اسرائیل کی پالیسیاں علاقے میں دو مملکتی حل کی امیدوں کو ختم کر سکتا ہے

اسرائیل  کی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے منافی  اور دو مملکتی حل کے احتمال کو زد پہنچا رہی ہیں، موغارینی

اسرائیل کی پالیسیاں علاقے میں دو مملکتی حل کی امیدوں کو ختم کر سکتا ہے

یورپی یونین کی خارجی امور اور سیکورٹی پالیسیوں  کی نمائندہ اعلی فریڈریکا موغارینی  کا کہنا ہے  کہ اسرائیل کی جانب سے نئی رہائشی کالونیوں کی تعمیر  نے دو مملکتی حل کی امیدیں معدوم ہو گئی ہیں۔

موغارینی نے فرانسیسی شہر سٹرازبرگ میں منعقدہ یورپی پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی   کی  "امریکہ کی جانب سے مقبوضہ  گولان چوٹیوں پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے فیصلے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو  کے دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کی صورت  میں مقبوضہ  غرب ِ اُردن  میں واقع غیر قانونی یہودی  بستیوں کے اسرائیل سے الحاق کا عندیہ دینے " سے متعلق خصوصی نشست سے خطاب کیا۔

انہوں نے اسرائیل میں تاحال تشکیل نہ پانے والی نئی حکومت کی ممکنہ پالیسیوں کے حوالے سے تبصرہ نہ کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ "اسرائیل  نے 4 ہزار 600مکانات کی تعمیر ات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل  کی  یہ سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے منافی  اور دو مملکتی حل کے احتمال کو زد پہنچا رہی ہیں۔ دراصل یہ کاروائیاں دو مملکتی حل  کونہ صرف دور ہٹا رہی ہیں بلکہ اس   کو بتدریج ختم کر رہی ہیں۔

انہوں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ دو مملکتی  حل  کو ایجنڈے سے خارج کیا جانا نہ صرف مقدس سر زمین بلکہ پورے مشرق وسطی کو نقصان پہنچائے گا بلکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی   کو  المناک سطح کی جانب دھکیلے جیسے نتائج پیدا کرسکتا ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں