بیانات کی جنگ کے بعد پوپ۔ٹرمپ ملاقات کا وقت آن پہنچا

پوپ اور ٹرمپ کے موسمیاتی تبدیلیوں اور مہاجرین کے موضوعات پر ایک دوسرے سے متضاد خیالات کا حامل ہونے اور اس سے قبل ذرائع ابلاغ سے ایک دوسرے کے لئے سخت بیانات کا تبادلہ کرنے کی وجہ سے مذاکرات کے ساتھ دلچسپی میں اضافہ

738232
بیانات کی جنگ کے بعد پوپ۔ٹرمپ ملاقات کا وقت آن پہنچا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی سرکاری دورے کے تیسرے مرحلے میں اٹلی پہنچ گئے ہیں۔

اٹلی میں اپنی مصروفیات کے دوران ٹرمپ دارالحکومت روم میں اور ویٹیکن میں ملاقاتیں  و مذاکرات کریں گے۔

سب سے پہلے وہ کیتھولک فرقے کے روحانی پیشوا اور ویٹیکن کے سربراہ پوپ فرانسس کے ساتھ خصوصی ملاقات کریں گے۔

پوپ اور ٹرمپ کے موسمیاتی تبدیلیوں  اور مہاجرین کے موضوعات پر ایک دوسرے سے متضاد خیالات  کا حامل ہونے اور اس سے قبل ذرائع ابلاغ سے ایک دوسرے کے لئے سخت بیانات کا تبادلہ کرنے کی وجہ سے مذاکرات سے دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے اپنی صدارتی مہم کے دوران میکسیکو کے سرحد پر دیوار چنوانے کی سوچ کا اظہار کرنے پر  پوپ فرانسس نے کہا تھا کہ 'دیواریں چنوانے کی سوچ  کا مالک عیسائی نہیں ہو سکتا'۔

اگرچہ صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ پوپ کے ساتھ بیانات کی جنگ سے پرہیز کرنے لگے لیکن صدارتی مہم کے دوران انہوں نے پوپ کے لئے کہا تھا کہ ایک دینی رہنما کا کسی دوسرے کے اعتقادات کی پوچھ پڑتال کرنا باعثِ شرمندگی ہے۔

پوپ نے حالیہ دنوں میں امریکی فوج کے غیر جوہری طاقتور ترین بم کو "بموں کی ماں" کا نام دئیے جانے پربھی  ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ" ماں انسان کو زندگی دیتی ہے اور بم موت"۔

ٹرمپ ویٹیکن  کے سرکاری سیکرٹری پیٹرو پارولین کے ساتھ ملاقات کے بعد ویٹیکن کے احاطے میں واقع معروف سِسٹینے شاپل  کی سیر کریں گے۔

ویٹیکن میں اپنی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد ٹرمپ اٹلی کے صدر سرگیو ماتاریلا اور وزیر اعظم پاولو گینتی لونی کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

شام کے وقت صدر ٹرمپ اپنے وفد کے ہمراہ  نیٹوسربراہان کے اجلاس میں شرکت کے لئے بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز روانہ ہو جائیں گے۔

نیٹو سربراہی اجلاس  میں شرکت کے بعد وہ G7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے ایک دفعہ پھر اٹلی تشریف لے جائیں گے۔

روم میں صدر ٹرمپ کی بھاری مذاکراتی ٹریفک کی وجہ سے شہر میں سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔

دوسری طرف ٹرمپ مخالفین نے روم میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے۔



متعللقہ خبریں