سوشل ڈیموکریٹس کی رکن پارلیمنٹ میٹ فریڈرکسن کے آئندہ ڈینش وزیراعظم بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں جو اس وقت صرف 41 سال کی ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو وہ ڈنمارک کی سب سے کم عمر وزیراعظم بھی ہوں گی۔

واضح رہے کہ 2015 کے ڈینش الیکشنز میں ’’وینسترے‘‘ پر مشتمل اتحاد نے فتح حاصل کرکے، برسرِ اقتدار سوشل ڈیموکریٹس کو حزبِ اختلاف کا راستہ دکھایا تھا جبکہ حالیہ انتخابات میں وینسترے کو شکست دے کر سوشل ڈیموکریٹس نے حساب برابر کردیا ہے۔



متعللقہ خبریں