ترکیہ: روس کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے

ہماری خواہش  ہے کہ ہمیں ثالثی میں اوردنیا کا رُخ  جنگوں کی بجائے امن و امان کی طرف موڑنے میں کامیابی حاصل ہو: صدر رجب طیب ایردوان

1904606
ترکیہ: روس کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان  نے روس وزارت دفاع کے  یوکرینی شہر خیرسون سے انخلاء کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ "روس کا خیرسون سے نکلنے کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے"۔

صدر ایردوان ترک حکومتی کمیٹی کے 9 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے ازبکستان کے دورے پر ہیں۔  روانگی سے قبل دارالحکومت انقرہ میں ایسن بوعا ایئر پورٹ پر اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے 24 فروری سے جاری روس۔یوکرین جنگ کا جائزہ لیا۔

انہوں نے ثالثی کے حوالے سے ترکیہ کی طرف سے جاری کاروائیوں کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ "اس مسئلے کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ دینا ممکن نہیں ہے لیکن روس کا خیرسون سے انخلاء کا حالیہ فیصلہ ایک مثبت اور اہم قدم ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ روس جی۔20 میں شرکت کرے گا یا نہیں۔ اگر شریک ہوا تو وہاں ملاقات ہو سکتی ہے بصورت دیگر ہم روس کے ساتھ ٹیلی فونک ڈپلومیسی جاری رکھیں گے۔ ہماری خواہش  ہے کہ ہمیں ثالثی  میں اوردنیا کا رُخ  جنگوں کی بجائے امن و امان کی طرف موڑنے میں کامیابی حاصل ہو"۔

صدر ایردوان نے آرمینیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی بات کی اور کہا ہے کہ آرمینیا کے ساتھ ہماری حالیہ ملاقات' پراگ' میں ہوئی اور ہم نے انہیں باور کروا دیا ہے کہ اگر آپ کے تعلقات آذربائیجان کے ساتھ مثبت سِمت میں رہتے ہیں تو ہم بھی آرمینیا کے ساتھ تعلقات کو مثبت سمت میں رکھیں گے۔ ہم آپ سے اسی پالیسی کے منتظر ہیں"۔

امریکہ اور فرانس میں آرمینی ڈیاسپورا کے مخالف شکل میں جاری ہونے اور اس کے امن مرحلے پر منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ایردوان نے کہا ہے کہ "ہم دشمن بنانے کی نہیں دوست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آرمینی انتظامیہ لاچین اور زنگیزر کے بارے میں آذربائیجان کے لئے مثبت قدم اٹھاتی ہے تو یہ ہماری طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی مثبت اثرات مرتب کریں گے"۔



متعللقہ خبریں