ہم بوقت ضرورت آذربائیجان کے ساتھ واحد فوج اور واحد ضرب بننا بھی جانتے ہیں: آقار

30 سالوں سے خاموش یورپی یونین، آذربائیجان کی فتح کے بعد آرمینیا کے دفاع کے مختلف عناصر علاقے میں بھیجنا شروع ہو گئی ہے لیکن کوئی نہ بھولے کہ ترکیہ ہمیشہ آذربائیجان' کے ساتھ ہے: وزیر دفاع حلوصی آقار

1915373
ہم بوقت ضرورت آذربائیجان کے ساتھ واحد فوج اور واحد ضرب بننا بھی جانتے ہیں: آقار
turk-azerbaycan.jpg
hulusi akar turk azerbaycan.jpg

ترکیہ کے وزیر دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ ہم ترکیہ اور آذربائیجان کے خلاف خطرے یا اشتعالی کاروائی کو، خواہ وہ کہیں سے بھی اور کسی کی طرف سے بھی کیوں نہ ہو، دونوں ملکوں کے خلاف خطرہ یا اشتعالی کاروائی  قبول کریں گے۔

آقار نے کہا ہے کہ" ہم میں سے ایک کا  دوست دوسرے کا بھی  دوست اور ایک کا دشمن کا بھی دشمن ہے"۔

وزیر دفاع حلوصی آقار نے ترکیہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل یاشار گلیر اور مسلح فورسز کے کمانڈروں کے ہمراہ "ضربِ برادر" کے نام سے منعقدہ آذربائیجان۔ ترکیہ مشترکہ فوجی مشقوں کی "منتخب مبصر" نامی کاروائیوں  کو دیکھا۔

آذربائیجان مسلح افواج کے سربراہ جنرل ذاکر حسن اوف کے ہمراہ مشقیں دیکھنے کے بعد انہوں نے دونوں ممالک کی افواج سے خطاب کیا۔

خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ "ترکیہ اور آذربائیجان حقیقی برادر ملک  ہیں۔ ہر طرح کے خطرے میں ، ہر غمی اور ہر خوشی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہیں۔ "واحد وطن آپریشن"  کے زیرِ عنوان آذری زمین کی 30 سالہ آرمینی قبضے سے رہائی کے دوران دنیا نے ایک دفعہ پھر اس بھائی چارے کا مشاہدہ کیا ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ "30 سالوں سے قتل عاموں تک کے مقابل خاموش اور لاتعلق رہ کر مسائل کو گورکھ دھندے میں تبدیل کرنے والی یورپی یونین  اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے آذربائیجان کی فتح کے بعد ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر آرمینیا کے دفاع کے لئے  مختلف عناصر اور وفود  کو علاقے میں بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن کوئی بھی یہ بات نہ بھولے کہ ترکیہ ہمیشہ اپنے  بھائی 'جان آذربائیجان' کے ساتھ ہے"۔

آقار نے کہا ہے کہ  "میں ایک دفعہ  پھر اس پہلو پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ہم دو حکومتیں واحد ملت ہیں۔ ہم بوقت ضرورت آذربائیجان کے ساتھ واحد فوج، واحد طاقت اور واحد ضرب بن جانا بھی جانتے ہیں۔ ترکیہ اور آذربائیجان کے خلاف خطرہ یا اشتعالی کاروائی خواہ  کہیں سے بھی اور کسی کی طرف سے بھی کیوں نہ ہو دونوں ملکوں کے خلاف قبول کی جائے گی۔ آذربائیجان کا دوست ہمارا دوست اور آذربائیجان کا دشمن ہمارا دشمن ہو گا"۔



متعللقہ خبریں