مدد کی بات آئے تو مغربی دنیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے: ایردوان

ترک صدر کا شام کے حوالے سے کہنا تھا کہ مدد کی بات آئے تو زبانی جمع خرچ بہت ہوتا ہے لیکن عملی اقدام اٹھانےکی جب بات ہوئی تو سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے

444829
مدد کی بات آئے تو مغربی دنیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے: ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نےتجویز پیش کی ہے کہ شمالی شام میں ترکی کی سرحد سے قریب ایک محفوظ علاقہ قائم کیا جائے ۔

صدر ایرودان نےاس بات کا اظہار استنبول میں منعقدہ" سبز ہلالی زمرد ایوارڈز" کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔

صدرنےیورپی کونسل کے صدرڈونالڈ ٹسک سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ ترکی نے مغربی دنیا کے بر عکس اپنی سرحدیں شامی پناہ گزینوں کےلیے کھلی رکھی ہیں جس کےلیےیورپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ہماری اس ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹائے۔

انہوں نے کہا کہ شمالی شام کے علاقے میں 4500 کلومیٹر رقبے پر پھیلےایک شہر کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے کہ جہاں متاثرہ علاقوں سے آنے والےاور ترکی میں بسےشامی پناہ گزینوں کی آباد کاری ممکن بنائی جا سکے ۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ اُن کی اس تجویزپر یورپی یونین حتی امریکی حکومت نے گرم جوشی کا مظاہرہ ضرور کیا ہے لیکن عملی اقدام اٹھانےکی جب بات ہوئی تو سب کو سانپ سونگھ گیا ۔

جناب ایردوان نے بتایا کہ انسانی امداد کے معاملے میں اس وقت ترکی کا شمار دنیا کے تین اہم ممالک میں ہوتا ہے ہم نےپانچ سالوں کے دوران شامی مہاجرین کی آباد کاری کےلیے10 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں کہ جس میں سماجی و فلاحی تنظیموں اور بلدیات کی امداد شامل نہیں ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ہماری یہ روایت ہے کہ"دینے والا ہاتھمانگنےوالے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے"،اور ہم اسی پر عمل پیرا ہیں جس کے جواب میں مغربی دنیا نے ہمیں تین بلین یورو دینے کا جو وعدہ چار ماہ پہلے کیا تھا وہ آج تک پورا نہیں ہوا۔



متعللقہ خبریں