لیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG شمالی شام میں جائز اہداف ہیں : ابراہیم قالن

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے ان خیالات  کا اظہار  قطر میں الجزیرہ  ٹی  وی  چینل کے پروگرام میں سوالات کے جوابات  دیتے ہوئے کیا

1914765
لیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG  شمالی شام میں جائز اہداف ہیں : ابراہیم قالن

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا کہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے عناصر شام کے شمال، مشرق، مغرب میں یا ترکیہ کی سرحد کے قریب کے علاقوں میں ترکیہ کے لیے جائز اہداف ہیں۔

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے ان خیالات  کا اظہار  قطر میں الجزیرہ  ٹی  وی  چینل کے پروگرام میں سوالات کے جوابات  دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے 13 نومبر کو استنبول کی استقلال اسٹریٹ پر دہشت گردانہ حملے  جس میں 6 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 81 افراد زخمی ہوئے کے جواب میں ترکیہ کی جانب سے شام اور عراق کے شمال میں کی گئی فضائی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئےقالن  نے کہا کہ ان  دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی چاہے یہ دہشت  گرد زمین میں گھس جائیں یا آسمان پر چلے جائیں، ان کے خلاف لازمی طور پر  کاروائیاں ہونگی۔

قالن نے یاد دلایا کہ ان کے پاس واضح ثبوت ہیں کہ استنبول میں دہشت گردانہ حملے کے پیچھے PKK/YPG کا ہاتھ ہے، اور یہ کہ بم نصب کرنے والے دہشت گرد کی مدد کرنے والوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے  PKK  کی جانب سے  حالیہ برسوں میں اپنی حکمت عملی تبدیل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے  کہا کہ دہشت گرد اپنے آپ کو چھپانے کے لیے مختلف قومیتوں کے لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں ۔

قالن نے اس بات پر زور دیا کہ PKK اور YPG دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور شام کے شمال، مشرق، مغرب یا ترکیہ کی سرحد کے قریب کے علاقوں میں ان تنظیموں کے عناصر اور مقامات انقرہ کے لیے جائز اہداف ہیں۔

یہ بتاتے ہوئے کہ ترکی نے شمالی شام میں کیے گئے آپریشن میں PKK/YPG عناصر کو نشانہ بنایا اور امریکی یا روسی افواج کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم (امریکی اور روسی افواج) کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ان عناصر سے دور رہیں۔ PYD/YPG اپنی حفاظت کے لیے ایک مقام پر امریکی پرچم اور دوسرے مقام پر حکومت کا پرچم استعمال  کرہی ہے۔

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے واشنگٹن کے ان بیانات کو مسترد کر دیا کہ شمالی شام میں ترکیہ کی حالیہ فضائی کارروائیوں نے امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے  کہا کہ ہم اپنے امریکی اتحادیوں کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ ہم امریکیوں، شہریوں، روسیوں، ایرانیوں یا دیگر کو نشانہ نہیں بنائیں گے، اور یہ کہ ہمارا ہدف خاص طور پر PKK، PYD/YPG عناصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  اگرپی کے کے/وائی پی جی کے خلاف  زمینی کارروائی شروع کی جاتی ہے تو  شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کے قیدیوں کی حراست کی ضمانت نہیں دے سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ PKK/YPG مذاکرات کے لیے امریکیوں اور یورپین  سے مزید حمایت، فوجی، سیاسی اور میڈیا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے داعش کے قیدیوں کو سیاسی یرغمالیوں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔



متعللقہ خبریں