ایکواڈور نے آسنج کے ساتھی کو حراست میں لے لیا

اولا بن کے مجرم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عدالت کرے گی تاہم ہم ایکواڈور کو جعل سازی اور جاسوسی کا مرکز بنائے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ دور اب ختم ہو چکا ہے: رومو

ایکواڈور نے آسنج کے ساتھی کو حراست میں لے لیا

ایکواڈور نے سیاسی پناہ گزین کی حیثیت ختم ہونے کے بعد لندن میں حراست میں لئے جانے والے وکی لیکس کے بانی جولئین آسنج  سے منسلک ہونے کے دعوے کے ساتھ سویڈن کے ایک کمپیوٹر پروگرامر اولا بن کو حراست میں لے لیا ہے۔

یکواڈور کے حکام کے بیان کے مطابق 36 سالہ سویڈش شہری اولا بِن کو دارالحکومت کوئیٹو  سے جاپان فرار  ہونے کے دوران ائیر پورٹ پر حراست میں لیا گیا ہے۔

ایکواڈور کے وزیر داخلہ پاولا رومو نے کہا ہے کہ اولا بِن، آسنج کی سیاسی پناہ گزین کی حیثیت  کے خاتمے کا سدباب کرنے کے لئے صدر لینن مورینو کے ساتھ چال چلنے کی تیاریوں میں تھے اور اس کے لئے وہ ایکواڈور میں مقیم 2  روسی کمپیوٹر ہیکروں  کے ساتھ  گٹھ جوڑ کر رہے تھے۔

رومو کا کہنا ہے کہ اولا نے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں 12 دفعہ آسنج کے ساتھ ملاقات کی اس کے علاوہ وہ رواں سال وینزویلا گئے جہاں انہوں نے  مورینو  کے سابق سفیر اور نئے دشمن ایکواڈور کے سابق صدر رافیل کورییا کے ساتھ ملاقات کی۔

حراست کے وقت اولا بن سے 30 عدد یو ایس بی ڈرائیو برآمد ہوئی ہیں۔

رومونے کہا ہے کہ اولا بن کے مجرم ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عدالت کرے گی تاہم ہم ایکواڈور کو جعل سازی اور جاسوسی کا مرکز بنائے جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ دور اب ختم ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ وکی لیکس کے بانی جولئین آسنج 2012 سے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں مقیم تھے ۔ انہیں 11 اپریل کو حراست میں لے لیا گیا اور بعد ازاں ضمانت پر رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے اور امریکہ کی طرف سے واپسی کے مطالبے کے دائرہ کار میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔



متعللقہ خبریں