یونان نے ترک اقلیت کے 12 اسکولوں کو بہانہ بازی کے ساتھ بند کر دیا

قانونی ترامیم  کے ذریعے کیے گئے اس فیصلے کے ذریعے  ترک باشندوں سے تفریق بازی کی گئی ہے، ترک دفترِ خارجہ

1684265
یونان نے ترک اقلیت  کے 12 اسکولوں کو بہانہ بازی کے ساتھ بند کر دیا

ترکی نے یونان کی طرف سے، کفایت شعاری کے اقدامات اور طلباء کی ناکافی تعداد کو بہانہ بنا کر مغربی تھریس ترک اقلیت سے تعلق رکھنے والے 12 پرائمری اسکولوں کو بند کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

دفترِ خارجہ نے اس حوالے سے اپنے بیان  میں کہا ہے کہ’’مذکورہ فیصلے سے آدھے سے زیادہ اقلیتی پرائمری سکول بند ہو گئے اور ان کی تعداد 103 رہ گئی ہے ۔ یونان کی مغربی تھریس ترک اقلیت سے تعلق رکھنے والے پرائمری اسکولوں کو عارضی طور پر معطلی کے ذریعے بند کرنے کی پالیسی ایک منظم ثابت ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ  قانونی ترامیم  کے ذریعے کیے گئے اس فیصلے کے ذریعے  ترک باشندوں سے تفریق بازی کی گئی ہے۔

مذکورہ بالا فیصلے لوزان امن معاہدے (24 جولائی 1923) کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو تعلیم کے میدان میں مغربی تھریس میں ہمارے رشتہ داروں کے خلاف کئی دہائیوں سے کیے جانے والے انضمام اور جبر کی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ جبکہ یونان طلباء کی کمی کے بہانے پرائمری سکول بند کرتا ہے، وہ ضرورت کے باوجود نیا اقلیتی سیکنڈری سکول/ہائی سکول کھولنے کے مطالبات کو نظر انداز کرتا ہے اور مختلف بہانوں پر اقلیتی بچوں کے تعلیمی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

یونان سے اقلیتی اسکولوں سے متعلق تفریق بازی کی حامل پالیسیوں کو ختم کرنے کی اپیل کرنے والے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ عالمی برادری کو اب یورپی یونین اور یورپ کی کونسل کے رکن ملک میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزی کا تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ ترکی دو طرفہ رابطوں اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اقلیتوں کے حقوق اور قانون کے لیے جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔‘‘



متعللقہ خبریں